بلاول بھٹو زرداری کا حالیہ غیر ملکی انٹرویو قومی خودمختاری،ریاستی بیانئے اور اجتماعی عزتِ نفس پر ایک ایسا وار ہے جس کے مضمرات محض سیاسی نہیں بلکہ قومی سلامتی سے جڑے ہوئے ہیں۔یہ کہنا کہاگر بھارت اور پاکستان کے درمیان جامع مذاکرات ہوں تو پاکستان کسی خاص فرد کی حوالگی میں ہچکچاہٹ نہیں کرے گاخود اپنے ہی آئینی اور عدالتی نظام پر عدم اعتماد کا اظہار ہے۔۔۔ کیا پاکستانی شہریوں کے فیصلے اقوام متحدہ یا بھارتی حکومت کرے گی؟اور کیا یہ ممکن ہے کہ کسی ملک میں شواہد کے بغیر صرف الزام کی بنیاد پر کسی شہری کو دشمن ریاست کے حوالے کر دیا جائے؟اگر کل بھارت یہ مطالبہ کرے کہ فلاں صحافی،فلاں سیاست دان،فلاں عالم دین یا فلاں تنظیم کا رکن دہشت گرد ہے تو کیا بلاول زرداری پھر بھی ایسی ہی لچکدار رائے دیں گے؟؟؟ ۔۔۔۔ یہ وہی اندازِ فکر ہے جس نے جنرل مشرف کے دور میں پاکستان کو ایک بلیک میل ہونے والی ریاست بنا دیا تھا،جہاں ڈالرز کے بدلے شہری حوالہ کیے گئے،جنرل مشرف نے اپنی کتاب In the Line of Fire میں خود تسلیم کیا کہ انہوں نے سینکڑوں افراد کو امریکہ کے حوالے کیا اور ہر شخص کے بدلے ڈالرز وصول کیے۔۔۔اگر یہی طرزِ عمل آج بھی اپنایا جا رہا ہے تو سوال یہ ہے کہ پھر قانون،آئین اور عدالتوں کا کیا مصرف رہ جاتا ہے؟
مسعود اظہر کے بارے میں بلاول کا یہ کہنا کہ ہمیں یقین ہے کہ وہ افغانستان میں ہے اور ساتھ ہی یہ اضافہ کرنا کہ اگر بھارت ثبوت دے تو ہم کارروائی کریں گے ایک انتہائی غیر سنجیدہ،مبہم اور خطرناک تضاد کا اظہار ہے۔۔۔یہ کہنا کہ ہم نے اسے تلاش نہیں کیا اور پھر ساتھ ہی کارروائی کا عندیہ دینا،ایک ایسے سیاسی رہنما کے لیے نامناسب ہے جو ایک ایٹمی ریاست کی قیادت کا خواب رکھتا ہے۔۔۔مزید برآں،بلاول کا یہ بیان کہ بھارت ہر دہشت گردی کے واقعے کے بعد جنگی ماحول پیدا کرتا ہے اور یہ نارمل بن چکا ہے اپنے تئیں ایک حقیقت پسند تجزیہ ہو سکتا ہے مگر جب اسی فقرے کے اگلے سانس میں وہ بھارت سے مزیداعتماد سازی اورثبوت ملنے پر کارروائی کی امید باندھتے ہیں تو یہ صرف سادگی نہیں بلکہ سیاسی منافقت ہے۔۔۔جو ملک خود جنگی ماحول پیدا کر رہا ہو،جھوٹے الزامات لگا کر پاکستان کو عالمی تنہائی میں دھکیلنے کی کوشش کر رہا ہو،کیا اس سے اعتماد کی امید رکھنا سمجھداری ہے یا نادانی؟؟؟۔یہ تمام بیانات اصل میں ایک بڑے بیانئے کا حصہ ہیں،وہ بیانیہ جس میں دشمن کے پروپیگنڈے کواندر سے تقویت دی جاتی ہے تاکہ عالمی رائے عامہ کو یہ تاثر دیا جائے کہ خود پاکستانی قیادت بھی مانتی ہے کہ ہم دہشت گردوں کے پشت پناہ ہیں اور ہم سے سوال کرنا درست ہے۔۔۔یہی تو بھارت چاہتا ہے۔۔۔حافظ سعید اور مسعود اظہر وہ نام ہیں جو بھارتی ظلم کے خلاف مزاحمت کے استعارے بن چکے ہیں۔۔۔اگر ان کی حوالگی پر آمادگی ظاہر کر دی جائے تو کل کشمیر کی تحریک آزادی بھی دہشت گردی کہلائے گی اور جو بھی بھارت کے خلاف بولے گا،اسے خاص فردکہہ کر بھارت کے رحم و کرم پر چھوڑا جا سکے گا۔۔۔ بلاول جیسے نوجوان سیاستدان سے قوم کو امید تھی کہ وہ مغربی غلامی کے اس دائمی چکر سے نکل کر پاکستان کو خودداری کا راستہ دکھائیں گے مگر یہ انٹرویو واضح کرتا ہے کہ وہ بھی اسی سوچ کا تسلسل ہیں جو عالمی منظوری کی خاطر قومی مفادات کو داؤ پر لگانے سے نہیں چوکتی۔۔ ۔یہ لمحہِ فکریہ ہے۔۔۔ہمیں اس طرزِ سیاست کو مسترد کرنا ہو گا، واضح،دو ٹوک اور باوقار انداز میں۔۔۔پاکستان کو اپنے بیانئے، پنی عدالتوں اور اپنے اداروں پر مکمل اعتماد کرنا ہو گا۔۔۔جو بھی شخص پاکستان کا شہری ہے،وہ پاکستانی عدالت کے تحت آتا ہے اور اس کا فیصلہ صرف عدالت کرے گی،نہ کہ کوئی سیاسی جماعت،نہ کوئی بین الاقوامی دباؤ۔۔۔اپنی خودی پر یقین رکھنا ہو گا،ورنہ وہ وقت دور نہیں جب دشمن سرحد پار نہیں،دلوں اور دماغوں کے اندر سے وار کرے گا اور ہمیں خبر بھی نہ ہو گی۔یہ بات بھی ذہن نشین رہنی چاہئے کہ حافظ سعید اور مسعود اظہر صرف افراد نہیں بلکہ ایک نظریے کی علامت ہیں۔۔۔ان کی حوالگی کا مطالبہ دراصل اس نظریے کو ختم کرنے کی سازش ہے جو بھارت کی جارحیت کے خلاف مزاحمت کی علامت رہا ہے۔۔۔جب آپ ایسے افراد کو دشمن کے حوالے کرنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں تو آپ دراصل اپنے بیانئے سے دستبردار ہو رہے ہوتے ہیں۔۔۔اگر یہی روش جاری رہی تو وہ دن دور نہیں جب ہم اپنے دفاعی اداروں،اپنے علما اور اپنے نظریاتی کارکنوں کو بھی عالمی مطالبے کے تحت قربان کرنے لگیں گے۔یہ وقت ہے کہ عوام،ذرائع ابلاغ اور مقتدر حلقے ان بیانات کا سنجیدہ نوٹس لیں اور قومی بیانئے کو کمزور کرنے والوں کا محاسبہ کریں ۔۔۔ سیاست دان ان آتے جاتے رہتے ہیں مگر ریاست کے نظریات اور اصول مستقل ہونے چاہئیں۔۔۔ اگر ہم نے ہر دباؤکے سامنے جھکنا شروع کر دیا تو ایک دن پاکستان صرف ایک جغرافیہ رہ جائے گا،نظریہ باقی نہ بچے گا۔۔۔پاکستان کو اب دو ٹوک مؤقف اپنانا ہو گا،نہ اپنے شہریوں کی بلاجواز حوالگی،نہ دشمن کے بیانئے کی تائید، نہ معذرت خواہانہ سفارتکاری اور نہ خاص افراد کے نام پر قومی غیرت کا سودا۔