Wed, September 16, 2026

مودی کی نکی نکی خوشیاں

مودی کی نکی نکی خوشیاں

 مودی سرکار نے بین الاقوامی معاملات اور وہ بھی حساس دفاعی امور کو بھی بالی وڈ کی فلموں کا کوئی سین سمجھ رکھا ہے کہ اس کے ڈائریکٹر پروڈیوسر بن کر جو بھی سین فلم میں ڈال دیں گے اسے سینما ہال میں بیٹھے تماش بینوں کی طرح ساری دنیا تالیاں مار مار کر خوشی سے نہال ہو جائے گی لیکن اسے اندازہ نہیں تھا کہ یہ دنیا ہے اور یہاں پر اگر کوئی دعویٰ کیا جاتا ہے تو اسے ثابت کرنے کے لئے ثبوت بھی دیئے جاتے ہیں ۔ 6اور سات مئی کی درمیانی شب کو ہندوستان نے پاکستان پر جارحیت کی کوشش کی تو پاکستان نے اسے دھول چٹوا دی ۔ ہندوستان کے اس ” سندور آپریشن “ میں کم و بیش 80جنگی طیارے شامل تھے اور انٹر نیشنل میڈیا کے مطابق اس وقت پاکستان اور انڈیا کے کم و بیش 150جنگی طیارے فضا میں موجودہ تھے اور یہ جنگی تاریخ کا سب سے بڑا فضائی معرکہ تھا ۔ اس میں پاکستان بھی ہالی وڈ کی کوئی فلم بنا سکتا تھا اور 3رافیل سمیت 5جنگی طیاروں اور 3ڈرون کی بجائے ان کی تعداد کو بڑھا بھی سکتا تھا اور جب تین رافیل طیاروں کا ملبہ مل گیا تھا تو پاکستانی دعوے کو بین الاقوامی برادری سے تسلیم کرانا کچھ زیادہ مشکل کام نہیں تھا لیکن پاکستان نے جو حقیقت تھی اس سے رتی بھر کم یا زیادہ نہیں بتایا ۔ پاکستان نے جو کچھ کہا اسے پوری دنیا نے تسلیم کیا لیکن اگر نہیں کیا تو وہ مودی اور پاکستان کے مودیز تھے لیکن پھر بین الاقوامی دنیا نے جب تمام شواہد میڈیا پر لا کر رکھ دیئے تو پھر تسلیم کئے بغیر چارہ نہیں تھا ۔ 
پاکستان نے جس طرح انڈیا کے غرور کو خاک میں ملایا تھا تو اس کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ خود رافیل طیارے بنانے والی کمپنی نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ یہ پہلے تین رافیل طیارے ہیں کہ جنھیں پاکستان نے مار گرایا ہے یعنی پاکستان کی مسلح افواج اور خاص طور پر ایئر فورس نے تاریخ رقم کی ہے کہ پاکستان پہلا ملک ہے کہ جس نے دوران جنگ رافیل ایسے جدید ترین اور بہترین جنگی صلاحیتوں کے حامل ایک دو نہیں بلکہ تین رافیل طیاروں کو ایک انتہائی مختصر وقت میں تباہ کر دیا ۔ قوی امید تھی کہ اس قدر ہزیمت اٹھانے کے بعدمودی سرکار نے سبق سیکھ لیا ہو گا لیکن قدرت نے اس کم ظرف دشمن کو دنیا کے سامنے مزید شرمسار کرنا تھا اور جب ایسا ہوتا ہے تو پھر انسان کی عقل سمجھ اس سے چھین لی جاتی ہے ۔ آج کل سیٹلائٹ کا دور ہے کون سا طیارہ میزائل یا راکٹ کہاں سے اس سے اڑان بھری اور کہاں جا کر نشانہ پر لگا اس کا پتا لگانا کوئی مشکل امر نہیں لیکن اس کے باوجود بھی ہندوستان نے پہلے تو 8مئی کو پورا دن پاکستان پر ڈرون حملے کئے اور ایک دن میں پاکستان نے ہندوستان کے اسرائیل ساختہ 30ڈرون تباہ کر دیئے اور کسی ایک کو بھی اس کے ہدف تک نہیں پہنچنے دیا ۔ پہلے تو ہندوستان نے ان حملوں سے انکار کیالیکن جب پاکستان نے ان ڈرونز کی وڈیوز جاری کر دی کہ جن سے صاف نظر آ رہا تھا کہ یہ وہی اسرائیلی ڈرونز ہیں جو ہندوستان نے اسرائیل سے لئے تھے تو پھر اسے تسلیم کرنا پڑا ۔ پھر ایک اور ڈرامہ شروع ہوا کہ خود ہی مقبوضہ کشمیر کے مختلف علاقوں میں حملے کر کے ان کا الزام پاکستان پر لگانا شروع کر دیا ۔ پاکستان کی جانب سے سیاسی اور عسکری قیادت نے اس کی فوری تردیدکی۔ عین ممکن تھا کہ کوئی پاکستان کی بات کو مانتا اور کوئی نہیں مانتا لیکن اس کے ساتھ ہی انڈین میڈیا نے پاگل پن کی انتہا کو پہنچ کر پہلے تو یہ دعویٰ کر دیا کہ ان حملوں میں انڈیا نے پاکستان کے ایک F-16 طیارے کو مار گرایا ہے اور پھر اس کا پائلٹ بھی گرفتار کر لیا ہے لیکن جب انٹر نیشنل میڈیا نے ثبوت مانگے تو وہ نہ تو F-16کے ملبہ کو دکھا سکا اور نہ ہی دنیا کے سامنے پائلٹ کو لا سکا۔ 
اب اس سے ہٹ کر اسی پاک بھارت کشیدگی سے جڑے ایک اور موضوع پر مختصر عرض کرنا ہے کہ پاکستان میں ایک مخصوص طبقہ جنھیں میں ” پاکستانی مودیز “ کہوں گا وہ سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا کر رہے ہیں کہ باقی باتیں تو ٹھیک ہیں لیکن پاکستان ہندوستان پر جوابی وار کیوں نہیں کرتا ۔ اس پر اچھے خاصے لوگ جھانسے میں آ جاتے ہیں ۔ اول تو ہندوستان نے جو کیا اس کا بہترین جواب ان کے پانچ طیارے اور تین ڈرون مار کر دے دیا تھا اور اگر پاکستان کے 26شہری شہید ہوئے تھے تو ہندوستان کے 36افراد مارے گئے تھے تو پاکستان نے تو اسی وقت حساب برابر کر دیا تھا تو اب اگر پاکستان مزید کچھ نہ بھی کرے تو یہی کافی ہے لیکن جن کے پیٹ میں جواب دینے کا مروڑ اٹھ رہا ہے تو ان کے لئے عرض ہے کہ پہلگام واقعہ 22اپریل کو ہوا لیکن ہندوستان نے اس پر رد عمل 15دن بعد دیا ۔ اسرائیل نے ایرانی سفارت خانہ کو نشانہ بنایا ۔ ایران میں حماس کے سربراہ اسمائیل ہنیہ کو شہید کیا تو کیا ایران نے اس پر فوری رد عمل دیا تھا اور سب سے بڑی بات کہ 9/11کے بعد کیا امریکہ اسی دن افغانستان پر چڑھ دوڑا تھا ۔ خدا کے لئے حالت جنگ میں تحمل سے کام لیں اور اپنی سیاسی اور عسکری قیادت کے ساتھ کھڑے رہیں اور رہی جواب دینے کی بات تو یہ طے کرنا سیاسی اور عسکری قیادت کا کام ہے کہ یہ کام کب اور کہاں پر کرنا ہے لہٰذا اختلاف کا بیج بو کر نفاق نہ ڈالیں بلکہ قوم کو متحد رکھیں اسی میں ملک و قوم کی بہتری ہے ۔ 

ٹیگز: