Wed, September 16, 2026

سفارتی محاذ پر سنجیدگی نظر نہیں آ رہی، قوم فوج کے ساتھ ہے: مولانا فضل الرحمان

سفارتی محاذ پر سنجیدگی نظر نہیں آ رہی، قوم فوج کے ساتھ ہے: مولانا فضل الرحمان

اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمان نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اس وقت ایک سنگین صورتحال سے گزر رہا ہے، مگر بدقسمتی سے سفارتی سطح پر وہ کوششیں نہیں کی جا رہیں جو وقت کا تقاضا ہیں۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ دشمن ہماری مذہبی شناخت کو نشانہ بنا رہا ہے، مساجد اور مدارس پر حملے کیے جا رہے ہیں، اور ایسے حالات میں پاکستان کو عالمی سطح پر اپنا مقدمہ مضبوط انداز میں پیش کرنا چاہیے تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے سفارتی مشنز کو متحرک ہونا چاہیے تھا، لیکن ہمیں اس میدان میں کمزوری نظر آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ 11 مئی کو پشاور اور 15 مئی کو کوئٹہ میں ملین مارچ کا انعقاد کیا جائے گا تاکہ پاکستان کے قومی مؤقف کو دنیا کے سامنے اجاگر کیا جا سکے۔

پاک فوج کے کردار کو سراہتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستانی افواج دشمن کے خلاف جرات کے ساتھ مقابلہ کر رہی ہیں۔ "ہمیں اختلافات ہو سکتے ہیں، لیکن جب وطن کی بات آتی ہے تو ہم فوج کے ساتھ کھڑے ہیں۔"

مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ سوشل میڈیا پر جنگ سے متعلق پروپیگنڈا خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے، حکومت کو فوری اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ قوم میں انتشار نہ پھیلے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے انصار الاسلام کے کارکنان کو شہری دفاع کے لیے تیار رہنے کی ہدایت بھی دی۔

انہوں نے غزہ کی صورتحال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی عوام مکمل طور پر بے یار و مددگار ہو چکے ہیں، اور اب وقت آ چکا ہے کہ ہم اپنے دفاعی اداروں کو مزید مضبوط کریں۔

مولانا کا کہنا تھا کہ بھارت اسرائیلی اسلحہ استعمال کر کے پاکستان کو نشانہ بنا رہا ہے، اس لیے ہمیں بھارت اور اسرائیل کے خلاف ایک مؤثر اور متحدہ مؤقف اپنانا ہوگا۔

ٹیگز: