وینزویلا کے صدر نکولس مارودو کے اغوا کے بعد امریکہ کے اگلے اقدام کے متعلق پوری دنیا میں چہ مگوئیاں ہو رہی ہیں اور پاکستان میں خاص طور پر ایران کو لے کر جو کچھ کہا جا رہا ہے اس میں کتنی حقیقت ہے اور کتنا افسانہ ہے اسی پر آج بات کریں گے لیکن پہلے چند باتیں ٹرمپ کے عزائم کے حوالے سے ۔ وینزویلا میں یہ سب کیوں ہوا اس لئے کہ وہاں کی فوج مضبوط نہیں تھی اور اس میں چند غدار تھے ۔ اب وہ کون لوگ ہیں کہ جو گذشتہ کئی سال سے پاکستان کی فوج میں بغاوت کی کوشش کر رہے ہیں لیکن خدائے بزرگ و برتر کا شکر ہے کہ اس میں انھیں کامیابی نہیںمل سکی ۔ 9مئی در حقیقت فوج میں بغاوت کی ایک کوشش تھی ۔ اسی طرح مئی 2025میں پاک بھارت جنگ کے دوران عین حالت جنگ میںکون لوگ تھے کہ جو ہندوستان کی زبان بول رہے تھے اور ہندوستان کا جو بیانیہ تھا اسے سوشل میڈیا پر وائرل کر رہے تھے لیکن اس وقت بھی انھیں منہ کی کھانا پڑی اور اب بھی یہ لوگ افواج پاکستان ہی نہیں بلکہ پاکستان کے عوام اور مملکت پاکستان کے مقابلہ میں دہشت گردوں کا ساتھ دے کر افواج پاکستان کو خدا نخواستہ ناکام کرنے کی سازش کر رہے ہیں لیکن ان کی یہ کوشش بھی ناکام ہو گی ۔ وینزویلا میں فوج میں غدار پیدا کر کے اس کے صدر کو گرفتار کرنا امریکہ کی کوئی پہلی واردات نہیں ہے بلکہ یہی کچھ لیبیا اور عراق میں بھی کیا لہٰذا جوعناصر افواج پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ہیں ان کے اس کردار کو قوم کبھی معاف نہیں کرے گی ۔
وینزویلا کے ساتھ جو کچھ کیا گیا اس کا سب سے افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ اس پر پوری دنیا اور خاص طور پر روس اور چین کی جانب سے بھی رسمی مذمتوں کے علاوہ کچھ نہیں کہا گیا جس کے بعد فطری سی بات ہے کہ ٹرمپ کا حوصلہ بڑھا اور اس نے کہا کہ وہ میکسکو اور کولمبیا پر بھی حملہ کرسکتا ہے جبکہ کیوبا چونکہ ایک سخت حریف ثابت ہو سکتا ہے تو کہا کہ وہاں پر حملے کی ضرورت نہیں بلکہ وہ رجیم خود ہی گر جائے گی ۔ اس کے علاوہ ٹرمپ بہادر گرین لینڈ پر بھی نظریں جمائے ہوئے ہیں جس پر ڈنمارک سمیت تمام یورپی ممالک کی جانب سے سخت رد عمل کا اظہار کیا گیا اور نیٹو کے سابق جنرل مشیل یا کولف نے کہا ہے کہ ایسی صورت میں یورپیز کو جنگ کے لئے تیار رہنا چاہئے لیکن ٹرمپ امریکہ کو دھکیل کر دور ملوکیت میں لے گیا ہے تو کیا یورپی یونین ٹرمپ کو اس کے عزائم سے باز رکھ سکے گی اور ایسی صورت میں کہ جب برطانیہ اس کے ساتھ ہے ۔ وینزویلا کے صدر پر تو منشیات کے کاروبار کا الزام تھا اور یہ بھی امریکہ کا وتیرہ رہا ہے کہ وہ اس طرح کی کارروائی سے پہلے ہمیشہ الزام تراشیاں کرتا ہے جیسا کہ عراق پر حملے سے پہلے نیوکلیئر ہتھیاروں کا الزام لیکن بعد میں اس پر معافی مانگنا پڑی تو حقیقت یہ ہے کہ یہ سب کچھ تیل اور منرلز کے لئے کیا جا رہا ہے ۔ وینزویلا دنیا میں سب سے زیادہ تیل کے ذخائر رکھنے والا ملک ہے جبکہ معدنیات علیحدہ ہیں اسی طرح گرین لینڈ جو دنیا کا سب سے بڑا جزیرہ ہے اور جو جرمنی سے چھ گنا بڑا ہے اس میں 38مختلف قسم کی معدنیات بڑی مقدار میں موجود ہیں جن میں کاپر ، گریفائٹ ،نیو بیئم ، ٹائی نیئم ، اور روڈیئم شامل ہیں جبکہ نایاب معدنیات میں نیوڈیمیئم اور پریسیوڈائمیئم جو الیکٹرک گاڑیوں کی موٹر اور ونڈ ٹربائن بنانے میں کام آتی ہیں وہ بھی وافر مقدار میں پائی جاتی ہیں اور ہر ملک پر چڑھائی کی اصل وجہ بھی یہی معدنیات ہیںاور یہ امریکہ کے لئے کتنا اہم ہے کہ امریکہ نے گرین لینڈ کے ہر باشندے کے لئے ایک لاکھ ڈالر کی پیشکش کر دی ہے ۔
اب بات کرتے ہیں ایران میں کیا ہو رہا ہے اور کیا ہونے جا رہا ہے تو سعودیہ اور امارات کے درمیان ابھی حالات معمول پر نہیں آئے بلکہ سوشل میڈیا پر تو اس حوالے سے بڑی خطرناک خبریں گردش کر رہی ہیں جس میں اس معاملہ میں اسرائیلی مداخلت کے امکان کو بھی ظاہر کیا گیا ہے ۔ ٹرمپ نے ایران کو بھی دھمکانا شروع کر دیا ہے لیکن ایران اس کے لئے تر نوالہ ثابت نہیں ہو گا ۔ اس وقت ایران میں صورت حال کیا ہے اس کے متعلق درست طور پر وہی بتا سکتا ہے کہ جو وہاں پر موجود ہے ورنہ میں نے دو متضاد سکول آف تھاٹ سے کئی بار بڑی تفصیل کے ساتھ گفتگو کی اور ایران میں موجود لوگوں سے بھی بات کی لیکن دونوں متضاد نقطہ نظر رکھنے والوں کی جانب سے حالات کی جوتصویر کشی کی گئی وہ اس حد تک مختلف ہے کہ دونوں پر مکمل اعتبار نہیں کیا جا سکتالیکن پاکستان میں کچھ لوگ بوجہ ایران کے خلاف امریکی پروپیگنڈا کا حصہ بنے ہوئے ہیں انھیں اس بات کا اندازہ نہیں کہ گریٹر اسرائیل میں سعودی عرب کے علاقے بھی شامل ہیں لہٰذا وہ لوگ جو خامنائی کو بشار الاسد کی طرز پر ماسکو فرار کرا رہے ہیں انھیں ہوش کے ناخن لینے چاہئیں اس طرح کا پروپیگنڈا صرف اس لئے کیا جاتا ہے کہ وہ منظر عام پر آئیں اور امریکہ ان کو نشانہ بنائے ۔ اسی حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ امریکہ کی خصوصی کمانڈو فورس یعنی ڈیلٹا فورس کو عراق میں لایا گیا ہے اور ساتھ میں عراق میں اور خلیجی سمندری حدود میں اپنی موجودگی کو بڑھا رہے ہیں لیکن اگر ایسا ہوتا ہے تو ایران کی جانب سے کہا گیا ہے کہ پھر وہ امریکہ اور اسرائیلی اہداف میں تمیز نہیں کرے گا تو ایران کا تو نقصان ہو گا لیکن اسرائیل اور خطے میں امریکی اہداف بھی محفوظ نہیں رہیں گے ۔