اگست کا پہلا پورا ہفتہ شور شرابہ میں گزر گیا، اتنا شور اللہ کی پناہ، کان پڑی آوازسنائی نہیں دیتی تھی۔ جولائی میں کچھ نہیں ہوا تو مفاد پرستوں نے اگست میں کچھ بڑا کرنے کی ٹھانی، وفاقی وزیر داخلہ نے ایک بات کہی یاروں نے اچک لی، ایک بات سے اتنی باتیں بنیں کہ اسلام آباد والے ڈپریشن کا شکار ہو گئے۔ سب سے زیادہ پریشانی نئے صوبوں سے اقتدار اور سیاست کو لاحق خطرات محسوس کرنے والوں کو تھی، مخالفت کریں تو اقتدار سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے حمایت کی تو سیاست ختم علاقائی پارٹی کہلائیں گے۔ شہر اقتدار میں پُراسرار سرگرمیاں لیکن سارا شور میڈیا اور سوشل میڈیا تک محدود، خبریں، تبصرے، تجزیے، ویلاگرز غوطہ خور سمندر کی تہہ میں پلنے والے کسی سیاسی طوفان کی خبریں لانے لگے، کسی نے کہا حکومت ختم 3 ماہ کی مہلت، دوسرے تیسرے نے حکومت پر احسانِ عظیم فرما کر مہلت کی مدت 6 ماہ کر دی، پھر تبدیلی، پہلے نے دلی خواہش کو خبر کی شکل دی، ویلاگ پر سرخی جمائی سسٹم کو شوکاز نوٹس، چارج شیٹ، سائرن بج گئے۔ اب واپسی ناممکن، پارلیمان کی موت، خوش شکل اینکر نے قافیہ سے قافیہ ملایا صورتحال پیچیدہ، سنجیدہ اور رنجیدہ ہو گئی۔ نم دیدہ ہوتے ہوئے فرمایا ”ہرگزرتے دن کے ساتھ صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے“ ایک اندھے کو اندھیرے میں بڑی دور کی سوجھی کہ پی ٹی آئی سے رابطے کیے جا رہے ہیں رابطوں کی سختی سے تردید کی گئی، خواجہ آصف جلدی بھڑک اٹھتے ہیں کہنے لگے ”بداعتمادی کی فضا پیدا کی جا رہی ہے، ہمیں گھر چلے جانا چاہیے“۔ ایک دو چینلوں نے تو نئے صوبوں کے قیام پر ریفرنڈم بھی کرا دیا اور بتایا کہ 97 فیصد عوام نئے صوبوں کے حامی 3 فیصد مخالف ہیں، خواجہ آصف اور مشاہد حسین سید نے البتہ کہا کہ صوبے زبان و نسل کی بنیاد پر نہیں انتظامی بنیادوں پر بننے چاہئیں، آخر الذکر نے کہا کہ ملک کو نقصان پہنچے گا۔ ایسے میں پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے الٹی گنتی شروع ہو گئی کہہ کر آزاد کشمیر میں شکست کی بھڑاس نکالی، وزیراعظم شہباز شریف نے کسی ردعمل کا اظہار نہ کیا، جاتی امراء میں بڑے بھائی سے ملاقات کی، شکایت آمیز لہجہ میں سیاسی صورتحال سے آگاہ کیا گویا کہہ رہے ہوں ”جن سے توقع تھی ساتھ دینے کی۔ تلے ہیں مجھ پہ وہی انگلی اٹھانے کو“ نظام کی ناکامی کے ایک فقرے نے چین کی بانسری بجانے والوں کو بے چین کر دیا، بقول رضی اختر شوق ”دیوار کیا گری میرے کچے مکان کی، لوگوں نے میرے صحن میں راستے بنا لیے“ اتحادی حکومت مخمصے میں پڑ گئی، کابینہ کے ایک صاحب فکر وزیر نے کہا ”ایک نقطے نے ہمیں محرم سے مجرم کر دیا“ میاں نواز شریف نے بھائی کو سنا، بیٹی مریم نواز بھی موجود تھیں، شانت رہنے کی ہدایت کی۔ میاں صاحب لاہور سے اسلام آباد پہنچے اور طاقتور شخصیت سے ملاقات کی، مختصر ملاقات لیکن معاملات سلجھ گئے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے دو چینلنز کے رپورٹرز سے بات چیت کرتے ہوئے الجھی گتھی سلجھا دی، ایک سوال کے جواب میں کہا کہ یہ جو مرضی بیان بازی کریں موجودہ حکومت اور وزیراعظم شہباز شریف پانچ سال پورے کریں گے، میں نے حکومت کو چارج شیٹ نہیں کیا، کیوں کروں گا میں خود حکومت کا حصہ اور وزیراعظم کو جوابدہ ہوں، میں نے 80 سال سے نظام تباہ ہونے کی بات کی تھی۔ حیرت ہے بات کو بتنگڑ بنانے والے اینکر پرسنز اور اینکر چیئر پرسنز یعنی اینکر پرسنیاں غلط خبروں کو ہوا دینے پر شرمندہ نہیں ہوئیں بلکہ ایک خاتون نے اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ کہ یہ وقتی مفاہمت ہے۔ آئندہ دو تین ماہ بعد تبدیلیاں ہوں گی۔ کچھ عرصہ قبل جذباتی شوہرآف ائر ہوئے تھے اب موصوفہ بھی؟ نئے صوبوں کا مسئلہ نیا نہیں،کئی سال سے چل رہا ہے، آئین کے آرٹیکل 239 میں صوبوں کے قیام کی وضاحت کی گئی ہے اسی آرٹیکل کی کلاز 4 میں کہا گیا ہے کہ پارلیمنٹ قرارداد کی منظوری کے علاوہ صوبائی اسمبلیاں بھی دو تہائی اکثریت سے قراردادیں منظور کریں تو نئے صوبوں کا قیام عمل میں آسکتا ہے۔ پنجاب کی تقسیم پر مسلم لیگ ن اور پی پی میں کوئی اختلاف نہیں۔ جنوبی پنجاب اور ہزارہ صوبہ پر متفق، سندھ کے شہری اور دیہی علاقوں میں تقسیم کے مطالبہ پر مرسوں مرسوں کے نعرے، صدر مشرف دور میں بھی اس مسئلہ کو اٹھایا گیا تھا انہوں نے جنرل (ر) تنویر نقوی کی بنیادی جمہوریت کے فارمولے پر عمل درآمد کرتے ہوئے خود مختار اور مربوط نظام کو ترقی کا ضامن قرار دیا، صوبوں میں ترقی ہوئی۔ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل ہونے لگے لیکن صدر مشرف کے جاتے ہی نظام غتر بود ہو گیا۔ پی ٹی آئی کے دور حکومت کے بعد سندھ میں بلدیاتی انتخابات ہوئے لیکن جماعت اسلامی کے مطابق مالیاتی اور انتظامی معاملات میں میئر کو بے اثر بنا دیا گیا، جبکہ پنجاب میں بعض خدشات کے باعث بلدیاتی انتخابات نہ کرائے جا سکے۔ نئے صوبے بُرے نہیں ہر ملک میں آبادی کے تناسب سے نئے انتظامی یونٹس (صوبے) کی گنجائش موجود ہے۔ بد قسمتی سے ہمارے یہاں ہردور میں لسانی تفریق، قومیت پرستی کو اتنی ہوا دی گئی کہ اس کا خاتمہ ناممکن نہ سہی انتہائی مشکل ضرور نظر آتا ہے، ایم کیو ایم کراچی کو وفاق کی تحویل میں دینے اور اسے الگ صوبہ بنانے کا مطالبہ کرتی آ رہی ہے، اسی طرح پنجاب میں جنوبی پنجاب اور سرائیکی صوبہ کا مطالبہ بھی مخصوص لسانی قومیت کی عکاسی کرتا ہے، شنید ہے کہ نئے صوبوں کے قیام پر خاصا ہوم ورک ہو چکا ہے۔ اگر قومی سطح پر ملکی ترقی اور عوام کے مسائل کے نقطہ نظر کے حوالے سے چار صوبوں کو زیادہ انتظامی یونٹس میں تقسیم کر دیا جائے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔
آزاد کشمیر کے دوسرے مرحلہ کے الیکشن میں بھی ن لیگ کی برتری قائم رہی، ن لیگ نے 24 نشستوں پر واضح کامیابی حاصل کی اس طرح وہ کسی جماعت کو ساتھ ملائے بغیر آزاد کشمیر میں حکومت بنا سکتی ہے۔ بلاول بھٹو نے دوسرے مرحلہ پر بھی فارم 47، دھاندلی کرپشن کے الزامات لگائے تیسرے مرحلہ میں راولاکوٹ اور پلندری اضلاع کی 7 نشستوں پر الیکشن مؤخر کر دئیے گئے پونجھ کے دیگر اضلاع میں 10 اگست کو پولنگ ہو گی۔ کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا کیا ہو گا، سیانوں کا کہنا ہے کہ ن لیگ کی حکومت حلف اٹھاتے ہی تدبر اور تدبیر سے پاکستان کے موقف کے عین مطابق اور امن و امان کی صورتحال کو داؤ پر لگائے بغیر دھرنا ختم کرانے میں کامیاب ہو جائے گی۔ آزاد کشمیر کے وزیراعظم کے لیے شاہ غلام قادر اور راجہ فاروق حیدر کے نام لیے جا رہے ہیں تاہم مقامی صحافیوں کے مطابق شاہ غلام قادر کو فیورٹ قرار دیا جا رہا ہے۔ ادھر رپورٹس کے مطابق بلاول بھٹو نے باغ میں جلسہ سے خطاب کے دوران ن لیگ پر الزامات سے گریز کیا ہے جو خوش آئند ہے۔