Wed, September 16, 2026

کرپشن کا خاتمہ ‘ سوچ بدلنا ہوگی!

کرپشن کا خاتمہ ‘ سوچ بدلنا ہوگی!

تحریک پاکستان ایک ایسی عوامی تحریک تھی جس میں مسلمانان برصغیر نے آزاد وطن کے حصول کیلئے اپنا تن من دھن قربان کر دیا۔14اگست 1947ء کو پاکستان معرض وجود میں آیا تو بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے وضع کردہ اصول ہمارے سامنے تھے۔ بابائے قوم ہر قسم کی بدعنوانی کولعنت اور ملک کیلئے زہر ِ قاتل سمجھتے تھے ۔11 اگست 1947ء کو پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی سے اپنے خطاب میں قائداعظم نے کہا ’’اس وقت ہندوستان جس بڑی لعنت میں مبتلا ہے ‘ میں یہ نہیں کہتا کہ دنیا کے دوسرے ممالک اس سے پاک ہیں ‘ لیکن میں یہ کہوں گا کہ ہماری حالت بہت ہی خراب ہے ‘ وہ بدعنوانی اور رشوت ستانی ہے۔ دراصل یہ ایک زہر ہے ۔ ہمیں نہایت سختی سے اس کا قلع قمع کر دینا چاہئے۔ چور بازاری بھی ایک لعنت ہے اور آپ کو اس لعنت کا بھی خاتمہ کرنا ہو گا۔‘‘
قیام پاکستان کے ابتدائی برسوں میں قائداعظم اور ان کے معتمد ساتھی حکومت میں رہے ۔ تحریک پاکستان کے جذبے جواں تھے اور ایماندار افسران کی کوئی کمی نہیں تھی، اکثر افسران گھر سے زیادہ اپنا وقت دفتر میں گزارا کرتے تاکہ عوامی مسائل حل کیے جائیں۔انہیں معلوم تھا کہ اس آزاد ی کیلئے لوگوں نے بڑی قربانیاں دی ہیں ،ہجرت کی روح فرسا داستانیں سن کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے تھے ۔ اس دور میں کرپشن کرنا تو دور کی بات اس کی سوچ تک بھی نہیں آتی تھی۔ قائداعظم کی رحلت کے بعد عنان اقتدار رفتہ رفتہ ایسے افراد کے ہاتھوں میں آتا گیا جو تحریک پاکستان کے جذبوں سے عاری تھے اور انہیں قومی مفادات کے بجائے ذاتی مفادات عزیز تھے۔ذاتی مفاد کے حصول کیلئے وہ ہر جائز وناجائز کام کرنا اور اپنے اختیارات کا غلط استعمال کرنا اپنا حق سمجھنے لگے۔ کرپشن یعنی بدعنوانی کا لفظ بہت زیادہ استعمال ہونے لگا اور آج صورتحا ل یہ ہو چکی ہے کہ نچلی سطح سے لے کر اعلیٰ سطح تک بد عنوانی کی جڑیں پھیل چکی ہیں ۔ چھوٹی قسم کی بد عنوانیوں میں نوکری پیشہ افراد اپنے افسران کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے موقع بے موقع تحائف پیش کرتے رہتے ہیں یا پھر ذاتی تعلّقات سے کام لے کر اپنے چھوٹے چھوٹے کام نکلوا لیتے ہیں۔ بڑے پیمانے پر بد عنوانی حکومتی عہدے داروں تک جا پہنچتی ہے۔ بڑے بڑے ٹھیکے منظور کرانا، مختلف اہم اور ذمّہ داری والے کاموں کے لا ئسنس حاصل کرنا، ایسی اشیاء کے لا ئسنس حاصل کرنا جس کی مانگ زیادہ اور ترسیل میں کمی ہو ، ذخیرہ اندوزی کرکے منہ مانگے پیسے وصول کرنا، بڑے بڑے عہدوں پر یا حکومتی شعبوں میں ملازمت حاصل کرنے یا مہیّا کرنے پر بھاری رشوت کا لین دین کرنا یہ سب بڑے پیمانے کی بد عنوانیوں میں شامل ہے۔ 
ہمارے ہاں تھانہ ، کچہری اور سرکاری ہسپتال ایسی جگہیں ہیں جہاں آنیوالا شخص اپنی خوشی سے نہیں آتا بلکہ حالات کی ستم ظریفی ا سے یہاں لے آتی ہے لیکن آپ دیکھیں یہاں بھی کرپشن کا بازار گرم ہے ۔ سرکاری ہسپتالوں میں تو مریض کی عیادت کیلئے جانے تک کے پیسے دینا پڑتے ہیں، یہاں تک کے مریض کے بستر کی چادر تبدیل کرانی ہو تو وہاں موجود آیا کو سو دوسو روپے دینا پڑتے ہیں۔ تھانہ اور کچہری میں ہونیوالی بدعنوانیاں ہمارے نظام انصاف پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہیں۔ یہاں قدم قدم پر کرپشن کی ایسی صورتیں سامنے آتی ہیں کہ ایماندار آدمی اپنا کام کرانے کیلئے بے بس ہو جاتا ہے ۔ گو ان محکموں میں ایماندار آدمی بھی موجود ہیں لیکن کالی بھیڑوں کی اکثریت ہے جن کو نکالنا ہو گا۔ قائداعظم نے تو سرکاری ملازموں کو پاکستان کے خادم قرار دیا تھا ۔ 14فروری 1948ء کو سبی میں افسرانِ حکومت سے خطاب کرتے ہوئے آپ نے کہا ’’ہم آج یہاں اعلیٰ و ادنیٰ کے امتیاز کے بغیر محض مملکت کے خادموں کی حیثیت میں ‘ اس لئے جمع ہوئے ہیں کہ اپنے عوام اور اپنے ملک کی فلاح وبہبود اور ترقی کیلئے غوروفکر کریں اور طریقے اور تدبیریں سوچیں ۔ بڑے سے بڑے اور چھوٹے سے چھوٹے ہم سب کے سب مملکتِ پاکستا ن کے ملازم اور خادم ہیں ‘‘ ۔اسی طرح 25مارچ 1948ء کو چٹاگانگ میں افسرانِ حکومت سے خطاب کرتے ہوئے کہا ’’ میں چاہتا ہوں کہ آپ اس انقلابی تبدیلی کے گہرے اثرات ونتائج کا پورا پورا احساس کریں ۔ آپ خواہ کسی بھی فرقے‘ ذات یا نسل سے تعلق رکھتے ہوں ، بہر حال اب آپ پاکستان کے خادم ہیں ۔ خادم اپنے فرائض اور اپنی ذمہ داریوں سے صرف خدمت کر کے ہی عہدہ برآ ہو سکتے ہیں۔ وہ دن گئے جب ہمارے ملک پر نوکر شاہی کا راج تھا ۔ یہ عوام کی حکومت ہے اور عوام کے سامنے جوابدہ۔ ‘‘ان فرمودات کی روشنی میں ہم آج کے سرکاری افسران کے رویے دیکھ لیں تو اندازہ ہو جائیگا کہ بانی پاکستان نے جس پاکستان کا خواب دیکھا تھا آج صورتحال اس کے بالکل برعکس ہے۔ 
کرپشن ایک ایسا ناسور بن چکا ہے جس سے چھٹکارا حاصل کرنا بہت ضروری ہو گیا ہے۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ بعض پبلک ، پرائیویٹ اور نیم خودمختار اداروں میں اچھے اور مثبت کاموں کی آڑ میں بھی کرپشن کا بازار گرم ہے اور ایسی ایسی کہانیاں ہیں کہ اگر انہیں منظر عام پر لایا جائے تو لوگ کانوں کو ہاتھ لگانے پر مجبور ہو جائیں۔ میں ان سطور کی وساطت سے مختلف محکموں میں ہونیوالی کرپشن کی ہوشربا کہانیاںسامنے لاتا رہوں گا ۔ میرے خیال میں کرپشن کے خاتمے کیلئے بنیادی چیز خدا اور خلقِ خدا کے سامنے جواب دہی کا احساس ہے۔ پھر اس میں پولیٹیکل وِل کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ احتسابی ادارے موثر و مستعد اور احتساب کا نظام شفاف اور قابل اعتماد ہو۔ اس میں آزاد میڈیا اور فعال سول سوسائٹی کے کردار کی بھی اپنی اہمیت ہے۔ طمع، لالچ ، زر پرستی کی ہوس اور راتوں رات امیر بننے کے چکر میں ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ دنیا مکافاتِ عمل ہے ، آج اگر ہم کسی کا حق مار کر آگے بڑھیں گے یا کسی کو اس کا حق نہیں دیں گے تو کل کو ہمارے یا ہماری اولاد کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوسکتا ہے۔ اگر ہم میں سے ہر ایک کی یہ سوچ ہو جائے تو معاشرہ سے کرپشن کا خاتمہ ممکن ہے۔

ٹیگز: