Wed, September 16, 2026

خواجہ سعدرفیق، پنجاب کو گالی کا دکھ!

 خواجہ سعدرفیق، پنجاب کو گالی کا دکھ!

جب سے ہوش سنبھالا ہے ، پنجاب کو گالی پڑتے ہی سنا ہے یہ ناقابل فہم اور افسوس ناک سلسلہ تادم تحریر جاری ہے ناقابل فہم اس لیے کہ دوسرے صوبوں  کے ساتھ پنجاب ظلم وزیادتی کے کوئی ٹھوس شواہد کسی بھی دورکے حوالے سے سامنے نہیں لائے گئے نہ ہی پنجاب کی جانب سے زیادتی کے کسی واقعہ کی نشاندہی ہوئی ہے، بہت غور کے بعد اس نتیجے پرپہنچاہوں کہ ان مسلسل الزامات کے جواب میں پنجاب مسلسل مہربہ لب رہا ہے۔ بڑے بھائی کے نفسیاتی احساس کے زیراثر ایثارکیش رویہ ہی شعار رہا ہے کبھی کبھار پنجاب کا قصور کیا ہے کی آواز اٹھتی ہے پھر روایتی سناٹے میں گم ہوجاتی ہے اس کی تازہ ترین مثال (ن) لیگ کے رہنما خواجہ سعد رفیق کا بیان ہے شکوہ اور ناپسندیدگی کا رنگ لے اس بیان میں پنجاب کے ساتھ زیادتیوں ،پنجاب کے نوجوانوںمیں جنم لینے ردعمل اور اس کی وجوہ کی نشاندہی کی گئی ہے متذکرہ بیان کا یہ اقتباس غور طلب ہے۔ 
’’دہائیوں کی منصوبہ بندی اور ذہن سازی کا نتیجہ سامنے آرہا ہے پنجاب کے خلاف ایسی منافرت پہلے کبھی نہیں دیکھی، ہرگناہ پنجاب کے کھاتے میں ڈالنا ایک فیشن بن چکا ہے یہاں دانشوروں اور نوجوانوں میں دوسری نسلی اکائیوں سے بیزاری کا رویہ دیکھ رہا ہوں گالیاں اور گولیاں کھاکر پنجاب میں تلخی  بڑھ رہی ہے ذمہ دار مارشل لاء مسلط کرنے والے مائنڈسیٹ کے بغل بچے ، موقع پرست سیاسی جماعتیں اور وڈیرہ شاہی کا جاگیردارانہ رویہ ہے۔‘‘
برادر بزرگ سعود ساحر مرحوم سے بہت کچھ سیکھا ہے ایک  روز کہا ’’بخاری جی، صحافی کو تاریخ کے ساتھ جغرافیہ سے بھی واقف ہونا چاہئے۔ کتاب سے گہرا رشتہ، دوسرے کی بات تحمل سے سن کر پورے سیاق وسباق کے ساتھ سمجھنے اور تجزیہ کرنے کی اہلیت ہونی چاہئے‘‘ چار برس سے زائد ہوتے ہیں سندھ میں رہ کر سندھ کی تاریخ اور جغرافیہ سے آگاہی کا جو موقع ملا پنجاب میں رہتے ہوئے ممکن نہیں تھا۔ خوش قسمتی ہے کراچی اور حیدرآباد سے زیادہ اندرون سندھ مختلف علاقوں میں قیام اور مقامی لوگوں سے روابط استوار ہوئے خواجہ سعد رفیق کی نشاندہی کردہ ’’منصوبہ بندی اور ذہن سازی ‘‘ کے عملی نتائج کا ’’مشاہدہ ہوا‘‘۔سندھ کے وسائل پنجاب پر خرچ ہورہے ہیں،وسیع پیمانے پر اذہان کو اس منفی سوچ سے آلودہ کردیا گیاہے۔ اس سلسلے میں دوماہ قبل کراچی کے پیسے سے پنجاب کی ترقی، کے عنوان سے براہ راست میں صورتحال سامنے لانے کی کوشش کی تھی پی ٹی آئی اور پیپلزپارٹی کے وابستگان پنجاب مخالف پروپیگنڈہ میں ہم آواز ہیں۔ جماعت اسلامی (ن) لیگ سے سیاسی بغض کے زیراثر اس پروپیگنڈہ کو تقویت پہنچا رہی ہے حالانکہ خدمت خلق کے میدان میں جماعت اسلامی کا کردار تاریخ ساز ہے سوچ، سیاسی پروگرام میں زمین وآسمان کا فرق ہونے کے باجود عمران خان سے قربت پر تعجب کا اظہار ہی کیا جاسکتا ہے۔ 
وزیراعلیٰ مریم نواز پنجاب میں اجتماعی ترقی ، عوام کیلئے سہولتوں اور لوگوں کی بھلائی کیلئے جو عملی اقدامات کررہی ہیں، ان پڑھ نہیں اچھے خاصے تعلیم یافتہ لوگوں کے سامنے  اس کا ذکر آئے تو عجیب جواب ملتا ہے ’’مریم جوکچھ کررہی ہے سب کراچی اور سندھ کا پیسہ ہے۔‘‘ حالانکہ کراچی اور سندھ کا پیسہ پنجاب کیسے جارہا ہے اس کا جواب کسی  کے پاس نہیں ہے۔ 
پنجاب کے صوبائی وسیاسی کردار کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے 14اگست 1947ء کے بعد سے پنجاب سے تعلق رکھنے والے پنجابی وزرائے اعظم چودھری محمدعلی اور ملک فیروز خان نون پر کرپشن یا ملک کو نقصان پہنچانے کا الزام تک نہیں لگا ملک توڑنے کا الزام سرحد (خیبرپختونخواہ) کے جنرل یحییٰ خان سندھ کے ذوالفقار علی بھٹو پرہی گیا ہے ،خواجہ سعد رفیق نے پنجاب کے خلاف منافرت کے حوالے سے مارشل لاء مسلط کرنے والے مائنڈ سیٹ کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے اس میں کسی پنجابی آرمی چیف کا نام نہیں لیا جاسکتا۔ پاکستان میں جمہوریت پر شب خون مارنے والے جنرل ایوب خان کا دوسرے فوجی ڈکٹیٹر جنرل یحییٰ خان ، تیسرے فوجی ڈکٹیٹر (ڈومیسائل کے حوالے سے )جنرل ضیاء الحق کا تعلق خیبر پختونخواہ سے تھا چوتھے فوجی ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف کا تعلق سندھ (کراچی) سے تھا۔ 
بلاشبہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے واحد وزیراعظم جس سے نہ صرف پاکستان بلکہ پنجاب کو شدید نقصان پہنچا اس عمران خان کو ایک خاص مائنڈ سیٹ نے ہی پروان چڑھا کر اقتدار کے سنگھاسن پر براجمان کیا تھا اب بویا وہ کاٹ رہا ہے، اس مائنڈ سیٹ کیلئے یہ فطری مکافات عمل پریشانی کا باعث بناہوا ہے۔ 
خواجہ سعد رفیق نے پنجاب کو گالی دینے کی جن وجوہ اور حقائق کی نشاندہی کی ہے انہیں جھٹلایا نہیں جاسکتا یہ سب بلاواسطہ ذمہ دار ہیں، لیکن ایک بالواسطہ ذمہ داری بھی ہے۔ یقیناً اس سے اتفاق خواجہ سعد رفیق کیلئے مشکل ہی نہیں ناممکن ہوگا۔ متذکرہ ذمہ داری کے حوالے سے اگر ان کے قائد میاں نوازشریف کا نام لیا جائے تو بلاشبہ ایساہی ہوگا۔ میرا ذاتی مشاہدہ ہے بالخصوص سندھ سے پنجاب کو گالی پڑتی ہے اس کے ذمہ دار بالواسطہ طورپر میاں نواز شریف ہیں اس اجمال کی تفصیل کے حوالے سے  اس کالم کی تنگ دامنی حائل ہے اس لیے اس مقصد کیلئے آئندہ کالم کا وسیع دامن پھیلا ہوگا۔ 

ٹیگز: