Wed, September 16, 2026

دو بھائیوں کی ’’لڑائی‘‘ اور’’شریکا‘‘

دو بھائیوں کی ’’لڑائی‘‘ اور’’شریکا‘‘

چوپال میں آج تو خوب رونق لگی ہوئی تھی، آج اس چوپال میں بڑے نہیں بلکہ بچے آئے ہوئے تھے۔ اس گروپ کی سربراہی ریاض(فرضی نام) اور فیاض(فرضی نام) کررہے تھے۔ ریاض پانچ برس جبکہ فیاض کوئی سات برس کا تھا۔۔۔ نتھو اور پھتو نے بھی ان بچوں کے گروپ کو چوپال میں آنے سے منع نہیں کیا۔۔ خیر۔۔۔ کچھ دیر میں چپ سائیں کی آمد ہوئی۔۔ بچوں کو دیکھ کر ان کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔۔ چپ سائیں کو دیکھ کر سب بچے نہایت ادب سے خاموش ہوگئے۔۔ کچھ دیر کے بعد چپ سائیں جی نے پوچھا۔۔ نتھو اور پھتو بتاؤذرا یہ آج ریاض اور فیاض نے ادھر کا رخ کیسے کیا؟۔۔۔ اس پر پھتو نے کہا۔۔۔سائیں جی۔۔ ان بچوں کا بھی الگ ہی معاملہ ہے۔۔ آپ ہی اس کو حل کرسکتے ہیں؟ اس پر چپ سائیں نے کیا کہ فیاض تم بتاؤ کہ معاملہ کیا ہے؟تاکہ گتھی سلجھ سکے۔۔۔ اس پر فیاض نے کہا کہ سائیں جی۔۔ دراصل بات یہ ہے کہ یہ جو ریاض ہے ناں بہت شرارتی ہے۔۔اس پر چپ سائیں نے کہاکہ بھلا کیا شرارتیں کرتا ہے اور تم کو اس سے مسئلہ کیا ہے؟۔۔اس پر فیاض نے کہاکہ سائیں جی۔۔ شرارتیں یہ کرتا ہے اور والدین سے ڈانٹ مجھ کو پڑتی ہے۔۔ بھئی کچھ بتاؤ گے بھی یاں۔۔ یوں ہی پہیلیاں بھجواتے رہوگے۔۔ چپ سائیں نے فیاض کو درمیان میں ٹوکا۔۔۔ فیاض بولا۔۔
چپ سائیں جی دراصل ہمارے درمیان تو نہ ختم ہونے والا میچ لگا رہتا ہے اور اس پر امی جان کبھی ہنستی اور کبھی ہماری خوب’’خاطر مدارت‘‘ کرتی ہیں۔ بڑے اور چھوٹے بھائی کی لڑائی وہ واحد ''جنگ'' ہے جو روز ہوتی ہے، بغیر کسی اعلان کے، اور دونوں فریق ہر بار خود کو فاتح سمجھتے ہیں۔یہ اکثر میرے کھلونے لے لیتا ہے اور میں بس یہ کہتا ہوں کہ ''یہ میرا کھلونا ہے!'' اس پر چھوٹے بھائی کا ردعمل یہ ہوتا ہے کہ وہ چیخنا شروع کرتا ہے، پھر۔۔۔رونا اور پھر۔۔۔ امی کی گود میں چھپ جاتا ہے۔اور یوں لڑائی کی پہلی اینٹ رکھ دی جاتی ہے۔ کھلونوں سے شروع ہونے والی یہ لڑائیاں، 
ریموٹ، بستر، چپل، موبائل، اور حتیٰ کہ امی کی خاص توجہ تک پر جاری رہتی ہیں۔۔سائیں جی بات یہاں پر ختم نہیں ہوتی ''امی! بھائی نے سالن زیادہ لے لیا!''،'امی! بھائی نے میری چاکلیٹ کھا لی!''وغیرہ وغیرہ۔۔۔جب چھوٹا بھائی سکول کے نمبر دکھائے، تومیں کہتا ہوں 'ہم تو اس عمر میں پورے نمبر لیتے تھے اور تم۔۔۔ بس واجبی ہی لیتے ہو اورپوزیشن نہیں لیتے۔اس پر چپ سائیں مسکرانے لگے اور کہا کہ بچوں آج میں تم کو دو بھائیوں کی مثال دیتے ہوئے ایک ایسی کہانی سناؤں گا کہ تمہارے لیے زندگی بھر کا سبق ہوگا۔۔۔
چوپال میں آنے والو بچو۔۔۔۔ یہ تو خیر گھر گھر کی کہانی ہے۔۔ لیکن ہمارے ملک میں چو چار صوبے ہیں، ان کی عوام بھی بھائی بھائی ہیں لیکن آج کل ان کے حکمرانوں میں بس کچھ ٹھنی ہوئی ہے۔۔یہ عوام تو1947 کے بعد سے ہی ایک دوسرے کے بہن بھائی ہیں اور ہمارے لیڈر قائد اعظم محمد علی جناح نے بھی قومیت کی بات کی تھی اور صوبائیت کوفروغ نہیں دیا بلکہ سب کو ایک زنجیر کی مانند کہا اور پھر کہیں جاکر یہ ملک آزاد ہوا۔۔۔ ہم نے ملک کی تقسیم، زلزلہ، سیلاب،طوفان ہر آفت ایک ساتھ دیکھی۔۔۔ اور بڑھ چڑھ کر ایک دوسرے کا ساتھ دیا۔۔ ہمارے لیڈر بھی ایک ساتھ تھے۔۔۔ ہیں اوررہیں گے بھی لیکن۔۔ کبھی کبھار شرپسند عناصر۔۔۔ان میں تفرقہ ڈال کر بات کا سیاق وسباق بدل دیتے ہیں۔حال ہی میں صوبہ پنجاب اور صوبہ سندھ۔۔ جو دوبھائیوں کی طرح ہیں۔ اور ایک بڑا جبکہ دوسرا چھوٹا بھائی کی طرح ہے۔ کچھ غلط فہمیاں جنم لے رہی ہیں اور ہمارے قائدین ایک دوسرے کے’’آمنے سامنے‘‘ ہیں۔۔ سیاست کے میدان میں ایسا ہوتا رہتا ہے لیکن مسائل کاحل بات کرنے اور ایک میز پر چائے کی پیالی پر ہی ختم ہوتا ہے۔۔۔ پر۔۔بچوں جس طرح گھر کے دوبھائیوں میں کبھی کبھار بڑوں کو صلح کرانی پڑتی ہے اور بات ختم کرنی پڑتی ہے۔۔۔ بالکل اسی طرح ہماری سیاسی پارٹیوں اور ملک کے ’’بڑوں‘‘ کو اس مخلوط حکومت کو بچانے اور چلانے کے لیے آگے بڑھنا ہوگا۔۔۔سچ تویہ ہے کہ کسی کو تو پہل کرنی ہوگی بات رہی۔۔ وسائل کی تو وہ اس کے ایس او پیز بھی’’بڑے‘‘ ہی طے کرلیں کیونکہ ماضی میں جمہوریت کو چلانے کے لیے’’بڑوں‘‘ نے اپنا کردارادا کیا تھا اور اس بار بھی آگے بڑھنا ہوگا۔
صاحبو!لڑائیاں چاہے جتنی بھی ہوں، مگر جب کوئی باہر والا چھوٹے بھائی کو کچھ کہہ دے، تو بڑا بھائی سب سے پہلے ڈھال بن جاتا ہے۔ اور جب بڑے بھائی کو مشکل ہو، تو چھوٹا بھائی فوراً اپنی جمع پونجی یا وقت لے کر حاضر ہو جاتا ہے۔یہی تو رشتہ ہے بھائیوں کا لڑنے والا، منانے والا، چھیننے والا، مگر آخر میں ساتھ نبھانے والا۔دوستو! بڑے اور چھوٹے بھائی کی لڑائی کوئی معمولی بات نہیں، یہ زندگی کا وہ رنگ ہے جو بچپن سے لے کر جوانی تک ہمارے چہرے پر مسکراہٹ بکھیرتا ہے۔ چاہے ریموٹ کی جنگ ہو یا کھلونے کی آخر میں دونوں ایک ساتھ بیٹھ کر ہنستے ہیں، اور یہی اس رشتے کی خوبصورتی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ دونوں بھائی ایک ساتھ غمگساری کرتے اور خوشیاں بانٹتے ہی اچھے لگتے ہیں اس طرح ہمارے ’’شریکے‘‘ کو بھی ’’آگ‘‘ لگتی ہے۔بالکل اسی طرح ہم سب ایک صوبہ نہیں بلکہ ملک ہیں اورہمارے’’بڑوں‘‘ نے بھی یہی سکھایا تھا کہ اسی وجہ سے پاکستان ترقی کی منازل طے کررہا ہے اور’’شریکا‘‘ جل بھن رہا ہے۔ دوستو! پنجاب بھی ہمارا ہے، سندھ بھی ہمارا، خیبر بھی ہمارا، بلوچستان بھی اپنا ہے۔۔۔ کیونکہ ہم سب پاکستان ہیں،ہم سب کی جان،سب کا مان یہ پیارا پاکستا ن ہے۔۔فرق صرف یہ ہے کہ ایک دوسرے کو جگہ دیں، ایک دوسرے کی بات کو اہمیت دیں اور سیاست میں اشتعال انگیزی کی بجائے۔۔کبھی ٹھہر جائیں اور کبھی آگے بڑھ جائیں کی مثل بنیں۔۔۔ریاض اور فیاض۔۔۔ میرے ہونہارو۔۔۔ اگلی بار جب آپ بھائی سے لڑیں تو یاد رکھیں،’’یہ دشمنی نہیں،تلخیاں نہیں بلکہ صرف بھائیوں کی محبت کا دوسرا انداز ہے!‘‘۔۔۔نرمی اور گرمی چلتی رہتی ہے۔ کبھی روٹھ جاؤ اور کبھی کسی کو منالواور کبھی خود بھی مان جائو لیکن تلخیوں کو طول نہ دو۔۔۔ یہی روش اختیار کرو کیونکہ یہی زندگی ہے۔۔ اللہ ہمیں آسانیاں تقسیم کرنے کی توفیق دے۔۔باقی رہے نام اللہ کا۔۔!

ٹیگز: