Wed, September 16, 2026

سپریم کورٹ میں ملٹری ٹرائل کے حوالے سے اہم سوالات اُٹھا دیے گئے

سپریم کورٹ میں ملٹری ٹرائل کے حوالے سے اہم سوالات اُٹھا دیے گئے

اسلام آباد:  سپریم کورٹ کے آئینی بنچ نے آرمی ایکٹ کو درست قرار دینے کے باوجود ملٹری ٹرائل کے لیے آزادانہ فورم کی ضرورت پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔

جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے سات رکنی بنچ نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ملٹری ٹرائل سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ "ڈیفنس آف پاکستان" اور "ڈیفنس سروسز آف پاکستان" دو مختلف امور ہیں۔

جسٹس نعیم اختر افغان نے یہ سوال کیا کہ اگر کسی نے ممنوعہ علاقے میں داخل ہونے کی کوشش کی، اور اس کے پاس اجازت نہیں تھی، تو کیا اسے ملٹری ٹرائل کا سامنا کرنا پڑے گا؟

جسٹس جمال مندوخیل نے بھی ریمارکس دیے کہ ملٹری ٹرائل کی اجازت دینے سے اس بات کا خطرہ ہے کہ کسی بھی سویلین کا ملٹری ٹرائل کرنا بہت آسان ہو جائے گا۔ ان سوالات کے ساتھ ہی، کیس کی سماعت 15 اپریل تک ملتوی کر دی گئی

ٹیگز: