Wed, September 16, 2026

بجٹ: عوام کے لیے یا آئی ایم ایف کے لیے

بجٹ: عوام کے لیے یا آئی ایم ایف کے لیے


پاکستان میں بجٹ کبھی حقیقی معنوں میں عوامی دستاویز نہیں بن سکا۔ دنیا بھر میں بجٹ کو ایک معاشی، سماجی اور قومی ترجیحات کے آئین کی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں عوام، پارلیمنٹ، ماہرین معیشت، صنعتکار، کسان، مزدور اور مختلف پیشہ ورانہ تنظیمیں سال بھر بجٹ سازی کے عمل میں شریک رہتی ہیں۔ لوگ بجٹ کا انتظار اس امید کے ساتھ کرتے ہیں کہ ان کی زندگی آسان ہوگی، روزگار بڑھے گا، ٹیکس کم ہوں گے اور ریاست ان کی مشکلات میں کمی کرے گی۔ لیکن پاکستان میں بجٹ کا مطلب عوام پر نئے ٹیکس، مہنگائی، بجلی و گیس کی قیمتوں میں اضافہ اور آئی ایم ایف کی شرائط پر عمل درآمد بن چکا ہے۔
ہمارے ہاں بجٹ سازی کا پورا عمل غیر شفاف اور غیر جمہوری ہے۔ قومی اسمبلی، سینیٹ اور صوبائی اسمبلیوں کی قائمہ کمیٹیوں کو دنیا کے دیگر ممالک کی طرح کوئی مو¿ثر کردار حاصل نہیں۔ بھارت جیسے ملک میں بھی پارلیمانی کمیٹیاں سال بھر مختلف شعبوں سے تجاویز جمع کرتی ہیں اور بجٹ سازی میں عملی حصہ لیتی ہیں، مگر پاکستان میں پارلیمنٹ کا کردار محض ایک ”ڈیبیٹنگ سوسائٹی“تک محدود ہو چکا ہے، جہاں اراکین بجٹ پر تقاریر کر کے اپنی ذمہ داری پوری سمجھ لیتے ہیں، جبکہ ان کی کسی سنجیدہ تجویز کو عملی اہمیت نہیں دی جاتی۔
اصل حقیقت یہ ہے کہ بجٹ وزارت خزانہ سے زیادہ آئی ایم ایف کے دفاتر میں تیار ہوتا ہے۔ آئی ایم ایف کی شرائط کی ایک فہرست آتی ہے اور پھر انہی نکات کو پورا کرنے کے لیے بجٹ ترتیب دیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر سال بالواسطہ ٹیکسوں میں اضافہ کیا جاتا ہے۔ جنرل سیلز ٹیکس پہلے ہی اٹھارہ فیصد کی خطرناک سطح پر موجود ہے، مگر اب اسے مزید بڑھانے کی باتیں ہو رہی ہیں، حالانکہ دنیا کے کئی ممالک میں بنیادی اشیاءپر جی ایس ٹی یا وی اے ٹی انتہائی کم یا صفر ہوتا ہے۔ پاکستان میں غریب آدمی آٹا، چینی، گھی، بجلی، گیس اور دوائی خریدتے ہوئے بھی ٹیکس ادا کرتا ہے، جبکہ بڑے جاگیردار، طاقتور طبقات اور اشرافیہ اب بھی مراعات یافتہ ہیں۔
حکومتیں سال بھر معاشی ترقی، بڑھتے ہوئے زرِ مبادلہ کے ذخائر اور معاشی استحکام کے دعوے کرتی رہتی ہیں، لیکن بجٹ کے موقع پر خود اعتراف کرتی ہیں کہ عوام کو مزید قربانیاں دینا ہوں گی۔ سوال یہ ہے کہ اگر معیشت واقعی بہتر ہو رہی ہے تو پھر ہر سال نئے ٹیکس کیوں لگتے ہیں؟ اگر معاشی استحکام آ چکا ہے تو پھر بجلی، گیس اور پٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کیوں ہوتا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ معیشت کا سارا بوجھ عوام کے کندھوں پر ڈال دیا گیا ہے جبکہ حکمران طبقات کی شاہانہ زندگیوں میں کوئی نمایاں فرق نہیں آیا۔
بجلی اور توانائی کا بحران اس معاشی تباہی کی سب سے بڑی مثال ہے۔ صنعت، زراعت اور برآمدات کسی بھی ملک کی معیشت کی بنیاد ہوتے ہیں، مگر پاکستان میں بجلی اور گیس کی قیمتیں اس قدر بڑھ چکی ہیں کہ ہماری صنعت عالمی منڈی میں مقابلہ کرنے کے قابل نہیں رہی۔ جماعت اسلامی سمیت مختلف حلقے مسلسل توجہ دلا رہے ہیں کہ آئی پی پیز کے ظالمانہ معاہدے قومی معیشت کو کھا رہے ہیں۔ بند کارخانوں اور غیر فعال منصوبوں کو بھی کھربوں روپے کی ادائیگیاں جاری ہیں۔ اس کا بوجھ بجلی کے بلوں کے ذریعے عوام سے وصول کیا جاتا ہے۔ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ اسمبلیوں میں وہی سیاسی و کاروباری طبقات موجود ہوتے ہیں جو ایک دوسرے کی پردہ پوشی کرتے ہیں، اس لیے عوام آج تک یہ نہیں جان سکے کہ کن گروپوں نے بند کارخانوں کے نام پر کتنے ارب روپے وصول کیے اور ان کے سیاسی تعلقات کیا ہیں۔
حکومتی اخراجات میں کمی کے دعوے بھی محض نمائشی ثابت ہوئے ہیں۔ وزراء، بیوروکریسی، پروٹوکول، سرکاری گاڑیوں، غیر ضروری دوروں اور شاہانہ طرزِ حکمرانی میں کوئی حقیقی تبدیلی نہیں آئی۔ اخراجات میں کمی کی مثال یوں ہے جیسے کسی بھاری جہاز کا وزن کم کرنے کے لیے صرف ایک ایش ٹرے باہر پھینک دی جائے۔ اصل بوجھ جوں کا توں موجود رہتا ہے۔پاکستان کا مسئلہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ ترجیحات کا بحران ہے۔ جب تک بجٹ عوام کے بجائے آئی ایم ایف اور اشرافیہ کے مفادات کے لیے بنتا رہے گا، مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی بے چینی ختم نہیں ہو سکے گی۔
ضروری اصلاحات اور تجاویز
 پارلیمنٹ، سینیٹ اور صوبائی اسمبلیوں کی قائمہ کمیٹیوں کو بجٹ سازی میں حقیقی اختیار دیا جائے اور سال بھر ان کی سفارشات کو بجٹ کا حصہ بنایا جائے۔
 بجٹ سے قبل عوامی سماعتیں کی جائیں اور کسانوں، صنعتکاروں، تاجروں، مزدوروں، ماہرین معیشت چمبرز آف کامرس اور سول سوسائٹی کی تجاویز کو شامل کیا جائے۔
 بالواسطہ ٹیکسوں خصوصاً جی ایس ٹی میں نمایاں کمی کی جائے اور بنیادی ضروریاتِ زندگی پر ٹیکس ختم کیا جائے5 فیصد سے زیادہ جی ایس ٹی ناقابل قبول ہے۔
 پٹرولیم لیوی مکمل ختم کی جائے اور اب تک وصول کی گئی رقم کا حساب قوم کے سامنے رکھا جائے۔ آئندہ بجٹ میں اس بوجھ کو کم کر کے عوام کو سستا پٹرول فراہم کیا جائے۔
 آئی پی پیز کو کی گئی ادائیگیوں کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں۔ بتایا جائے کہ کن گروپوں نے کتنے بند کارخانوں پر کتنے ارب روپے وصول کیے اور ان کے سیاسی روابط کیا ہیں۔
 انتظامی اخراجات میں کم از کم تیس فیصد کمی کی جائے اور اس کے لیے واضح ٹائم فریم دیا جائے۔
وزراء، بیوروکریسی اور حکمران طبقات کے شاہانہ اخراجات، سرکاری گاڑیوں، پروٹوکول، غیر ضروری مراعات اور کنٹریکٹ ملازمتوں کے خاتمے کے لیے قانون سازی کی جائے اور اسے آئینی تحفظ دیا جائے۔اگر شاہانہ اخراجات اسی طرح جاری رہے تو بھوکی رعایا نیپال کی طرح ایوان مر مر پر یلغار کی طرف جا سکتی ہے۔
 اس اصلاحاتی عمل پر قومی سطح پر بحث کرائی جائے اور اخبارات، الیکٹرانک و سوشل میڈیا کے ذریعے عوام سے تجاویز لی جائیں تاکہ دو سے تین ماہ کے اندر قابل عمل اصلاحات نافذ کی جا سکیں۔
 بجلی اور گیس کے نرخ فوری کم کیے جائیں تاکہ صنعت، زراعت اور برآمدات کو سہارا مل سکے اور پاکستان عالمی منڈی میں مقابلہ کر سکے۔
 زراعت کو خصوصی اہمیت دی جائے۔ کھاد، بیج، زرعی ادویات، پیسٹی سائیڈز اور دیگر زرعی ان پٹس پر عائد درآمدی ڈیوٹیز اور ٹیکسوں میں نمایاں کمی یا مکمل چھوٹ دی جائے تاکہ کاشتکار کو سستی پیداوار میسر آ سکے۔
 تنخواہوں، پنشن اور اجرتوں میں اضافہ مہنگائی کی حقیقی شرح کے مطابق کیا جائے تاکہ عوام کی قوتِ خرید بحال ہو سکے یہ اضافہ 20 فیصد سے کم نہیں ہونا چاہیے۔
پاکستان کو ایسے بجٹ کی ضرورت ہے جو عوام کو ریلیف دے، صنعت و زراعت کو سہارا دے، حکمران طبقے کے بجائے عام آدمی کو مرکزیت دے اور ملک کو معاشی خودمختاری کی طرف لے جائے، نہ کہ مزید قرضوں اور غلامی کی طرف!

ٹیگز: