Wed, September 16, 2026

لاہور اور پنجاب میں فضائی آلودگی کی شدت: صحت کے لیے سنگین خطرہ

لاہور اور پنجاب میں فضائی آلودگی کی شدت: صحت کے لیے سنگین خطرہ

لاہور : لاہور اور پنجاب کے مختلف شہروں میں آج بھی فضائی آلودگی کی سطح انتہائی خطرناک حد تک پہنچ چکی ہے، جس سے شہریوں کی صحت پر شدید اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ عالمی ماحولیاتی ویب سائٹ کے مطابق، گوجرانوالہ میں ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) 517 کے ساتھ سب سے زیادہ آلودگی ریکارڈ کی گئی ہے۔ لاہور پاکستان کے ان شہروں میں تیسرے نمبر پر ہے، جہاں سموگ کی اوسط شرح 394 تک پہنچ چکی ہے۔

لاہور کے مختلف علاقوں میں فضائی آلودگی کی صورتحال خاصی تشویشناک ہے۔ ڈی ایچ اے میں AQI 759، برکی روڈ پر 661 اور ایف سی کالج کے اطراف میں 611 تک ریکارڈ ہوا ہے، جو صحت کے لیے انتہائی خطرناک سمجھے جاتے ہیں۔

ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی آلودگی شہریوں کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکی ہے۔ ان کا مشورہ ہے کہ شہری غیر ضروری سفر سے گریز کریں، ماسک کا استعمال کریں اور خاص طور پر صبح کے اوقات میں کھلی فضا میں باہر جانے سے اجتناب کریں تاکہ آلودگی سے بچا جا سکے۔

فضائی آلودگی کی شدت بچوں، بزرگوں اور سانس کے مسائل میں مبتلا افراد کے لیے زیادہ نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے، اور اس کا فوری حل ضروری ہے تاکہ شہریوں کی صحت کو بچایا جا سکے۔

ٹیگز: