Wed, September 16, 2026

عالمی سطح پہ انکار کی گونج

 عالمی سطح پہ انکار کی گونج

بھارتی وزیر اعظم نریندرمودی نے ٹرمپ کی طرف سے واشنگٹن میں عشائیے کی دعوت کو ٹھکرا دیا جس سے عالمی سطح پہ انکار کی گونج سنائی دی۔نریندر مودی نے یہ کہہ کے عشائیے سے انکار کیا کہ وہ اوڑیسہ میں موجود تھے جہاں کا دورہ زیادہ اہم تھا،خصوصا جگناتھ مندر کی زیارت کو فوقیت دی گئی اور بھارتی وزیراعظم کے ترجمان سیکرٹری خارجہ کرم مسری نے بھی یہی موقف رکھا کہ مصروفیات کے باعث ملاقات سے گریز کیامگر انکار کی وجہ تو کچھ مختلف تھی کچھ ایسے حقائق جو آپ کہ سامنے رکھنا چاہوں گی اس انکار کے بڑے دورس نتائج بھی ہونگے مگر جو انکار کی وجوہات ہیں وہ یکسر مختلف ہیں۔
بھارت کو عالمی سطح پہ ہزیمت کا ابھی تک سامنا ہے۔اس انکار کی گونج کافی عرصہ تک سنائی دیتی رہے گی۔ایک اہم نکتہ ؤکہ نریندر مودی نے آپریشن سندور کے حوالے سے ثالثی کو قبول نہ کرنا بھی تھا۔
مودی نے ٹرمپ کی جانب سے دی گئی ملاقات کی دعوت کو نہایت شائستگی سے ٹھکرایا جو ایک سفارتی انداز میں انکارتو ہے مگر اسکی ایک بڑی وجہ امریکا ،بھارت تعلقات میں گزشتہ عرصے میں آنے والی تجارتی اختلافات ہیں۔ خاص طور پہ امریکہ کی جانب سے بھارت پہ ٹیرف کی بڑھوتری بھی ہے۔
امریکہ نے بھارت پہ 50%ٹیرف اگر لگایا تو باقی سیکٹرز پہ بھر پور حمایت بھی دی ۔
دیگر سیاسی عوامل میں ٹرمپ کی خارجی تر جیحات اور انڈیا کے خارجی معاملات میں سے بہت سے معاملات میں بھارتیوں کو خبردار رہنے کا بھی کہا مگر بھارت اپنی ان باتوںپہ قائم ہے جو سرد مہری کا بھی با عث بن رہی ہے۔ 
بھارت کے خارجی معاملات 2025میں کئی اہم پہلوؤں پہ مرکوز ہیں۔بھارت نے خارجہ پالیسی بنیادی طور پہ پانچ اصولوں پہ بنائی۔۔۔ باہمی احترام، عدم جارحیت، مساوات، پرامن بقائے باہمی پہ مبنی ہے۔ بھارت کی یہ بات اہم ہے کہ وہ عالمی فورمز پہ اپنی موجودگی کو مظبوط بنانے کے لئے اپنے ہمدم ممالک کے حقوق کی حفاظت پہ ؤبھی زور دیتا ہے۔ مگر ٹرمپ کی خارجہ پالیسی یکسر مختلف ہے ـــــ،ٹرمپ کی پالیسی،،امریکہ فرسٹ،،کے نظریے پہ ہے۔جس کا زور امریکہ کی داخلی سلامتی، توانائی، خودکفالت اور تجارتی مفادات کی حفاظت پہ ہے۔
اگر اس وقت موجودہ عالمی صورتحال کا جائزہ ؤلیا جائے تو ٹرمپ انتظامیہ عالمی جنگ بندی کے لئے ایک موقوفی کا کردار ادا کر رہی ہے۔خاص طور پہ بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی،ایران اور اسرائیل کے مابین متنازعہ صورتحال کوبھی کنٹرول کرنا ہے۔
اگر بھارت کے خارجی کچھ پہلوؤں پہ بات کریں تو سرد مہری کی وجہ سمجھ آتی ہے۔ اگر بات کریں بھارت اور روس کے تعلقات کی تو روس بھارت کا دفاعی بڑا شراکت دار ہے جو بھارتی مسلح افواج کے 60% ہتھیار فراہم کرتا ہے۔ بھارت،روس کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میںمستقل رکنیت کا حق بھی دیتا ہے۔
ایران کے ساتھ بھارت کے تعلقات کی بات کریں تو بھارت کو وسطی ایشیا ،افغانستان تک براہ راست رسائی فراہم کرتا ہے خاص طور پہ چابہار بندرگاہ کے منصوبے کے ذریعے بھارت، ایران اور اسرائیل دونوں کے ساتھ تعلقات قائم رکھے ہوئے ہیں جبکہ تمام تر سیاسی عوامل اور خارجی تعلقات میں ٹرمپ کی خارجہ پالیسی یکسر مختلف ہے۔ ایران، اسرائیل جنگ کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت کو ایران کے ساتھ تیل کی تجارت سے منع کیا خاص کر کے روس کے ساتھ تیل کی خریداری بند نہ کی تو مزید تجارتی پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں اس پابندی کی وجہ ٹرمپ نے جو بتائی، روس اور یوکرین کی جنگ ہے کیونکہ جنگ میں روس مالی مدد فراہم کرتا ہے، بھارت امریکہ کی دھمکی کے باوجود، روس سے تیل کی خریداری جاری رکھے ہوئے ہے۔
خارجی اختلافات تو بے شمار ہیں مگر موجودہ ملاقات ٹھکرانے پر جو بھارت پہ اثرپڑے گاوہ کچھ اس طرح سے ہیں۔
تجارتی تعلقات میں کشیدگی بڑھ سکتی ہے، خاص طور پہ امریکی مصنوعات پر بھارت کی جانب سے عائد کرنے والے جوابی ٹیرف، دو طرفہ تعلقات میں سیاسی، اقتصادی اور دفاعی، سطح پر تبادلوں اور مذاکرات میں رکاوٹ آسکتی ہے۔
مودی کے انکار سے بھارت کو مزید تجارتی پابندیوںکا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ دو طرفہ تعلقات میں مزید سرد مہری کا بھی سامنا ہو سکتا ہے۔ اقتصادی دباؤ اور علاقائی پیچیدگیوں کو بڑھانے کا سبب بن سکتا ہے۔

ٹیگز: