Wed, September 16, 2026

ہنری فورڈ کے آئیڈیاز، کاش ہمیں ایک ہی فورڈ مل جائے

ہنری فورڈ کے آئیڈیاز، کاش ہمیں ایک ہی فورڈ مل جائے

وہ کون لوگ اورکیسے انسان تھے جنہوں نے جہاں بڑے ادارے بنائے وہاں وہ نامور تو ہوئے ہی اور دنیا بھر میں ان کی تیار کردہ پراڈکٹ پوری دنیا میں بڑے برینڈز کے طور پر گھروں سے سڑکوں تک چلتی پھرتی نظر آتی ہیں۔ دلچسپ اور مزے دار بات یہ ہے آج ان کی زندگیوں کو اگر فالو ہی کر لیا جاتا تو پھر اس دنیا کا نقشہ کچھ اور ہی ہوتاانہی لوگوں میں ایک وہ لوگ جو سائنس دان تھے جنہوں نے بلب سے لے کر چلتی گاڑی تک کو ایجاد اور اندھیروں کو روشن کیا پھر جدت کے ساتھ حدت ملتی گئی اور لاکھوں چیزوں نے انسان کو اور سہل کر دیا۔ زندگی کی مصروفیات بڑھتی گئیں انسان نے خود کو ان سے آزاد کرلیا۔ میں نہ تو سائنس اور تاریخ کا طالبعلم ہوں مگر جہاں تاریخ اور سائنس کے علاوہ میں نامورشخصیات کو محفوظ کرتا رہتا ہوںوہاں میری رائے ہے کوئی اتفاق کرے نہ کرے اگر آج کی نسلوں کو تعلیم کے ساتھ ساتھ ان کے پڑھائے گئے کورسز میں ان شخصیات کے کرداروں کو اجاگر کیا جائے تو ہم ایک نہیں بڑے نامور لوگوں کی طرح نامور برینڈز کے مالک بن سکتے ہیں۔ کم از کم مجھے آج بڑھاپے کی عمر میں جب بڑے لوگوں کے کرداروں کو پڑھتا ہوں تو ان میں ہنری فورڈ کی شخصیت ان ٹاپ ٹین لوگوں میں کی جا سکتی ہے جنہوں نے اس دنیا کو خوبصورت زندگی بھی گزارنے کے ہنر بھی سکھائے۔ ہنری فورڈ کون تھا۔ آیئے پہلے ان کی زندگی کی مختصر کو دیکھتے ہیں۔ 
امریکی شخص ہنری فورڈ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ دنیا کا پہلا بزنس مین تھا جو اپنے ملازمین کو مارکیٹ کے حساب سے سب سے زیادہ معاوضہ بھی دیتا تھا،ایک بار اس کے پاس ایک صحافی آیا اور اس نے ہنری فورڈ سے پوچھا ’’آپ اپنی کمپنی میں سب سے زیادہ معاوضہ کس کودیتے ہیں‘‘ اس بات پر فورڈ مسکرایا، اپنا کوٹ اور ہیٹ اٹھایا اورصحافی کو اپنے پروڈکشن روم میں لے گیا،ہر طرف کام ہو رہا تھا، لوگ دوڑ رہے تھے،گھنٹیاں بج رہی تھیں اور لفٹیں چل رہی تھیں،کام کے حوالے سے ہر طرف افراتفری تھی،اس افراتفری میں دیکھا کہ ایک کیبن تھا اور اس کیبن میں ایک شخص میز پر ٹانگیں رکھ کر کرسی پر لیٹے، اس نے منہ پر ہیٹ رکھا ہوا تھا، ہنری فورڈ نے دروازہ بجایا، کرسی پر بیٹھے شخص نے ہیٹ کے نیچے سے ہنری کو دیکھا اور تھکی تھکی آواز میں بولا ’’ہیلو ہنری آر یو اوکے‘‘ فورڈ نے مسکرا کر ہاں میں سر ہلایا، دروازہ بند کیا اور باہر نکل گیا، صحافی حیرت سے یہ سارا منظر دیکھتا رہا، فورڈ نے ہنس کر کہا ’’یہ شخص میری کمپنی میں سب سے زیادہ معاوضہ لیتا ہے‘‘ صحافی نے حیران ہو کر پوچھا ’’ یہ شخص کیاکرتا ہے؟‘‘ فورڈ نے جواب دیا ’’کچھ بھی نہیں، یہ بس آتا ہے اور سارا دن میز پر ٹانگیں رکھ کر بیٹھا رہتا ہے‘‘۔
صحافی نے پوچھا ’’آپ پھر اسے سب سے زیادہ معاوضہ کیوں دیتے ہیں‘‘ فورڈ نے جواب دیا ’’کیوں کہ یہ میرے لیے سب سے مفید شخص ہے‘‘ فورڈ کا کہنا تھا ’’میں نے اس شخص کو سوچنے کے لیے رکھا ہوا ہے،میری کمپنی کے سارے سسٹم اور گاڑیوں کے ڈیزائن اس شخص کے آئیڈیاز ہیں، یہ آتا ہے،کرسی پر لیٹتا ہے،سوچتا ہے،آئیڈیا تیار کرتا ہے اور مجھے بھجوا دیتا ہے۔
میں اس پر کام کرتے ہوئے اور کروڑوں ڈالر کماتا ہوں‘‘ ہنری فورڈ نے کہا ’’دنیا میں سب سے زیادہ قیمتی چیز آئیڈیاز ہوتے ہیں اور آئیڈیاز کے لیے آپ کو فری ٹائم چاہیے ہوتا ہے،مکمل سکون،ہر قسم کی بک بک سے آزادی، آپ اگر دن رات مصروف ہیں تو پھرآپ کے دماغ میں نئے آئیڈیاز اور نئے منصوبے نہیں آ سکتے چنانچہ میں نے ایک سمجھ دار شخص کو صرف سوچنے کے لیے رکھا ہوا ہے، میں نے اسے معاشی آزادی بھی دے رکھی ہے تاکہ یہ روز مجھے کوئی نہ کوئی نیا آئیڈیا دے سکے‘‘ صحافی تالی بجانے پر مجبور ہو گیا۔
یہ تو فورڈ کی کہانی تھی کہ اس نے آئیڈیاز ہی کو عملی شکل دی اور آج اس کا برینڈ پوری دنیا کی زبان پر ہے۔ اگر ہنری فورڈ کی وزڈم سمجھنے کی کوشش کریں گے تو آپ بھی بے اختیار تالی بجائیں گے ، انسان اگر مزدور یا کاریگر ہے تو پھر یہ سارا دن کام کرتا ہے اور وہ جوں جوں اوپر جاتا رہتا ہے اس کی فرصت میں مزید اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ بڑی انڈسٹریز اور نئے شعبوں کے موجد پورا سال گھر سے باہر قدم نہیں رکھتے۔ ہنری فورڈ کے بعد بزنس کی دنیا میں بل گیٹس اور وارن بفٹ بھی ویلے ترین لوگ ہیں،وارن بفٹ روزانہ ساڑھے چار گھنٹے پڑھتے ہیں،بل گیٹس ہفتے میں اور دونوں کے پاس اس کا وقت ہے کہ وہ دو دو کتابیں ختم کرتے ہوئے سال میں 80کتابیں پڑھ جاتے ہیں، یہ دونوں اپنی گاڑی خود چلاتے اور عام لوگوں میں لائن میں لگ کر کافی اور برگر لیتے اور سمارٹ فون استعمال نہیں کرتے۔ اس کے باوجود دنیا کے امیر ترین لوگ کیسے صرف اور صرف فرصت اور سوچنے کی مہلت کی وجہ سے وہ بڑوں کی زندگیوں کو پڑھ کر اندازہ ہوا کہ جب تک ہم ذہنی طور پر فری نہیں ہوں گے ہمارا دماغ اس وقت تک بڑے آئیڈیاز پر کام نہیں کرے گا۔ آج کے دور میں اگر دنیا میں کوئی بڑا کام کرے گا تو پھر اسے خود کو فری رکھنا ہو گا، اگر خود کو چھوٹے چھوٹے کاموں میں الجھائیں گے تو پھر سوچ نہیں سکتے اور نہ زندگی میں کوئی بڑا کام کر سکیں گے۔

ٹیگز: