میں نے دیکھا کہ آج پھر سے ’’جمنا ‘‘اپنی آستینیں چڑھائے ، بڑی سختی اور شدت سے خفگی بھرے جذبات کا اظہار کر رہا تھا۔۔۔ انداز تھا کہ گویا منہ سے جاگ اُڑ رہی ہو۔ وہ ماضی کے دفن شدہ گوشوں کو ایک ایک کر کے نمایاں کر رہا تھا اور کیا خوب نمایاں کر رہا تھا۔۔ دوسروں کے اپنے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کاتذکرہ جاری تھا مگر اپنا سب کچھ بھولا ہوا تھا۔۔۔!ڈرتے ڈرتے پوچھا، بھائی ’’جمنے ‘‘ ہوا کیا ہے۔۔؟ آپ اتنے غصے میں کیوں ہیں۔۔۔ـ؟ ترنت بولے غصے میں کیوں نہ ہوں۔۔! اس نے میری بے عزتی کی ہے، میںنے تو ایک ذرا دوستوں میں اس کی شخصیت پر’’ مذاقا‘‘ کچھ تبصرہ کیا تھا ، اس نے آگے سے مجھے بے عزت کر دیا ۔۔میں تو مذاق کر رہا تھا اور وہ سیریس ہی ہو گیا ۔۔کیا ہوا میں نے اگر اس سے کچھ کہہ دیا ، اس سے برداشت ہی نہیں ہوا ، دوستوں میں تو اکثر ایسا ہو جاتا ہے۔۔ 2003 ء میں بھی اس نے ایک بار میری پلیٹ میں سالن ڈالتے مجھے مذاق کیا تھا۔۔ 2006 ء کے ٹور میں بھی اس نے میرے ساتھ اچھا برتاؤ نہیں کیا تھا۔۔۔ 2015 ء میں تو اس نے حد ہی کر دی تھی مجھے کہا کہ یار بڑی دعوت دعوت کرتے ہو ، کبھی کچھ تکلف بھی کر لیا کرو۔۔ گھر بلاتے ہو تو کوئی رائتہ سلاد بھی بنا لیا کرو۔۔ بڑا آیا مشورے دینے والا۔۔ مجھے تو زہر لگتا ہے۔۔بڑے ادب سے کہا بھائی، اس میں برداشت نہیں تو آپ کر لو، اس نے وضع داری نہیں دکھائی، آپ دکھا دو ۔۔مگر ’’جمنا‘‘ کہاں سنتا ہے، جمنا تو جمنا ہے۔۔۔!
ٍٍ ’’جمنا ‘‘ اور ’’ میں ‘‘برسوں سے بطور دوست ایک دوسرے کے ساتھ چل رہے ہیں ۔۔ایک دوسرے کے ساتھ کتنے ہی سفر، محافل اور نشستیں ہو چکی ہیں۔۔ ’’جمنے ‘‘میں کئی عادات بہت اچھی ہیں مگر ایک دوعادات ایسی ہیں کہ جنہوںنے ہر ایک کو خوار کر رکھا ہے ۔۔۔ایک تو ’’جمنے ‘‘ کوکوئی بات بھولتی نہیں ہے ،برسوں سے کی باتیں بھی اسے بخوبی یاد ہیں مگر بدقسمتی سے اسے ہر وہ بات خوب یاد ہے جس سے اس کے جذبات پر ضرب لگی ہو مگر ایسا کچھ بھی یاد نہیں جس سے اس نے دوسروں کو اذیت دی ہو۔۔ وہ یہ تو جانتا ہے فلاں وقت اس کی فلاں فلاں
نے مدد نہیں کی مگر وہ یہ نہیں جانتا کہ اس نے خود آگے بڑھ کر کبھی کسی کی مدد کی ہے ۔۔اور اسے یہ تو بالکل بھی یاد نہیں کہ اگر کوئی مشکل وقت میں اس کے کام آیا ہے تو اس نے اس کے ساتھ کتنی وعدہ خلافیاں کی ہیں ۔۔دو چار دس دن کے لیے کسی سے رقم ادھار لے کر اسے کتنے مہینوں اور سالوں تک خوار کیا ہے۔ دوسروں کی چھوٹی سی چھوٹی باتیں بھی اسے یاد ہیں اور اپنی بڑی سے بڑی بات پر بھی اس کی نظر نہیں۔۔۔!
اپنے لیے اور معیار اور دوسروں کے لیے اور معیار۔۔یہ حکم تو ہمیں سرے سے ہی بھول گیا ہے کہ اپنے لیے وہی پسند کرو جو دوسرے کے لیے کرتے ہو ۔۔ہم مذاق کریں حتیٰ کہ کسی کی تضحیک تک کر دیںتو بھی ٹھیک اور دوسرا ایک ذرا کچھ کہہ دے تو ہم سے برداشت نہیں ہوتا۔ لوگ برسوں چھوٹی چھوٹی باتوں کاکرب دل میں اٹھائے رکھتے ہیں ، خود کو معاف کرتے ہیں نہ دوسروں کو معافی دیتے ہیں۔۔۔!حتیٰ کہ وہ باتیں جنہیںآسانی کے ساتھ ایک ہنسی میں اڑایا جا سکتا تھا، ایک لمحہ کی چشم پوشی سے اس صورتحال سے نکلا جا سکتا تھا ،انہیں ذہن پر سوار کر کے بیمار ہو جاتے ہیں، بلڈ پریشر بڑھا لیتے ہیں، شوگر لیول میں زیادتی کر بیٹھتے ہیں، ٹینشن کا شکار اور نرگسیت کے اسیر ہو جاتے ہیں مگر نہ راستہ لیتے ہیں اور نہ دیتے ہیں۔۔ چھوٹی چھوٹی باتوں کی بنیاد پر کھڑی کی گئی عمارت سے ٹکرا کر دم توڑ دیتے ہیں مگر محال ہے کہ معاف کریںیا معافی مانگنے کی کوئی راہ نکالیں۔۔۔ کتنے خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو ناپسندیدہ باتوں، رویوں اور اعمال کو جھٹک کر آگے بڑھ جاتے ہیں اور اپنی زندگی کو خوبصورت کر لیتے ہیںکیونکہ زندگی خود تعمیر نہیں ہوتی، روزانہ کی بنیادپر اس کی تعمیر کرنا پڑتی ہے۔ ۔۔!پیاز کو چھیلتے جائیں تو آخر پر جونکلے گا وہی ہمارے آپس کے تعلقات میں نکل رہا ہے ۔۔۔!
گلے شکوؤں کی آبیاری ہے کہ بڑی خوبی سے کی جا رہی ہے۔ رنج ،تکلیف اور کرب کے پودوں کو پانی اور کھاد مہیا کی جا رہی ہے اور اس کا نتیجہ صاف ظاہر ہے ۔بھائی بھائی سے جدا ،بہن بہن سے خفا، دوست دوست سے رنجیدہ ، ہمسایہ ہمسائے سے غمزدہ، باپ بیٹے سے نالاں، بیٹا باپ سے گریزاں، ماں بیٹی سے شکوہ کناں، بیٹی ماں سے ناراض، شوہر بیوی سے شکایت کناں ،بیوی شوہر سے نالاں۔۔کیا حال بنا لیا ہے ہم نے اپنا۔ ۔۔! ہر طرف گلا ہی گلا ۔۔۔!مسجد ،گھر ،باہر،چوک اورچوراہے میں بیٹھ کر گلا، اس نے یہ کر دیا، اس نے یہ کر دیا، فلاں یہ کر گیا،فلاں وہ کر گیا،حکمران یہ کر رہے ہیں،دنیا وہ کر رہی ہے، میرے دوست ایسا کر رہے ہیں، میرے ہمسائے ویسا کر رہے ہیں، میرے دفتر ی کولیگ ، افسران اور ملازمین یہ کر رہے ہیں۔۔۔!
ہم نے ایک ایسی عینک لگا رکھی ہے جس میں ہمیںصرف یہ دکھائی دے رہا ہے کہ دوسرے یہ کر رہے ہیں مگر ہم کیا کر رہے ہیں یہ ہمیں کبھی دکھائی نہیں دیتا ۔دوسروں کی سرگوشیاں تک سنائی دیتی ہیں اور اپنے اندر کا شوربھی سنائی نہیں دیتا۔۔ دوسروں کے لیے ہمارے پاس فتوے ہی فتوے اور سختی ہی سختی ہے جبکہ اپنے لیے لچک ہی لچک ہے، آسانی ہی آسانی ہے ۔۔۔ ہم دہرے معیار میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔۔ اپنے لیے اور، اور دوسروں کے لیے اور۔۔! اکثر اوقات گلے میں مصروف زیادہ تر وہی دکھائی دیتے ہیں جن کے پاس خود کرنے کو کچھ نہیں ہوتا ۔ ہمارے سارے’’ ٹاک شوز‘‘ بھی ایسے ہی گلے شکوؤں، ایک دوسرے پر سنگ باری اور الزام تراشی کا عنوان بنے بیٹھے ہیں ۔جانے انجانے سمے ہم نے ایک ایسا کلچر ترتیب دے لیا ہے جس میں بے جا تجسس ،تنقید، تن آسانی، دھوکہ دہی ،فریب ،جھوٹ ، امانت میں خیانت اور پست طرز زندگی شامل ہے۔
دیکھا جائے تو ایک ’’جمنا‘‘ ہی کیا ،ہم سب بھی’’ جمنے‘‘ کے ساتھ ’’جمنا‘‘ہی بنے بیٹھے ہیں۔۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر گلے شکوے ، روز بناتے اور روز ڈھاتے تعلقات کے معیار ،اپنے لیے اور، اور دوسروں کے لیے اور ، اپنے لیے لچک اور دوسروں کے لیے فتوے ،ہماری زندگی کا پسند یدہ حصہ بن کر رہ گئے ہیں اس وقت ہر طرف ’’جمنا راج‘‘ ہے ۔۔۔ وہ گنگا جمنا کے اشنان، سجد ے میں سر رکھ کر خودفراموشی، روزانہ رات کو دوسروں کو معاف کر کے سونا ،برداشت، تحمل، رواداری اور بردباری کہیں دور بہت دور رہ گئے ہیںاور ہر طرف ’’جمنا راج‘‘ کا دور دورہ ہے۔۔۔!