اس قدر سرد ہو گیا موسم
اب تو ہوتا نہیں لحاف بھی گرم
یہ شعر کئی سال پہلے کہا تھا۔ اس وقت بھی اتنی ہی شدید سردی پڑ رہی تھی جتنی کہ آج کل ہے۔ اس موسم میں گرم کپڑے پہننے کے باوجود بھی آدمی کو سردی لگتی رہتی ہے۔ موٹے جوتے اور اونی جرابیں پہننے کے باوجود پاو¿ں برف کی طرح ٹھنڈے رہتے ہیں۔ گھروں میں ہیٹروں کا استعمال بڑھ جاتا ہے۔ خشک میوہ جات، چائے، کافی، س±وپ اور ابلے گرم انڈوں کا استعمال بڑھ جاتا ہے۔ جی چاہتا ہے آدمی بستر ہی سے باہر ہی نہ نکلے۔
ایک طرف تو لوگ اس موسم کو وصل کا موسم کہتے ہیں کیونکہ اس دنوں میں شادی بیاہ بھی بہت زیادہ ہوتے ہیں اور کئی پیار کرنے والے دل زندگی بھر کے لیے ایک دوسرے کے ہو جاتے ہیں۔ دوسری طرف اسے فراق کا موسم بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اس موسم میں اموات بھی بہت زیادہ ہوتی ہیں بہت سے لوگوں کے پیارے ان سے ہمیشہ کے لیے جدا ہو جاتے ہیں۔ معمر افراد عام طور پر اس موسم کی سختی نہیں سہ پاتے۔ اس موسم میں روز کسی نہ کسی بزرگ کے انتقال کی خبر سننے کو ملتی ہے بلکہ بعض اوقات تو ایک ایک دن میں ایسی کئی دکھ دینے والی خبریں ملتی ہیں۔ بوڑھے تو بوڑھے جوان لوگ بھی اس موسم کا سامنا نہیں کر سکتے اور طرح طرح کی بیماریوں میں مبتلا رہتے ہیں۔ نزلہ، کھانسی، بخار اور نمونیا کی شکایات عام ہوتی ہیں۔ بچوں پر بھی اس موسم کا بہت شدید اثر ہوتا ہے۔
ماہرین طب اس موسم میں بہت زیادہ احتیاط پر زور دیتے ہیں لیکن دیکھا یہ گیا ہے کہ بہت سے لوگ ان کی ہدایات اور مشوروں کو پرِکاہ جتنی اہمیت بھی نہیں دیتے۔ خاص طور پر نوجوان نسل تو موسم کی سختی کی بالکل پروا نہیں کرتی۔ بہت سے نوجوان اس
موسم میں بھی ہلکے پھلکے لباس ہی پر اکتفا کرتے ہیں اور نتیجے کے طور پر بیمار ہو کر کئی کئی دن بستر پر گزارتے ہیں۔ زندگی بہت قیمتی چیز ہے یہ انسان کو صرف ایک ہی بار ملتی ہے اس لیے اس کا بہت خیال رکھنا چاہیے اور صحت بھی بہت بڑی نعمت ہے یہ اگر خراب ہو جائے تو اس کی بحالی پر بھی بہت سا وقت اور پیسہ صرف ہو جاتا ہے اس لیے سب کو اس کا بھی بہت خیال رکھنا چاہیے۔
کچھ لوگ تو اتنی سخت سردی میں بھی ہر روز نہا دھونا بھی ترک نہیں کرتے اور پوری طرح تیار ہو کر دفاتر میں جاتے ہیں۔ یہ اگرچہ اچھی عادت ہے لیکن بعض اوقات اس کا بھی نقصان ہوتا ہے۔ اس لیے سخت سردی میں اس معمول کو بھی چھوڑ دینا چاہیے اور کچھ دن کا وقفہ ڈال کر نہانا چاہیے۔ اس حوالے سے ایک قطعہ پیش خدمت ہے جو چند سال قبل لکھا تھا، عرض کیا ہے:
جب تک تو جواں خون کی گردش اورگوں میں
معمول بنا رہتا ہے روزانہ نہانا
ڈھل جاتی ہے جب عمر تو سردی کے دنوں میں
لگتا ہے کوئی ماضی کا افسانہ نہانا
وطن عزیز میں موٹر سائیکل استعمال کرنے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ لوگوں کی بڑی تعداد آمدورفت کے لیے موٹرسائیکل استعمال کرتی ہے۔ اگرچہ بہت سے لوگ گاڑیاں بھی استعمال کرتے ہیں اور پبلک ٹرانسپورٹ بھی لیکن موٹرسائیکلوں موسموں کی شدت کا سب سے زیادہ سامنا کرتے ہیں اور انھی کو سردی اور گرمی سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ موٹر سائیکلوں والے اتنی سخت سردی میں بھی موٹے کپڑوں کا استعمال بہت کم کرتے ہیں۔ لوگ کپڑوں کی صرف دو تہوں پر گزارا کرتے ہیں یعنی ایک تو شلوار قمیض یا پینٹ شرٹ اور پھر اس کے اوپر سے جرسی کوٹ یا جیکٹ پہننے کو کافی سمجھتے ہیں۔ کچھ لوگ تو صرف گرم چادر کی "ب±کل" مارنا ہی کافی سمجھتے ہیں۔ بعض لوگ دستانے تک نہیں پہنتے اور پھر موٹر سائیکل چلاتے ہوئے کبھی ایک اور کبھی دوسرا ہاتھ جیب میں ڈال کر گرم کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس سے یقینا ڈرائیونگ بھی متاثر ہوتی ہے اور حادثے کا خطرہ بھی موجود رہتا ہے۔ یہ تو بھلا ہو حکومت کا کہ اس نے ہیلمٹ پہننا لازمی قرار دے دیا ہے ورنہ جب تک یہ پابندی نہیں تھی بہت سے موٹر سائیکل سوار اتنی سردی میں سر پر بھی کوئی ہلکی پھلکی ٹوپی یا رومال باندھ کر ہی گزارا کرتے تھے۔
موٹرسائیکل سواروں سے گزارش ہے کہ وہ اتنی سردی میں گرم کپڑوں کی کم از کم تین تہیں ضرور پہنا کریں۔ صرف لباس کے اوپر سے کورٹ جیکٹ یا جرسی ہی نہیں بلکہ قمیض کے نیچے بھی ایک جرسی پہنا کریں اور اوپر جرسی یا سادہ کوٹ کی بجائے کوئی موٹی جیکٹ پہنا کریں اسی طرح شلوار یا پتلون کے نیچے سے بھی اون کا بنا ہوا کوئی پاجامہ وغیرہ ضرور پہنا کریں اور سر پر بھی اونی ٹوپی رکھا کریں۔ یہی مشورہ دوسرے لوگوں کے لیے بھی ہے جو گاڑیوں یا پبلک ٹرانسپورٹ کے ذریعے سفر کرتے ہیں کیونکہ انہوں نے بھی ہر وقت گاڑی یا بس میں تو نہیں رہنا ہوتا بلکہ اس سے باہر نکل کر بھی کہیں نہ کہیں تو جانا ہوتا ہے چاہے چند قدم ہی کے لیے سہی اور یہ موسم اتنا سخت ہے کہ اتنی سی دیر میں ہی اپنا کام دکھا دیتا ہے۔
گھروں کے اندر بھی سردی سے بچاو¿ کا خصوصی اہتمام کیا کریں تاکہ کوئی بزرگ یا چھوٹا بچہ بھی موسم کی سختی سے متاثر نہ ہو۔ یقین جانیے آپ بہت قیمتی ہیں۔ آپ کی زندگی سے بہت لوگوں کی زندگی اور آپ کی صحت سے آپ کے کنبے کی صحت جڑی ہے۔ جب آپ کو کچھ ہوتا ہے تو صرف آپ کی ذات متاثر نہیں ہوتی بلکہ وہ سب لوگ بھی متاثر ہوتے ہیں جن کی زندگیاں آپ کے ساتھ منسلک ہیں، اس لیے اپنا بہت خیال رکھیں۔