Wed, September 16, 2026

پنجاب میں سموگ کا مسئلہ بدستور برقرار، لاہور کی فضا شدید آلودہ

پنجاب میں سموگ کا مسئلہ بدستور برقرار، لاہور کی فضا شدید آلودہ

لاہور: پنجاب بھر میں سموگ کا اثر ابھی تک کم نہیں ہو سکا، اور لاہور سمیت مختلف شہروں کی فضا میں آلودگی کی سطح انتہائی خطرناک حد تک پہنچ گئی ہے۔ لاہور کے مختلف علاقوں میں ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) کا اندازہ 275 تک ریکارڈ کیا گیا ہے، جو شہریوں کی صحت کے لیے شدید خطرہ ثابت ہو سکتا ہے۔

لاہور کے مختلف مقامات پر ایئر کوالٹی انڈیکس کی شرح میں نمایاں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ راوی روڈ پر AQI 302، لوئر مال 515، اقبال ٹاؤن 517، ساندہ روڈ 497، ایف سی کالج میں 466 اور صدر کینٹ میں 437 تک پہنچ چکا ہے۔ اس کے علاوہ فیصل آباد میں AQI 410 اور ملتان میں 367 تک جا پہنچا ہے، جو کہ انتہائی تشویش کا باعث ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی آلودگی شہریوں کے لیے نہایت خطرناک ہو سکتی ہے، اور اس کا اثر خاص طور پر سانس اور دل کی بیماریوں میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔ اس سلسلے میں ماہرین نے عوام سے درخواست کی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے پرہیز کریں، ماسک کا استعمال کریں اور صبح کے اوقات میں باہر جانے سے گریز کریں۔

سموگ اور آلودگی کی روک تھام کے لیے پنجاب حکومت نے ایک گرینڈ آپریشن شروع کر رکھا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ اور ماس ٹرانزٹ کی ٹیمیں دن رات دھواں چھوڑتی گاڑیوں کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہیں۔ نومبر کے پہلے ہفتے میں لاہور میں 4184 گاڑیوں کا معائنہ کیا گیا، جن میں 877 گاڑیاں دھواں چھوڑتی پائی گئیں اور ان کے چالان کیے گئے۔ اس کے علاوہ 288 گاڑیاں بند کر دی گئیں اور اوورلوڈنگ کرنے والی 671 گاڑیوں کو بھی جرمانہ کیا گیا۔

اس آپریشن کے دوران 255 ایف آئی آرز درج کی گئی ہیں اور 208 ڈرائیورز کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔ مجموعی طور پر 80 لاکھ روپے کے جرمانے عائد کیے گئے ہیں تاکہ سموگ کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔

ماہرین نے شہریوں کو سموگ کے اثرات سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر اپنانے کی ہدایت کی ہے۔ ان میں غیر ضروری باہر جانے سے پرہیز، ماسک کا استعمال اور آلودگی والے اوقات میں کھلی فضا میں سرگرمیاں نہ کرنا شامل ہے۔

ٹیگز: