ایک فلسطینی نے غزہ کے ایک لاغر رلتے مہاجر کی آواز ہم تک پہنچائی ہے، جس نے اسے خیمے سے پکار ا: کیا اب جنگ ختم ہو گئی ہے اور مسلمان ہمیں بھول گئے ہیں؟ کوئی ہماری فکر نہ کرے گا؟ سردی سر پر ہے۔ خیمے پھٹ چکے ہیں۔ ہمارے بچے سردی اور بھوک سے مرجائیں گے… فلسطینی نے اسے اللہ پر بھروسا رکھنے کی تلقین کے ساتھ ہمیں ہمارا فرض یاد دلایا ہے کہ ان کو آج تمہاری ضرورت پہلے سے زیادہ ہے۔ اورکہا…اے اللہ گواہ رہنا، میں نے پیغام (بذریعہ ٹویٹ ) پہنچا دیا۔ راقمہ بھی اسی گواہی کی طلبگار، دہرا رہی ہے! دیکھو! اپنا فرض بھول نہ جانا! جہاں یہ اب اطمینان ہے کہ دنیا بھر کے عوام جاگ گئے ہیں۔ میڈیا پر اعتماد ختم ہو چکا ہے۔ برطانیہ میں ایک نوجوان ،ممبر پار لیمنٹ کو روکے کھڑا دلیرانہ بحث مباحثہ کرتا ، اسرائیلیوں کی غیر مشروط پشت پناہی پراسے آڑے ہاتھوں لے رہا ہے۔
اس دوران یکا یک سوڈان کی دیرینہ جنگ پھر گرم ہوگئی۔ میڈیا شہ سرخیاں لگا رہا ہے۔ پاکستان میں بھی ٹاپ ٹرینڈ سوشل میڈیا پر ’سوڈان‘ بن گیا۔ دو دن میں 1500 شہریوں کے بے رحمانہ قتل پر نسل کشی، قتل عام (Genocide) کی شہ سرخی لگنے لگی! اسرائیل 2 سال سے لہو کی ندیاں بہا چکا،غزہ سے بے غم عوام اب ’سوڈان‘ کی رٹ لگائے بیٹھے ہیں! اس نازک وقت میں جب اسرائیل یرغمال واپس لے چکا۔ غزہ تباہ کر لیا۔ اب اگلے مراحل مسلم ممالک سے طے کروانے ہیں۔ عوام سے رکاوٹ کا خطرہ ہے۔ ان کے حکمران، امریکہ دھمکی؍ خوشامد سے قابو کر چکا۔ سوڈان دن رات دکھائو۔ توجہ بٹائو!
ہماری سوڈان کی طویل تاریخ سے لا علمی ہے۔ وسائل (بالخصوص سونا) سے مالا مال سوڈان،4کروڑ 60لاکھ آبادی کا ملک ہے۔ 70 فیصد آبادی عرب اور 30 فیصد سیاہ فام افریقی مختلف نسلوں کے۔ جنرل عمر البشیر 1989 ء میں حسن الترابی (نیشنل اسلامک فرنٹ) کے ساتھ پر امن بغاوت کے ذریعے حکومت میں آیا۔ یہ اسلامی اتحادی حکومت تھی۔ 1956 ء میں سوڈان برطانوی استعمار سے جب آزاد ہوا، تو برطانیہ نے جنوبی سوڈان کو شمالی سے الگ صوبوں میں منقسم رکھا کہ ہر صوبہ کسی چرچ کے حوالے تھا۔ تاکہ لا مذہب آبادی مسلمان نہ ہو۔ جنوب، دریائے نیل کی بنا پر نہایت زرخیز اور بعد ازاں تیل کے ذخائر بھی دریافت ہو گئے۔ مغرب کے لیے اسلامی حکومت کا قیام تکلیف دہ تھا۔ ان دس سالوں میں حسن الترابی اور صدر عمر البشیرنے جنوب سے حکمت سے معاملات سلجھائے۔ عیسائیوں سے حسن سلوک، فوج میں شمولیت، وزارتیں بھی دیں، ان کے اندرونی قبائلی جھگڑ ے سلجھائے۔ مگر مغرب نے جنوب کے سوڈانی عیسائی غدار افسر جان گران استعمال کر کے، شمال کے خلاف بغاوت اور جنگ چھیڑ دی۔ تآنکہ جھڑپوں کے بعد 2011 ء میں جنوبی سوڈان الگ ہو گیا، مغرب نے فوراً تسلیم کیا۔ متحدہ سوڈان ٹوٹنے کے بعد جنوب کی
اندرونی قبائلی جنگوں میں بے پناہ قتل و غارت گری ہوئی، الفشار سے کہیں بڑھ کر۔ جنوب سے مہاجر ہو کر خرطوم میں پناہ لی۔مگر میڈیا کے کمالات ہیں کہ کہاں قتل عام (غزہ) پر زبان بندی، دبی گھٹی رپورٹنگ ہو اور کہاں بڑھا چڑھا کر بیان کیا جائے۔
نظر آتے نہیں بے پردہ حقائق ان کو
آنکھ جن کی ہوئی محکومی و تقلید سے کور!
سوڈان اس اسلامی دورِ حکومت میں مسلم اقلیتوں کے لیے براعظم افریقہ میں متحرک رہا۔ اسلام کی سربلندی اور اتحاد کے لیے براعظم افریقہ پر گہرے اثرات مرتب ہوئے۔ بھارت نے سوڈان میں بہت سرمایہ کاری کر رکھی تھی۔ اچھے تعلقات کے باوجود سوڈان کشمیر کے لیے آواز اٹھا تا رہا۔افریقہ پر اثر ورسوخ ، شرعی قوانین کا اطلاق مغرب کو ناگوار تھا۔ مقننہ کے اختیارات بڑھانے کی کوشش پرترابی سے اختلاف بڑھا، البشیر نے پارلیمنٹ توڑ دی اور ترابی کو 1999ء میںجیل میں ڈال دیا۔ ترابی اپوزیشن لیڈر بن گئے۔
عمر البشیر کی حکمرانی 30 سال بعد 2019 ء میں ایک عوامی تحریک کے نتیجے میں ختم ہو گئی۔سول ملٹری (ہائبرڈ) حکومت بنی۔ عمر البشیر کے طویل دور میں سوڈان نے معاشی ترقی کی مگر کرپشن زوال کی وجہ بنی۔ مغرب کی بھر پورپشت پناہی سے سیکولر، کمیونسٹ اور بے دین طبقات پیش پیش تھے۔ (عمر البشیر اسرائیل کے راستے کی روکاوٹ تھا۔)2021ء میں جنرل عبدالفتاح البرہان فوجی انقلاب کے ذریعے صدر اور ڈپٹی لیڈر جنرل محمد حمدان داگلوبنا، جو قوت پکڑ کر سوڈان کی امیر ترین اور نہایت طاقتور شخصیت بن کر ابھرا۔تین جماعتیں پڑھا اونٹوں کا یہ تاجر، دار فور تنازع میں سامنے آیا۔جنجا وید (اونٹوں کے تاجر قبائل) عرب ملیشیا کا حصہ ،نچلی سطح سے اٹھ کر کمانڈر بنا۔2013 ء میںRSF (Rapid Support Force) بنی۔ داگلو، دارفور میں سونے کی کانوں کا مالک بن گیا۔ عمر البشیر کے دور میں بھر پور فوائد اٹھانے کے بعد تختہ الٹنے میں بھی پیش پیش رہا۔ دارفور میں اس عرصے میں بھی قتل و غارت رہی مگر الزامات البشیر اور دیگر افسروں پر رہے۔ جنرل داگلو کی RSF بے رحمی کا بھر پور ثبوت دیتی رہی، انسانی حقوق گروپوں نے اس کے جنگی جرائم پر آواز اٹھائی مگر وہ بچ نکلا ۔ داگلو نے مغرب سے تعلقات بڑھائے۔ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کو یمن میں حوثیوں سے لڑنے کو RSF فورس فراہم کی۔بین الاقوامی میڈیا کے مطابق خانہ جنگی میں امارات کی حمایت اوروہاں سونے کی سمگلنگ کارفرما رہی۔ سوڈان میں البرہان سے اختلافRSF کو سوڈانی افواج کا حصہ بنانے پر ہوا۔سربراہی پر جھگڑا اٹھا۔
15 اپریل 2023 ء سے سوڈان خانہ جنگی کا اکھاڑہ بن گیا۔ RSF نے خرطوم کا بڑا حصہ قبضے میں لیا، جسے فوج نے مارچ 2025 ء میں واپس لے لیا۔ ادھر مشرقی لیبیا کا طاقتور امریکی نواز جنرل حفتر RSF کا پشت پناہ ہے ۔ اس کے لیے سوڈان ہتھیارسمگل کرتا اور فائٹر بھیجتا ہے۔ جون 2025ء میں RSF نے سوڈان کی سرحد (لیبیا اور مصروالی)اورالفشار پر اکتوبر 2025ء میں قبضہ کیا۔ ادھر جنرل البرہان نے پورٹ سوڈان کو اپنا ہیڈ کوارٹر بنا لیا۔ یو این نے اسے بطور سوڈانی حکومت قبول کر لیا۔ مارچ میں خرطوم پر بھی جنرل البرہان کا قبضہ ہو گیا۔ البرہان بھی ابراہیمی معاہد ے کا حصہ بن کر اسرائیل کو سوڈان کی فضائی حدود سے پرواز کی اجازت دے چکا ہے۔ امریکی پٹھو ہے! (یوں سوڈان اسلامی اعتبار سے بنجر،خانہ جنگی سے اجڑا،اسرائیل امریکہ کے لیے خطرہ نہیں رہا!)
سوڈان جرنیلوں کی لڑائی میں ملک اور عوام کی تباہی کا المیہ بن کررہ گیا۔ خرطوم ایئرپورٹ جہازوں کا قبرستان، بینک، آفس بلاک، ہسپتال تباہ۔عوام دربدر۔ الفشار پر RSF نے قبضہ کر لیا، جو دارفور کا آخری بڑا شہر مرکزی فوج کے پاس تھا۔ RSF اس جنگ میں دارفور اور منسلک علاقوں کومخصوص عرب حکمرانی کاعلیحدہ ملک بنانا چاہتا ہے،جو نسلاً مخلوط ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کے مطابق مارچ 2024 ء میں بھی RSF پر دارفور میں غیر عرب قومیتوں کے خلاف نسل کشی کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ طویل عرصے سے باہمی کشاکش جاری رہی اوریہ اسی کا تسلسل ہے۔ مگر اب اچانک میڈیاکے شور نے اسے غزہ کے نازک ترین موڑ پر سامنے لاکھڑا کیا ۔
حاصل کلام یہ ہے کہ 2001ء سے با ضابطہ مسلمان ممالک میں تخریب کا جو سلسلہ شروع ہوا وہ ہرمسلمان ملک کو یا تباہی کے دہانے پر کھڑا کر گیا یا اسے فدوی غلام بنا کر گریٹر اسرائیل عزائم کی تکمیل کا ذریعہ بنایا۔ الفشار اسلامی اخوت کے اعتبار سے اذیت دہ حادثہ ہے۔ مگر پنبہ کجا کجا نہم، ہی کی کہانی ہے۔ یہ ایک خطے کی ہیئت بدلنے کی سیاسی، جغرافیائی کوشش کا تسلسل ہے۔ 8 بڑے مسلمان ممالک کو ٹرمپ نے بریف کر دیا یو این جنرل اسمبلی ملاقات میں۔ پاکستان، افغانستان سینگ پھنسائے بیٹھے ہیں۔ خون مسلم دنیا بھر میں ارزاں ہے۔ خواہ خانہ جنگیاں ہوں یا کفر کی چیرہ دستیاں۔ حب الدنیا، کراہیۃ الموت اور دنیا کی قوموںکے مسلمانوں پر ٹوٹ پڑنے والی حدیث حرف بہ حرف صادق ہے۔ امت! میرے اسلام کو اب قصۂ ماضی سمجھو، کی کیفیت میں ہے۔ تاہم مت بھولیے کہ زندگی کا ہر لمحہ ہارڈ کیش ( سونے، ہیرے، جواہرات سے قیمتی تر) ہے جسے ہمیں وقت ِمعین (موت) پر پانا ہے،ورنہ خوفناک انجام! فرداً فرداً اپنے ضمیرٹٹولیے۔ دوست، دشمن کی پہچان چنداں مشکل نہیں۔ حق سے نظر نہ چرائیے۔ اپنے حصے کا انفرادی، اجتماعی فرض ہمیں ہر قیمت ادا کرنا ہے۔ آخری لمحے تک! قرآن سے چمٹیے ۔ سیرتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دل کی آنکھوں سے پڑھیے۔ غزوات،نبویؐ سیاست، بین الاقوامی امور پر گہری نگاہ بھی وہیں سے آپ سیکھیںگے۔ بین الاقوامی میڈیا دھول جھونکتا ہے آپ کی آنکھوں میں۔ سنبھل کر رہیے!
خوار از مہجوریٔ قرآں شدی (قرآن چھوڑ کر خوار و زار ہیں دنیا میں)