اکمل شہزاد گھمن پنجابی زبان کے ایک ایسے کہانی کار ہیں جنہوں نے اپنی کہانیوں میں دیہات کی مٹی کی خوشبو، لوگوں کی سادہ زندگی اور ان کے جذبات و احساسات کو خوبصورت انداز میں پیش کیا ہے۔ 2002 میں ان کی پنجابی کہانیوں کی پہلی کتاب ”ایہہ کہانی نئیں“ چھپی۔ جسے علمی و ادبی حلقوں میں بے حد پذیرائی ملی اور ڈاکٹر طارق عزیز، منشا یاد اور اشفاق احمد جیسے معتبر اور سکہ بند کہانی لکھنے والوں نے خوب سرِاہا۔ نامعلوم اس کے بعد اکمل شہزادگھمن پنجابی کہانی کار کے طور پر ادبی منظر نامے سے ایک لمبے عرصے کے لیے کیوں غائب ہو گیا۔ 2015 میں اس نے اردو صحافت کے نمایاں کرداروں اور نامور صحافیوں کے دوہرے کردار، قلابازیوں اور مالی و اخلاقی بدیانتی کو بے نقاب کرتی کتاب ”میڈیا منڈی“ لکھی جس نے صحافتی حلقوں میں ایک تہلکہ مچا دیا۔ اس کتاب نے بطور ایک دبنگ اور تحقیقی صحافی کے اکمل شہزاد گھمن کو ایک نئی شناخت دی۔ البتہ وہ لوگ جو اکمل شہزاد گھمن کو صرف ایک پنجابی کہانی کار کے طور پر جانتے تھے ان کے لیے گھمن کا یہ روپ بالکل نیا تھا۔ مگر اس سے پہلے کہ ”میڈیا منڈی“ کی مقبولیت کے بعد اس کے قارئین بطور کہانی کار اس کی شناخت کو بھول جاتے اس نے بائیس تئیس برس بعد اپنی خوبصورت پنجابی کہانیوں کا مجموعہ ”پَنجرے وچ آہلنا“ دے کر اپنے قارئین کو پھر سے حیران کر دیا۔ جسے پڑھنے کے بعد اب وہ قارئین جو گھمن کو بطور صحافی اور کہانی کار دونوں حوالوں سے جانتے اور مانتے ہیں اُن کےلئے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو گیا ہے کہ اکمل شہزاد گھمن صحافی زیادہ اچھا ہے یا کہانی کار۔ اگر میں یہ کہوں کہ ان کی نئی کتاب ”پنجرے وچ آ ہلنا“ پنجابی کہانیوں کے دلدادہ قارئین کےلئے ایک اور شاہکار تحفہ ہے تو یہ بے جا نہ ہو گا۔ اتفاق کی بات ہے کہ جب مجھے گھمن کی کہانیوں کی یہ کتاب ملی میں اس سے پہلے افسانوں کے ایک انتخاب میں دیہاتی پس منظر میں لکھے احمد ندیم قاسمی اور بلونت سنگھ کے ”گنڈاسہ“ اور ”جگا ڈاکو“ جیسے شاہکار افسانے پڑھ رہا تھا۔ ایمان داری کی بات ہے ان دونوں بڑے افسانہ نگاروں کو پڑھنے کے بعد گھمن کی ”کاہل وچ لکھی ہوئی کہانی“ مسلمان، کمذات، میاں جی اور ”او ۔۔۔ ہوڑیاں“ جیسی دیہاتی زندگی کے رنگوں میں رنگی کہانیاں پڑھتے ہوئے مجھے ایک بار بھی یہ احساس نہیں ہوا کہ میں ان بڑے افسانہ نگاروں کے بہت بعد کے کسی نئے کہانی کار کو پڑھ رہا ہوں۔ اس لیے کہ گھمن نے اپنی کہانیوں میں دیہات کے رہن سہن کو جس انداز میں بیان کیا ہے صاف دکھائی دیتا ہے کہ یہ سب کچھ اس نے اکثر کہانی کاروں کی طرح قصے کہانیوں یا کتابوں سے نقل نہیں کیا بلکہ اس کے براہ راست مشاہدے اور تجربے کا حصہ ہے۔ چونکہ اس کا اپنا تعلق دیہاتی وسیب سے ہے اس لیے اس کی کہانیوں میں نہ صرف دیہات کی خالص تہذیب و تمدن کی جھلک ملتی ہے بلکہ وہاں کے لوگوں کی نفسیات، ان کے دکھ سکھ، امیدیں اور خواب بھی بڑی مہارت سے بیان کیے گئے ہیں۔ اکمل شہزاد گھمن کی کہانیوں کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ سچی سُچی اور خالص ہونے کی وجہ سے اپنے قاری کو کہانی کے کرداروں کے ساتھ جذباتی طور پر جوڑ دیتی ہیں۔ ان کے کرداروں کی بول چال، ان کے رویے اور ان کے جذبات اتنی حقیقت پسندی سے پیش کیے گئے ہیں کہ قاری خود کو ان کرداروں کے ساتھ کھڑا محسوس کرتا ہے۔ ان کہانیوں کے کردار عام لوگ ہیں لیکن اکمل کا کمال یہ ہے کہ وہ انہیں اپنے فن کے ذریعے خاص بنا دیتا ہے۔ جس کے نتیجے میں کہانیوں کے یہ کردار نہ صرف حقیقی بلکہ جیتے جاگتے محسوس ہوتے ہیں۔ اس کی کہانیوں میں دیہات کے کسان، مزدور، خواتین، بچے، بوڑھے سبھی اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ موجود ہیں۔ ان کے کرداروں میں ایک عام انسان کی تمام تر کمزوریاں، خواہشات اور جذبات موجود ہیں۔ گھمن نے اپنی کہانیوں میں پنجابی زبان کا بہترین استعمال کیا ہے۔ ان کی زبان سادہ رواں اور پُراثر ہے جو قاری کو کہانی کے ساتھ جڑے رکھتی ہے۔ اس کی کہانیوں میں ایک ایسی طلسماتی کشش ہے جو قاری کو اس طرح اپنی گرفت میں لے لیتی ہے کہ قاری کہانی پڑھتے ہوئے کہانی اور اس کے کرداروں کے ساتھ بہتا ہی چلا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر کتاب میں شامل ایک مختصر کہانی ”کاہل وچ لکھی ہوئی کہانی“ میں جس طرح اس نے دیہات کی زندگی کا نقشہ کھینچا ہے اور اس میں اس کہانی کے مرکزی کردار ”بیبا“ کے سراپے اور ”شمے گاڈی“ کی جی داری کے ساتھ ”بیبا“ کے یکطرفہ عشق میں گرفتار ایک کمزور اور بزدل عاشق ”میں“ کا حال اور انجام بیان کیا ہے۔ یہ سب کچھ کسی الف لیلوی داستان کی طرح اتنا دلچسپ اور جادوئی سا لگتا ہے کہ جی چاہتا یہ کہانی کسی اچھے بُرے انجام کے بغیر تادیر یونہی چلتی رہے۔ یوں تو اس مجموعے کی تقریباً سبھی کہانیاں ہی پڑھنے سے تعلق رکھتی ہیں مگر ”کمذات، مسلمان، میاں جی، غیرت، کوڈیاں والا“ خاصے کی کہانیاں ہیں۔ خاص طور پر ”مسلمان“ تو ایک شاہکار کہانی ہے۔ گھمن نے اس کہانی میں مذہبی تعصبات اور سماجی تفریق کو بڑی خوبصورتی اور دلیری سے بیان کیا ہے۔ یہ کہانی نہ صرف پنجابی معاشرے بلکہ پوری دنیا میں مذہب کے نام پر ہونے والی تفریق پر ایک گہرا طنز ہے۔ اکمل شہزاد گھمن کی یہ کتاب صرف پنجابی کہانیوں کا مجموعہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک گہرا سماجی بیانیہ بھی ہے۔ ”پنجرے وچ آہلنا“ کا عنوان ہی اس کتاب کے مرکزی خیال کو واضح کرتا ہے۔ پنجرا ایک علامت ہے جو شہری زندگی کی مصروفیت، بے چینی اور تنہائی کو ظاہر کرتا ہے جسے اکمل نے بڑی مہارت سے علامتی انداز میں پیش کیا ہے۔ خاص طور پر ان لوگوں کے جذبات و احساسات کو جو روزگار کی تلاش میں دور دراز دیہات سے شہروں کا رخ کرتے ہیں اور پھر وہاں اپنی جنم بھومی سے دور ایک پنجرے میں قید پرندے کی طرح سسک سسک کر زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ یہ پنجابی کہانیوں کا ایک ایسا مجموعہ ہے جو نہ صرف فنِ کہانی گوئی کے اعلیٰ معیار پر پورا اترتا ہے بلکہ سماجی، نفسیاتی اور سیاسی مسائل کو بھی گہرائی سے چھوتا ہے۔ اکمل شہزاد گھمن کی کہانیوں کی زبان سادہ اور رواں ہے۔ اس کتاب میں اس نے پنجابی زبان کے اصل مزے کو برقرار رکھتے ہوئے اپنی کہانیوں کو ایک نئی جہت دی ہے۔ ان کے الفاظ قاری کے دل کو چھو جاتے ہیں اور ان کہانیوں میں استعمال ہونے والی پنجابی زبان کی خوبصورتی اور اس کی شیرینی قاری کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔ میری رائے میں ”پنجرے وچ آہلنا“ پنجابی ادب کےلئے ایک بیش قیمت اضافہ ہے۔ یہ کتاب نہ صرف پنجابی زبان و ادب کے طلبا کےلئے بلکہ ہر اس شخص کے لیے ضروری ہے جو سماجی اور سیاسی مسائل کو سمجھنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔