انڈیا کی طرف سے پاکستان پر مسلط کی گئی جنگ جاری ہے جس میں ابھی تک پاکستان نے تحمل سے کام لیا ہے۔ جنگوں کی تاریخ بتاتی ہے کہ دنیا میں عددی اکثریت کبھی کامیابی کی ضمانت ثابت نہیں ہوئی۔ مسلمانوں کی تو تاریخ ہی 313سے شروع ہوتی ہے جس چھوٹے سے لشکر نے اپنے سے تین گنا سے زیادہ دشمن کو شکست فاش دی تھی۔ حالیہ جنگوں کی مثال لے لیں۔ روس کے مقابلے میں یوکرائن بہت چھوٹا سا ملک ہے جو گزشتہ 3 سال سے میدان جنگ میں روس جیسی طاقت کی دھجیاں بکھیر چکا ہے۔
انڈیا کے جھوٹے پراپیگنڈا سے قطع نظر اسے گزشتہ 3 دنوں میں بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے اس کے 3مہنگے ترین رافیل طیارے ایک مگ 29 اور کئی درجن ڈرون مار گرائے جا چکے ہیں صرف 3 رافیل کی قیمت ایک ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔
دنیا بھر میں ہنگامہ برپا ہے کہ فرانسیسی جدید ترین رافیل جو امریکی F-16 سے زیادہ مہنگے اور مو¿ثر سمجھے جاتے ہیں وہ پاکستان کےJF 10C کے ہاتھوں بھارت کی اپنی ہی سرزمین پر زمین بوس ہوئے ہیں۔ فرانسیسی طیارہ ساز کمپنی بھی حیران ہے کہ یہ کیا چمتکار ہو گیا۔ امریکی CNN جیسے ذرائع ابلاغ نے طیارے گرانے کی تصدیق کر دی ہے مگر انڈیا ابھی تک انکاری ہے۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ انڈیا نے اس دن کے بعد جنگ میں رافیل کو دوبارہ استعمال کرنے سے پرہیز کیا ہے انڈیا کے پاس کل 36 رافیل ہیں جو اب 33 باقی ہیں ۔ فرانس کہتا ہے کہ دنیا میں جنگ میں پہلی بار کوئی رافیل مار گرایا گیا ہے۔ جس کے بعد فرنچ طیارہ ساز کمپنی کے شیئرز کی قیمت گر گئی ہے اور جو ممالک رافیل خریدنا چاہتے تھے وہ اپنی رائے تبدیل کر رہے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستانی جنگی طیاروں نے رافیل کا کمیونیکیشن سسٹم جام کر دیا جس کے بعد وہ واپس بھاگے اور اسی بھگدڑ میں ان کے 3 طیارے ایئر ٹو ایئر میزائلوں کا نشانہ بنے اس کے بعدسے انہوں نے رافیل یا کسی بھی طیارے سے پاکستان کی فضائی حدود پار کرنے سے گریز کیا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے اسرائیلی ڈرون بھیجنا شروع کیے ہیں یہ خودکش ڈرون کہلاتے ہیں جن میں پائلٹ نہیں ہوتا یہ ریموٹ کنٹرول سے چلتے ہیں اور محدود پیمانے پر نقصان پہنچانے یا جاسوسی کرنے کے کام آتے ہیں۔ پاکستان اور انڈیا کے درمیان 2600 کلو میٹر بارڈر ہے اس واقعے میں 77 سے زیادہ ڈرون گرائے جا چکے ہیں کشمیر سے لے کر کراچی تک ہر جگہ انہوں نے ڈرون پھینکے ہیں اور پاکستان نے ہر جگہ ان کو ناکارہ کیا ہے۔
سوشل میڈیا پر بہت سے پاکستانی کہہ رہے ہیں کہ ان کو داخل ہوتے ہی نشانہ کیوں نہیں بنایا گیا۔ یہ ڈرون 35 ہزار فٹ سے اوپر کی بلندی پر ہوتے ہیں اور اپنے چھوٹے سائز کی وجہ سے ریڈار میں نہیں آتے دوسری اہم بات یہ ہے کہ جب یہ بلندی سے اتر کر اپنے ٹارگٹ کا رخ کرتے ہیں تو ریڈار پر آجاتے ہیں لیکن اگر لانگ رینج میزائل سے ان کو نشانہ بنانے کے لیے لاک کیا جاتاہے تو ہمارے میزائل سسٹم کی لوکیشن دشمن کو پتہ چل جاتی ہے اسی لیے تو یہ ڈرون بھیجا جاتا ہے لہٰذا کوشش کی جاتی ہے کہ اس کو بڑے میزائل سسٹم کی بجائے چھوٹے میزائل یا روایتی طور پر گرایا جائے یا پھر اس کے سسٹم جام کر دیا جاتا ہے جس کے بعد اس کا رابطہ پیچھے سے کٹ جاتا ہے اس کے بعد یہ نشانہ بنانے کی اہلیت سے محروم ہو جاتا ہے اور خود بخود ہی کہیں گر جاتا ہے۔ اس ڈرون کا نقصان اتنا نہیں ہے البتہ یہ عوام میں سنسنی پھیلانے کے لیے ایک حربے کے طور پر استعمال ہوتاہے۔ اب دیکھتے ہیں کہ ڈرون حملوں سے پاکستانی عوام میں کتنی سنسنی پھیلی ہے واقعہ یہ ہے کہ جہاں بھی ڈرون گرا پاکستانی عوام جوتے ہاتھوں میں لیے ڈرون کی طرف بھاگتے ہیں کہ اس کو جوتے ماریں مگر مقامی پولیس انہیں روک دیتی ہے۔ یہ کیسی سنسنی خیزی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ رافیل اور ڈرون کے دونوں مرحلے گزر چکے ہیں لیکن پاکستان کے عوام اس سے ذرہ برابر خوف زدہ نہیں ہوئے۔ اب دیکھنا ہے کہ انڈیا کا اگلا قدم کیا ہوتا ہے ہماری افواج ہر طرح کے حالات کا سامنا کرنے کو تیار ہے۔
سفارتکاری کا عمل جاری ہے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کل بھی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی ہے دوست ممالک کے وزرائے خارجہ بھی فریقین سے مل رہے ہیں۔ پاکستانی افواج پورے معاملے پر نظر رکھے ہوئے ہیں کہ کب کیا کرنا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستانی عوام کے اندر بے چینی میں اضافہ ہو رہا ہے کہ پاکستان انڈیا کو جواب کیوں نہیں دے رہا۔ اصل بات یہ ہے کہ پاکستان اس لیے بھی Cool ہے کہ ابھی تک پاکستان کا اس جنگ میں کچھ نقصان نہیں ہوا جبکہ دوسری طرف انڈیا کا اربوں روپیہ داو¿ پر لگا ہوا ہے۔ پہلگام واقعہ کے بعد انڈیا نے 26 مزید رافیل خریدنے کا معاہدہ کیا ہے جس کی قیمت 8 ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔ اس لحاظ سے انڈیا کی جنگی لاگت 10 بلین ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ پاکستان ابھی تک صرف ہوا کا رخ اور انڈیا کی باڈی لینگوئج دیکھ رہا ہے یہ بہترین حکمت عملی ہے۔
ایک بات جس میں انڈیا کا مقابلہ کرنا مشکل ہے وہ جھوٹا پراپیگنڈا ہے اس میں انڈیا کا دور دور تک کوئی مقابلہ نہیں۔ پنجاب اور کشمیر میں وہ کل سے پاکستان کی طرف سے حملے کا تاثر دے رہا ہے مگر پاکستان نے سختی سے تردید کر دی ہے۔
آج 9 مئی کے دن آئی ایم ایف کی طرف سے اجلاس میں پاکستان کے لیے 2.5 ارب ڈالر کی قسط کی منظوری دی جانی ہے انڈیا نے اس کو درہم برہم کرنے کے لیے تین دن پہلے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پاکستان پر حملوں کا آغاز کیاتاکہ آئی ایم ایف کی میٹنگ ملتوی ہو جائے مگر ایسا نہیں ہوا۔
جنگ کے پیش نظر عوام پر کوئی وار ٹیکس لگانے کی بجائے حکومت پاکستان کو چاہیے کہ فوری طور پر ایک قومی دفاعی فنڈ قائم کیا جائے جس میں کاروباری طبقہ اور مخیر حضرات سے اپیل کی جائے کہ وہ اس فنڈ میں حصہ ڈالیں۔ نئے ٹیکس یا وار ٹیکس لگانے سے عوامی مورال پست ہو گا جو عوام انڈیا پر حملہ کرنے کے لیے شور مچارہے ہیں وہ ٹیکس لگانے پر زیادہ اونچی آواز میں احتجاج کریں گے۔