Wed, September 16, 2026

دنیا ممدانی کے لیے دعاگو ہے

دنیا ممدانی کے لیے دعاگو ہے

ایک ایسے وقت میں کہ جب پوری دنیا مختلف قسم کی تبدیلیوں کی لپیٹ میں ہے۔ نیویارک شہر، جسے ا گر منی ورلڈ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا، سے بھی ایک بڑی تبدیلی کی خبر آ گئی ہے۔ اس شہر نے ایک ایسے جوان خون کو اپنا میئر منتخب کیا ہے جس کا اپنا رہن سہن بھی عام آدمیوں جیسا ہے اورانہی کی زندگی میں بہتری لانے کی بات کرتا ہے اور اسی کام کے لیے کوششیں کرنے کا دعویدار ہے۔ زہران ممدانی کا میئر بننا صرف ایک سیاسی خبر نہیں بلکہ اس نوجوان کی کہانی ہے جو خود عام گھرانے سے تعلق رکھتا ہے، جس نے وہی مشکلات دیکھی ہیں جو ایک عام شہری دیکھتا ہے۔ وہ کرایے کے گھروں میں پلا بڑھا، عام سکولوں میں پڑھا، اور اب اسی شہر کا سب سے بڑا منتظم بن گیا۔ اس سے بڑھ کر عوام کے لیے خوشی کی بات کیا ہو سکتی ہے کہ اب ان کا میئر بھی انہی میں سے ہے۔
نیویارک ایک ایسا شہر ہے کہ جس کی چمک دمک کے پیچھے لاکھوں لوگوں کی محنت چھپی ہے۔ کوئی صبح سویرے بس ڈرائیو کرتا ہے، کوئی ٹیکسی چلاتا ہے، کوئی ریستوران میں کام کرتا ہے، کوئی ہسپتال میں نرس ہے، اور کوئی اسکول میں پڑھاتا ہے۔ یہی لوگ در اصل میں شہر کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔
 زہران ممدانی نے الیکشن مہم کے دوران یہی کہا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم انہی لوگوں کے بارے میں سوچیں، جو دن رات کام کرتے ہیں مگر پھر بھی اپنے بل ادا کرنے میں مشکلات کا شکار رہتے ہیں۔ یہی بات لوگوں کے دل میں اُتر گئی۔ نیویارک کے شہریوں نے پہلی بار محسوس کیا کہ کوئی ان کی زبان بول رہا ہے اور ان کے مسائل کو سمجھ رہا ہے۔
زہران نے وعدہ کیا ہے کہ وہ رہائش کو آسان بنائے گا کیونکہ آج نیویارک میں یہی سب سے بڑا مسئلہ ہے کہ کرایے بہت زیادہ ہیں۔ لوگ اپنی آدھی آمدنی کرائے میں دے دیتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ حکومت کرایے منجمد کرے تاکہ عام خاندان سکون سے رہ سکیں۔ یقینا اگر کرایے کم ہوجائیں یا موجودہ سطح پر منجمد کر دیے جائیں تو کتنی آسانی ہو جائے گی۔ ایک عام مزدور اپنی تنخواہ کا بڑا حصہ بچا سکے گا، اس کے بچے بہتر سکول میں جا سکیں گے، کھانے پینے کی چیزیں خریدنا آسان ہو جائے گا اور لوگ قرضے لینے سے بچ سکیںگے۔ دوسرا بڑا وعدہ اس نے بسوں کے بارے میں کیا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ شہر میں بس کا سفر مفت کر دیا جائے۔ کچھ لوگوں کو یہ بات عجیب تو لگی ہے، مگر ذرا سوچیں، اگر ایک شخص روز دو یا تین بسیں تبدیل کر کے اپنی منزل تک پہنچتا ہے تو ہر روز وہ چند ڈالر توبچاہی سکتا ہے۔  اس کے ساتھ ساتھ اس قسم کے فیصلے سے سڑکوں پر ٹریفک کا رش کم ہو گا، فضا صاف رہے گی اور آلودگی گھٹے گی۔یعنی کہنے کو تو یہ ایک چھوٹا سا قدم ہو گا مگر اس کے بڑے اثرات ہوں گے۔ویسے اگر اس بات کا تنقیدی جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے حکومتی خزانے پر کچھ زیاہ بوجھ ڈالے بغیر اس قسم کے اقدامات اٹھائے جا سکتے ہیں۔
زہران نیویارک کے پہلے مسلم میئر ہیں، جنوبی ایشیائی نسل سے ہیں، ان کا خاندان تارکین وطن ہے۔ ان کا الیکشن جیتنا اس بات کی علامت ہے کہ نیویارک واقعی سب کا شہر ہے۔ یہاں کسی کا مذہب یا نسل اہم نہیں، بلکہ اس کی نیت اور خدمت کا جذبہ اہم ہے۔ ان کے میئر بننے سے ان لاکھوں لوگوں کو حوصلہ ملا ہے جو خود کو نظام سے دور سمجھتے تھے۔ اب انہیں یقین ہو گیا ہے کہ وہ بھی کسی دن حکومت کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اس سے شہر میں برابری اور بھائی چارے کا جذبہ بڑھے گا۔ تعصب اور نفرت کی دیواریں کمزور ہوں گی۔ یہ تبدیلی صرف سیاسی نہیں بلکہ اخلاقی اور سماجی بھی ہے۔
ممدانی کا نظریہ سادہ ہے کہ حکومت کا کام اعداد و شمار کو بہتر دکھانا نہیں بلکہ لوگوں کی زندگی بہتر بنانا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر کسی شہر میں لوگ خوش نہیں تو وہ شہر ترقی یافتہ نہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ امیر طبقے اور بڑی کمپنیوں سے منصفانہ ٹیکس وصول کیا جائے تاکہ وہی پیسہ عام لوگوں کی سہولتوں پر لگایا جائے کیونکہ ان کا سوچنا ہے کہ جب حکومت اپنے شہریوں پر خرچ کرتی ہے تو شہری حکومت پر بھروسہ کرتے ہیں، اور یہی کسی کامیاب شہر کی بنیاد ہوتی ہے۔
نیویارک کے شہری اب ایک نئے دور کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ یہ شہر صرف دولت مندوں کے لیے نہیں بلکہ ہر اس شخص کے لیے ہو جو محنت سے جینا چاہتا ہے۔ زہران ممدانی کا وژن بھی یہی ہے۔ وہ بار بار کہتے ہیں کہ نیویارک ایک ایسا شہر بننا چاہیے جہاں کوئی شخص اپنی آمدنی کی وجہ سے پیچھے نہ رہ جائے۔ ہر بچے کو اچھی تعلیم ملے، ہر مریض کو علاج ملے، ہر مزدور کو عزت ملے۔ یہی وہ خیالات ہیں جنہوں نے عوام کے دل جیت لیے ہیں۔
ان کی کامیابی کا ایک اثر یہ بھی ہے کہ نیویارک کی سیاست میں ایک نرم لہجہ آ گیا ہے۔ پہلے سیاست دان بڑے بڑے وعدے کرتے تھے لیکن عوام سے دور رہتے تھے۔ ممدانی کا انداز مختلف ہے۔ وہ عوام کے درمیان رہتے ہیں، ان کے ساتھ کھانا کھاتے ہیں، ان کی تقریبات میں شریک ہوتے ہیں، ان کی پریشانیوں کو سنتے ہیں۔ یہی ان کا اصل سرمایہ ہے۔ عوام کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کا میئر ان میں سے ہی ہے، کوئی دور بیٹھا حکم دینے والا نہیں۔ یہ احساس ہی کسی حکومت کے لیے سب سے بڑی کامیابی ہوتا ہے۔
انتخاب جیتنے کے بعد یقیناً ان کے سامنے بہت سے چیلنجز بھی ہوں گے۔ مکانوں کرایے بڑھنے سے روکنا یا بسیں مفت کرنا کوئی آسان کام نہیں۔ اس کے لیے بجٹ، قانون اور سیاسی حمایت درکار ہوگی۔ لیکن عوام کی محبت اور اعتماد سب سے بڑی طاقت ہے۔ اگر نیت صاف ہو تو مشکل کام بھی آسان ہو جاتے ہیں اور ممدانی کے پاس وہ نیت موجود ہے۔ ان کے پاس وہ اعتماد بھی موجود ہے جو عوام نے انہیں ووٹ کی صورت میں دیا ہے۔ اگر وہ اپنی باتوں پر قائم رہے اور ایمانداری سے کام کرتے رہے تو یقینا نیویارک کی تصویر بدل سکتی ہے۔ اب اللہ تعالیٰ سے یہی دعا ہے کہ ممدانی اپنے وعدوں پر پورا اُتریں، عام آدمی کے مسائل حل کرنے میں کامیاب ہوں، اور نیویارک کو ایک ایسا شہر بنا دیں جہاں ہر رنگ و نسل، مذہب و قومیت کا فرد خود کو محفوظ، معزز اور بااختیار محسوس کرے۔ ان کی قیادت دنیا کے دوسرے رہنماؤں کے لیے بھی ایک مثال بنے، اور نیویارک ایک بہتر، زیادہ انسان دوست اور زیادہ خوشحال شہر بن جائے۔

ٹیگز: