اسلام آباد : پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان 75 سالہ تاریخی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے وزیراعظم محمد شہباز شریف اور انڈونیشیا کے صدر پرابوووسو بیانتو نے اہم ملاقات کی اور دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے 7 معاہدوں پر دستخط کیے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے انڈونیشیا کے صدر کو پاکستان میں خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ انڈونیشیا کے صدر کا سات سال بعد پاکستان کا یہ پہلا دورہ دونوں ممالک کے تعلقات کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور انڈونیشیا کے تعلقات ہر آزمائش میں ایک دوسرے کے ساتھ رہے ہیں اور دونوں ممالک نے ہمیشہ مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے۔
وزیراعظم نے دونوں ممالک کے درمیان صحت، تعلیم، تجارت اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ خاص طور پر پاکستانی ڈاکٹرز اور میڈیکل ماہرین کو انڈونیشیا بھیجنے پر اتفاق کیا گیا۔ اس کے علاوہ، اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں پاکستانی طلبا کے لیے انڈونیشیا میں اسکالرشپ پروگرام شروع کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔
انڈونیشیا کے صدر پرابوووسو بیانتو نے پاکستان میں خوش آمدید کہنے پر شکریہ ادا کیا اور پاکستان کی فضائی حدود میں جے ایف 17 طیاروں کی سلامی کو ایک اعزاز قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ انڈونیشیا پاکستان کے ساتھ تعاون کے مختلف شعبوں میں مزید بہتری لانے کے لیے تیار ہے، خصوصاً صحت اور تعلیم کے میدان میں۔
دونوں رہنماؤں نے غزہ میں اسرائیل کی طرف سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کی مذمت کی اور اس بات پر اتفاق کیا کہ دونوں ممالک عالمی سطح پر امن کے قیام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔
پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان 7 معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے، جن میں صحت، تعلیم، منشیات کی روک تھام، حلال تجارت، اور تاریخی دستاویزات کی حفاظت جیسے اہم موضوعات شامل ہیں۔