Wed, September 16, 2026

فیلڈ مارشل صاحب مفادات کا ٹکراؤ روکیں!

فیلڈ مارشل صاحب مفادات کا ٹکراؤ روکیں!

پاکستان کے سیاسی، معاشی اور سماجی انتشار کی جڑ اگر کسی ایک لفظ میں بیان کی جائے تو وہ ’’مفادات کا ٹکراؤ‘‘ ہے۔ یہ وہ زہر ہے جو ریاست کے ہر عضو میں سرایت کر چکا ہے۔ پالیسی سازی سے لے کر پبلک فنڈز کے استعمال تک، قانون سازی سے لے کر سرکاری ریگولیٹرز تک، ہر جگہ ذاتی مفاد نے قومی مفاد کو شکست دی ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ اس مسئلے کا آغاز کسی بیرونی سازش سے نہیں ہوا بلکہ ہمارے اپنے حکمران طبقات نے اقتدار کو کاروبار میں بدل کر ریاست کی بنیادیں ہلا دی ہیں۔ اس تناظر میں خلافتِ راشدہ کا وہ تاریخی واقعہ سامنے آتا ہے جب حضرت ابوبکر صدیقؓ منصب خلافت سنبھالنے کے اگلے دن تجارت کے لیے بازار کی طرف روانہ ہوئے۔ راستے میں حضرت عمرؓ ملے اور عرض کیا کہ آپ اب امت کے حکمران ہیں، تجارت آپ کے منصب کے مطابق نہیں۔ بیت المال سے آپ کے لیے وظیفہ مقرر کر دیا جائے تاکہ آپ کا کوئی فیصلہ ذاتی مفاد سے متاثر نہ ہو۔ یہ واقعہ دراصل اسلامی حکمرانی کی بنیاد ہے کہ اقتدار اور کاروبار ایک جگہ اکٹھے نہیں چلتے۔ لیکن پاکستان میں اس اصول کو مسلسل پامال کیا گیا ہے۔
یہاں پالیسی وہ بنتی ہے جس میں حکمران خاندانوں اور سیاسی گروہوں کا کاروباری مفاد وابستہ ہوتا ہے۔ چینی، گندم، ادویات، تعمیرات، توانائی اور امپورٹ ایکسپورٹ کی پالیسیاں وہی لوگ طے کرتے ہیں جن کے اپنے اثاثے انہی شعبوں میں ہوتے ہیں۔ عالمی بینک کی 2024 گورننس رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ’’ایلیٹ کیپچر‘‘ یعنی ’’طاقتور طبقات کی پالیسی سازی پر گرفت‘‘ جنوبی ایشیا میں سب سے زیادہ مضبوط ہے۔ IMF کی ٹیکس ایکسپینڈیچر رپورٹ کے مطابق سالانہ 3.2 سے 4 کھرب روپے صرف ٹیکس چھوٹ اور استثنیٰ کی شکل میں طاقتور طبقات کی جیب میں جاتے ہیں، جب کہ 60 فیصد سے زائد بالواسطہ ٹیکس غریب اور متوسط طبقہ ادا کرتا ہے۔ پاور سیکٹر کی 2023 کی رپورٹ بتاتی ہے کہ گردشی قرضوں کے 70 فیصد حصے کا تعلق ایسے پالیسی فیصلوں سے ہے جنہوں نے مخصوص سرمایہ دار گروہوں کے منافع کو تحفظ دیا ہے۔
اگرپاکستان کے گزشتہ چالیس برس پر نظر ڈالی جائے تو یہ تضادِ مفاد مزید واضح ہو جاتا ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ق)، جمعیت علمائے اسلام، ایم کیو ایم اور تحریک انصاف سمیت سب نے مختلف ادوار میں اپنے مفاد سے جڑی معاشی و تجارتی پالیسیوں کو تقویت دی۔ اقتدار میں آنے کے بعد ان جماعتوں کے بڑے رہنماؤں، ان کے خاندانوں اور وابستہ کاروباری طبقات کے اثاثوں میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے جبکہ دوسری طرف عام پاکستانی، چھوٹا کاروباری طبقہ، کسان، درمیانہ زمیندار اور تنخواہ دار سفید پوش طبقے کا معیارِ زندگی مسلسل گرا ہے۔ جہاں طاقتور ٹیکس چھوٹ، سبسڈی، امپورٹ پالیسیوں اور ریگولیٹری رعایتوں سے فائدہ اٹھاتے رہے، وہاں عام شہری مہنگائی، بے روزگاری، ناکام سرکاری نظام اور عدم تحفظ کا بوجھ اٹھاتا رہا ہے۔
یہی نہیں، پاکستان میں ریگولیٹرز کی خودمختاری تقریباً ختم ہو چکی ہے۔ نیپرا، اوگرا، سی سی پی،ڈریپ اور ایس ای سی پی جیسے اداروں میں ایسے افراد اہم عہدوں پر آتے رہے ہیں جن کی وابستگیاں کہیں نہ کہیں انہی کمپنیوں سے رہی ہیں جنہیں وہ ریگولیٹ کرنے کے پابند بنائے جاتے ہیں۔ پالیسی ساز(ٹیکنو کریٹ) اکثر ریٹائرمنٹ کے فوراً بعد انہی کارپوریٹ اداروں میں ملازمت اختیار کر لیتے ہیں جن کے حق میں وہ دورانِ ملازمت فیصلے کرتے رہے ہیں۔ یہ ’’ریوالونگ ڈور‘‘ ماڈل پاکستان میں کمزور ادارہ جاتی ڈھانچے کی سب سے بڑی علامت ہے۔ اسی لیے یہاں عام آدمی کا خون پسینہ نچوڑا جاتا ہے، مگر طاقتور طبقہ قانون اور احتساب کی گرفت سے ہمیشہ باہر رہتا ہے۔
یہ سارے تضادات صرف معاشی عدم مساوات نہیں بڑھاتے بلکہ ریاست کے سماجی و سیاسی نظام کی بنیادیں بھی کھوکھلی کرتے ہیں۔ جب ریاست مفادات کے ٹکراؤ کو کنٹرول کرنے میں ناکام ہو جائے، معاہدات اور پالیسیوں کے توازن کو برقرار نہ رکھ سکے اور عدلیہ بھی ایسی طرف جھکنے لگے جہاں انصاف کے بجائے طاقتور سرمایہ دار کے مفاد کا تحفظ ہو، تو پھر عوام کا سوال پوری طرح جائز ہو جاتا ہے کہ کیا آئین صرف طاقتور کی ڈھال ہے؟ اگر مزدور، کسان اور عام آدمی کے مفادات کو تحفظ دینے کے بجائے ریاستی اداروں کی توانائی طاقتور طبقات کو سہولت دینے میں صرف ہو جائے تو سماج میں بے چینی، بے اعتمادی اور انتہا درجے کی مایوسی جنم لیتی ہے۔
ایسے میں مفادات کو ریاست پر فوقیت دینا وقتی طور پر طاقتور طبقے کو فائدہ دے تو سکتا ہے، مگر اس کے دور رس نتائج ہمیشہ خوفناک ثابت ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس پورے مسئلے کو وسیع تر قومی مفاد، ریاستی سلامتی اور پائیدار ترقی کے تناظر میں دیکھنا ناگزیر ہو چکا ہے۔
اس پس منظر میں فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر صاحب کے نام ایک گزارش ناگزیر ہے۔ آج پاکستان میں سب سے بااثر، مضبوط اور فیصلہ سازی کی حیثیت اگر کسی کی ہے تو وہ انہی کے منصب کے پاس ہے۔ قوم جانتی ہے کہ وہ ریاست کی اصلاح، معاشی استحکام اور ادارہ جاتی مضبوطی کے دعوے دار بھی ہیں۔ لہٰذا اگر وہ چاہیں تو پاکستان میں مفادات کے اس ناسور کو ختم کرنے کی بنیاد رکھنے میں مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ملک میں ایک ایسا جدید، طاقتور اورہر سطح پر عملی طور پر ’’مفادات کا ٹکراؤ‘‘ روکنے کا قانون لایا جائے جو طاقتور اور کمزور کو ایک ہی میزان میں تولے۔ کیا یہ ممکن نہیں کہ آئین میں ایک ایسی ’’اٹھائیسویں ترمیم‘‘ شامل کی جائے جس کے تحت حکومتی عہدہ رکھنے والا کوئی شخص کاروبار نہ کر سکے، پالیسی ساز اپنے ذاتی مفاد ظاہر کرنے کے پابند ہوں، ریگولیٹرز مکمل طور پر خودمختار ہوں اور کمزور شہری طاقتور کے مفادات کے سامنے بے بس نہ رہے؟ اگر یہ ایک بنیادی، ’’صفر ایک‘‘ (دوٹوک اور واضح) کا فیصلہ ہو جائے تو پاکستان کی نصف بیماریاں خودبخود ختم ہو جائیں گی اور ریاست میں پہلی بار انصاف اور ترقی کے حقیقی عمل کا آغاز ہو سکے گا۔ مفادات کا ٹکراؤ سرمایہ داری نظریے اور سوچ کی پیداوار ہے۔ جبکہ سماجی مفادات کا توازن سیرت محمدیہ ﷺ کی روشنی میں نظام عدل و مساوات کے ذریعے لایا جا سکتا ہے۔ یہی وہ قدم ہے جو آنے والی نسلوں کے مستقبل کا رخ بدل سکتا ہے۔

ٹیگز: