ایران کی طاقتور ترین آئینی باڈی’’مجلس خبرگان‘‘ کی جانب سے مجتبیٰ خامنہ ای کا بطور سپریم لیڈر انتخاب محض ایک سیاسی تقرری نہیں، بلکہ مغربی طاقتوں بالخصوص امریکہ اور اسرائیل کی دہائیوں پر محیط اس پالیسی کی ناکامی ہے جس کا مقصد ایران میں نظام کی تبدیلی (Regime Change) یا قیادت کے بحران کے ذریعے ملک کو کمزور کرنا تھا۔ یہ انتخاب ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب خطہ شدید جنگی تناؤ کا شکار ہے اور اس فیصلے نے تہران کے دشمنوں کو یہ واضح پیغام دیا ہے کہ ایران کا سیاسی اور دفاعی ڈھانچہ کسی بھی بیرونی دباؤ کے سامنے ٹوٹنے والا نہیں ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کی خارجہ پالیسی کا ایک بڑا محور ہمیشہ سے یہ رہا ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کے بعد ایران میں ایک ایسا خلا پیدا کیا جائے جس سے ملک داخلی خانہ جنگی یا سیاسی عدم استحکام کا شکار ہو جائے۔ اسرائیلی انٹیلی جنس اور امریکی تھنک ٹینکس برسوں سے اس تاک میں تھے کہ قیادت کی تبدیلی کے مرحلے پر ایران کے مختلف طاقتور حلقوں، جیسے پاسداران انقلاب (IRGC) اور علمائے کرام کے درمیان پھوٹ ڈالی جا سکے۔ تاہم، مجلس خبرگان کا’’متفقہ‘‘ فیصلہ ان تمام امیدوں پر پانی پھیرنے کے مترادف ہے، کیونکہ اس نے قیادت کے تسلسل کو بغیر کسی رکاوٹ کے برقرار رکھا ہے۔
مجتبیٰ خامنہ ای کا انتخاب امریکہ اور اسرائیل کے لیے اس لیے بھی زیادہ پریشان کن ہے کیونکہ انہیں ایک’’سخت گیر‘‘ اور’’سائے کی طرح کام کرنے والا طاقتور کھلاڑی‘‘ تصور کیا جاتا ہے۔ وہ برسوں سے ایران کے سکیورٹی ڈھانچے اور انٹیلی جنس نیٹ ورک کے قریب رہے ہیں۔ ان کی قیادت کا مطلب یہ ہے کہ ایران کی ’’محورمزاحمت‘‘کی پالیسی، جس میں حزب اللہ، حماس اور حوثی شامل ہیں، نہ صرف برقرار رہے گی بلکہ مزید جارحانہ رخ اختیار کر سکتی ہے۔ اسرائیل کے لیے یہ ایک تزویراتی ڈراؤنا خواب ہے کہ اسے اب ایک ایسی قیادت کا سامنا ہے جو عسکری اور انٹیلی جنس معاملات کی گہری سمجھ رکھتی ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا یہ بیان کہ ’’رہبر کا انتخاب ایران کا اندرونی معاملہ ہے اور کسی بھی مداخلت کو برداشت نہیں کیا جائے گا‘‘، دراصل عالمی طاقتوں کو ان کی حدود بتانے کی کوشش ہے۔ امریکہ کی یہ کوشش رہی ہے کہ اقتصادی پابندیوں کے ذریعے ایرانی عوام کو ریاست کے خلاف کھڑا کیا جائے، لیکن بحرانی صورتحال میں قیادت کا فوری اور ہموار انتخاب یہ ثابت کرتا ہے کہ ایران کا’’ولایت فقیہ‘‘ کا نظام آج بھی مضبوطی سے قائم ہے۔ یہ استحکام بذات خود امریکہ کی’’میکسمم پریشر‘‘ پالیسی کی سب سے بڑی شکست ہے۔
مجتبیٰ خامنہ ای کا انتخاب یہ ظاہر کرتا ہے کہ ایران نے اپنی بقا اور دفاع کے لیے مصلحت پسندی کے بجائے ’’مزاحمت‘‘ کا راستہ چنا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل، جو ایران میں قیادت کے کسی بڑے بحران یا عوامی بغاوت کی آس لگائے بیٹھے تھے، اب ایک ایسی قیادت کے سامنے کھڑے ہیں جو پہلے سے زیادہ متحد اور پرعزم نظر آتی ہے۔ یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ خطے کی سیاست میں تہران اب بھی ایک ایسی قوت ہے جسے دیوار سے لگانا ناممکن ہے۔