اسلام آباد: پاکستان کی پارلیمنٹ میں 27 ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے قانون و انصاف کی مشترکہ کمیٹی کا اجلاس شروع ہو چکا ہے۔ اجلاس کی صدارت سینیٹر فاروق ایچ نائیک اور چودھری محمود بشیر ورک کر رہے ہیں۔ اس اجلاس میں ترمیم کی مختلف شقوں پر تفصیل سے بحث کی جا رہی ہے، جن میں ججز کی ٹرانسفر اور آرٹیکل 243 جیسے اہم معاملات شامل ہیں۔
اجلاس میں وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک بھی زوم لنک کے ذریعے شریک ہیں، اور وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ نے تمام سیاسی جماعتوں کو دعوت دی ہے کہ وہ اس اجلاس میں اپنی تجاویز پیش کریں۔ تاہم، جے یو آئی نے کمیٹی کا بائیکاٹ کیا ہے، جبکہ تحریک انصاف نے پورے ایوان پر مشتمل کمیٹی بنانے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ اس ترمیم پر مزید تفصیل سے بحث کی جا سکے۔
سینیٹر فاروق نائیک نے اجلاس کے آغاز پر بتایا کہ وہ تمام تجاویز پر غور کر رہے ہیں اور کوشش ہے کہ آج ہی اس بحث کو مکمل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف جماعتوں کی آراء پر غور کے بعد اکثریتی رائے کی بنیاد پر حتمی فیصلہ کیا جائے گا، جو بعد میں ایوان میں پیش کیا جائے گا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کمیٹی 80 فیصد تجاویز پر غور کر چکی ہے اور امید ہے کہ شام 5 بجے تک اس عمل کو مکمل کر لیا جائے گا۔