تہران : ایران کے دوسرے بڑے شہر مشہد میں پانی کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہو گئی ہے، جہاں کے ڈیموں میں پانی کا ذخیرہ 3 فیصد سے بھی نیچے آ چکا ہے۔ مشہد شہر کی پانی فراہم کرنے والی کمپنی کے چیف ایگزیکٹیو کے مطابق، پانی کا انتظام اب ایک سنگین ضرورت بن چکا ہے۔
اس بحران کی شدت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے حالیہ دنوں میں خبردار کیا تھا کہ اگر بارش نہ ہوئی تو اگلے ماہ تہران میں پانی کی فراہمی محدود کرنی پڑے گی۔ اُن کا کہنا تھا کہ اگر خشک سالی کا یہ سلسلہ جاری رہا تو ممکنہ طور پر بڑے شہروں کو پانی سے محروم ہونا پڑے گا اور شہریوں کو نقل مکانی کرنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔
ایرانی صدر نے پانی اور توانائی کے وسائل کے بہتر انتظام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے موجودہ صورتحال کو "انتہائی تشویشناک" قرار دیا ہے۔
یہ بحران ایران میں جاری خشک سالی اور موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے مزید سنگین ہو رہا ہے، جس کے اثرات صرف پانی کی فراہمی تک محدود نہیں ہیں بلکہ زرعی شعبے اور توانائی کے وسائل پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ایران کی بڑھتی ہوئی آبادی اور بڑھتی ہوئی صنعتی ضروریات نے پانی کی طلب کو مزید بڑھا دیا ہے، جس کے نتیجے میں ملک میں پانی کی کمی شدت اختیار کر رہی ہے۔
اگر فوری طور پر اقدامات نہ کیے گئے تو ایران کو نہ صرف پانی کی فراہمی کے بحران کا سامنا کرنا پڑے گا بلکہ اس کے معاشی اور سماجی اثرات بھی سنگین ہو سکتے ہیں۔
ایران کو اس بحران سے نمٹنے کے لیے نہ صرف فوری اقدامات کی ضرورت ہے بلکہ طویل مدتی حکمت عملی بھی درکار ہے تاکہ موسمیاتی تبدیلیوں اور بڑھتی ہوئی آبادی کے اثرات سے بچا جا سکے۔