Wed, September 16, 2026

بلوچستان میں دہشتگردی! بھارت براہ راست ملوث

بلوچستان میں دہشتگردی! بھارت براہ راست ملوث

بھارت ہمیشہ سے بلوچستان میں علیحدگی پسند، عسکریت پسند تنظیموں کو مالی اور اسلحہ کی مدد فراہم کرتا رہا ہے۔ کلبھوشن یادیوکی گرفتاری اور اس کے اعتراف اس بات کا ثبوت ہیںکہ بھارت بلوچستان میں دہشت گردی کے ذریعے پاکستان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے۔ بھارت کی عالمی دہشت گردی صرف بلوچستان، پاکستان تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ وہ پورے خطے کو نشانہ بنا رہا ہے۔ عالمی شواہد اور اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ بھارت عالمی سطح پر دہشت گردی کا پورا نیٹ چلا رہا ہے۔ ایک طرف وہ مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی کا مرتکب ہو رہا ہے تو دوسری طرف اس نے خود اپنے ملک کے اندر اقلیتوں کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بھوٹان، سری لنکا، چین اور پاکستان میں بھارتی دراندازی خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ عالمی سطح پر بھارتی دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ، ماورائے عدالت قتل اور دوست ممالک کے ساتھ دھوکہ دہی کے بے شمار واقعات عالمی میڈیا کی زینت بن چکے ہیں۔ قطر کے ساتھ دیرینہ تجارتی تعلقات رکھنے والا بھارت اپنے دوست ملک قطر کے عسکری راز چرا کر اسرائیل کو دے رہا تھا جس کی اطلاع ملنے پر 30 اگست 2022 کو قطری سکیورٹی اداروں نے لاجسٹک سپلائی کمپنی میں انڈر کور کام کرنے والے آٹھ بھارتی نیول آفیسرز کو گرفتار کیا اور پھر جرم ثابت ہونے پر انہیں سزائے موت دی گئی۔ یاد رہے کہ یہ وہی قطر ہے جہاں ہزاروں بھارتی خاندان رہائش پذیر اور برسرروزگار ہیں۔ کینیڈا جیسے ملٹی نیشنل ملک میں گھس کر سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجر کا قتل بھی بھارتی ریاستی دہشت گردی کی ایک حالیہ مثال ہے۔ حماس اسرائیل جنگ میں انسان دشمنی، اسلام دشمنی اور پاکستان دشمنی کی بنیاد پر اسرائیل کا ساتھ دینے اور مظلوم فلسطینیوں پر وحشیانہ بمباری پر خوشی کا اظہار کرنے پر بھارت پوری دنیا کی باشعور اور انسان دوست معاشروں کا اعتماد کھو چکا ہے۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے پاکستان میں دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کے حوالے سے بھارت کا گھناﺅنا کردار بے نقاب کیا تھا۔ واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق بھارت پاکستان میں دہشت گرد کارروائیوں کے ذریعے ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ہے۔ بھارتی ایجنسی ”را“ نے اجرتی قاتلوں اور افغان ہتھیاروں کے ذریعے پاکستان میں کم ازکم چھ افراد کی ٹارگٹ کلنگ کی۔ رپورٹ کے مطابق اپریل 2024 میں دو نقاب پوشوں نے لاہور میں عامر تانبا نامی شخص کو گولیوں کا نشانہ بنایا اور فرار ہو گئے۔ یہ واقعہ بھی بھارتی خفیہ قتل مہم کا تسلسل ہے۔ بھارتی ایجنسی ”را“ نے پاکستان میں کئی افراد کو نشانہ بنایا، شواہد سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پاکستانی افراد کے قتل میں بھارت براہ راست ملوث ہے۔ امریکی اخبار کے مطابق 2014ءمیں بھارتی قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول نے کہا تھا کہ پاکستان پر حملہ کرنا غیر حقیقی ہے لیکن ہم اپنے مقاصد کے حصول کے لیے خفیہ ذرائع استعمال کر سکتے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ 2021 کے بعد بھارت کی انٹیلی جنس ”را“ نے پاکستان میں متعدد افراد کو قتل کرنے کے لیے ایک خفیہ مہم چلائی جس میں کئی پاکستانی شہریوں کو نشانہ بنایا گیا۔ پاکستان کی سلامتی کو کسی بھی طریقے سے نقصان پہنچانے کا بھارتی ایجنڈا تو قیام پاکستان کے وقت ہی طے پا گیا تھا جس پر عمل کرنے میں بھارت کی کسی بھی حکومت نے کبھی کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اس ایجنڈے کے تحت ہی پاکستان پر تین باقاعدہ جنگیں مسلط کی گئیں۔ 1971 کی جنگ میں بھارتی پروردہ دہشت گرد اور عسکری تنظیم مکتی باہنی کی معاونت سے پاکستان کو دولخت کیا گیا جس کے بعد بھارت باقی ماندہ پاکستان کی سلامتی کے بھی درپے ہو گیا۔ اس نے آبی دہشت گردی کے ذریعے پاکستان کو کبھی سیلاب میں ڈبونے اور کبھی بھوکا پیاسا مارنے کی سازشیں کیں اور پھر باقاعدہ دہشت گردی کے ذریعے پاکستان کو ٹارگٹ کرنا شروع کر دیا گیا۔ بھارت نے کابل کی کٹھ پتلی کرزئی حکومت کی معاونت سے افغان سرزمین کو اپنے دہشت گردوں کی تربیت اور انہیں افغان سرحد سے پاکستان میں داخل کرنے کےلئے استعمال کرنے کا سلسلہ شروع کیا۔ یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے جس میں افغانستان کی موجودہ عبوری حکومت بھی اس کی شریک کار بن چکی ہے۔ اس کے نتیجے میں پاکستان میں دہشت گرد حملوں میں اضافہ ہوا ہے جبکہ پاکستانی خفیہ ادارے دہشت گردی کی ان وارداتوں میں بھارت اور افغان حکومت کے ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد اکٹھے کر کے اقوام متحدہ سیکرٹریٹ، امریکی دفتر خارجہ اور دوسرے عالمی اور علاقائی فورمز کو فراہم کر چکے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل بھارت کے فوجی سربراہ نے عاقبت نااندیش بیان دیتے ہوئے کہا ”پاکستان دہشت گردی کا مرکز ہے اور بھارت کے زیر قبضہ جموں کشمیر میں جو خون ریزی ہو رہی ہے وہ پاکستان کے ایما پر ہو رہی ہے“ بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے اس سے بھی چند قدم آگے بڑھ کر کہا ”پاکستان بھارت کو غیر مستحکم کرنے میں مستقل لگا ہوا ہے۔“ ان جاہلانہ، اشتعال انگیز اور حقیقت سے عاری بیانات کا آئی ایس پی آر اور وزارت خارجہ پاکستان نے دندان شکن جواب دیا۔ آئی ایس پی آر نے ان بے بنیاد الزامات کو سختی سے رد کرتے ہوئے بجا طور پر کہا ”پاکستان میں بھارت کی من گھڑت دہشت گردی کے انفراسٹرکچر کی موجودگی کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے بھارت کی فوجی قیادت کو خود فریبی میں مبتلا ہونے کے بجائے زمینی حقائق کو تسلیم کرنا چاہیے۔“ اس طرح کی من گھڑت کہانیاں بھارت کے سیاست دان اور فوجی قیادت کی گھٹی میں ماضی سے لے کر آج تک شامل رہی ہیں جس کے نتیجے انہیں ہمیشہ منہ کی کھانا پڑی ہے۔ صوبہ بلوچستان قیام پاکستان کے ساتھ ہی کئی طرح کی بیرونی سازشوں کا شکار ہو گیا۔ سانحہ مشرقی پاکستان کے بعد ازلی دشمن بھارت نے اس صوبے کو خاص طور پر نشانہ بنایا، پہلے آزاد بلوچستان کی چنگاری سلگائی پھر اس کو ہوا دی گئی۔
جب زمین کے سینے پر بارود کے زخم ثبت ہوں، جب فضائیں چیخوں کے نوحے گنگنا رہی ہوں، جب اذانوں کی صدائیں دھماکوں میں دب جائیں، جب چراغ کی لو دہشت کے سائے سے لرزاں ہو، جب امیدیں راکھ میں دب جائیں اور خواب خاک میں مل 

ٹیگز: