Wed, September 16, 2026

عرفان صدیقی صاحب ۔۔۔ یادیں اورباتیں !

عرفان صدیقی صاحب ۔۔۔ یادیں اورباتیں !

یادش بخیر ہفت روزہ’’ تکبیر ‘‘کراچی کا ذکر کرنا ہے تو سچی بات ہے، دل دکھتا ہے کہ اتنا جامع، مستند اور معتبر نیوز میگزین جس کی اشاعت بلا شبہ ہزاروں میں بلکہ شاید اس سے بھی زیادہ تھی اور گزشتہ صدی کے اسی کے عشرے کے نصف آخر اور نوے کے عشرے کے نصف اول کے دس بارہ برسوں کے دوران اس کا طوطی بولتا تھا وہ اپنے ہی لوگوں کے ہاتھوں امتداد زمانہ کا ایسا شکار ہوا کہ اس کا کوئی نام و نشان نہ بچا۔ نامور صحافی تجزیہ نگار اور قلمکار محمد صلاح الدین مرحوم جو جماعت اسلامی کے ترجمان اخبار روزنامۂ’’ جسارت‘‘ کراچی کے ایڈیٹر تھے۔ انہوںنے یہ نیوز میگزین جاری کیا تو جلد ہی اس نے ہفت روزہ صحافت کے میدان میںاپنا ایک منفرد اور ممتاز مقام بنا لیا۔ اس کے مشاورتی اور ادارتی عملے ، اس کے شعبہ ٔ تحقیق و تصنیف اور اس کے اندرونِ ملک اور بیرونی ملک خصوصی نمائندوں اور نامہ نگاروں میں بڑے نامور، دانشورصحافی اور تجزیہ نگار شامل تھے۔ بلا شبہ اپنی صوری اور معنوی خوبیوں کے لحاظ سے یہ اپنے دور کا ایک بڑا مستند، معتبر اور خوبصورت ہفت روزہ نیوز میگزین تھا۔ برادر مکرم و محترم عرفان صدیقی مرحوم و مغفور پچھلی صدی کے نوے کے عشرے کے درمیانی برسوں میں اس کے ساتھ وابستہ رہے۔ وہ زیادہ تر مختلف قومی شخصیات کے انٹر ویو کیا کرتے تھے جو اس میں چھپتے تھے۔ ان کے علاوہ بھی ان کے تجزیاتی اور تحقیقی مضامین بھی ہفت روزہ کی زینت ہوا کرتے تھے۔ عرفان صاحب کو ہر ہفتے ہفت روزہ’’ تکبیر ‘‘کے چار پرچے اعزازی طور پر آیا کرتے تھے۔ یہ ان کی عنایت ، نوازش اور کرم فرمائی تھی کہ ان میں دو پرچے میرے حوالے کر دیا کرتے تھے۔ اس طرح میرا ہفت روزہ تکبیر کا قاری ہونے کا شوق پوراہوتا رہا۔ مجھے یہاں یہ لکھنے میں کوئی باک نہیں کہ کئی بار عرفان صاحب کسی شخصیت کے انٹرویو کے لیے جاتے تھے تو مجھے بھی اپنے ہمراہ لے جاتے۔ میں کچھ نوٹس بنا لیتا یا عرفان صاحب اور شخصیت جس کا انٹرویو ہوتا ان کی کیمرے سے کوئی تصویر بنا لیتا۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ یہ ۱۹۹۴ء کی گرمیوں کے دن تھے غالباً جولائی کا مہینہ تھا کہ عرفان صاحب نے معروف سیاسی شخصیت اور قومی رہنما نوابزادہ نصراللہ خان مرحوم جو کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی اس دور کی حکومت میں پارلیمان کی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین تھے کا پارلیمنٹ لاجز میں انٹر ویو لیا۔ نوابزادہ صاحب مرحوم کچھ ہی دن پہلے برطانیہ او ر کچھ دوسرے یورپی ممالک کے دورے سے واپس آئے تھے جہاں انہوں نے مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے لیے مختلف فورمز پر خطاب ہی نہیں کیا تھا بلکہ مختلف لوگوں سے ملاقاتیں بھی کی تھیں۔ نوب زادہ صاحب 
نے اپنے انٹرویو میں مسئلہ کشمیر کے حوالے سے جن خیالات کا اظہار کیا اُن کو سُن کر سچی بات ہے مجھے کچھ مایوسی ہوئی کہ وہ سب نصابی باتیں تھیں جو تعلیمی اداروں میں سٹوڈنٹس کو پڑھائی جاتی ہیں۔ 
انہی دنوں اسی طرح کا ایک انٹرویو برادرِ مکرم وہ محترم عرفان صدیقی مرحوم و مغفور نے گوہر ایوب مرحوم کا لیا۔ گوہر ایوب کا شمار اُس وقت مسلم لیگ ن کے اہم رہنمائوں میں ہوتا تھا کہ وہ میاں نواز شریف کی حکومت میں قومی اسمبلی کے  سپیکر رہے تھے۔ گوہر ایوب کا انٹرویو لینے کے لئے ہم اسلام آباد میں مارگلہ ہلز کے دامن میں ذرا بلندی پر گوہر ایوب کی آبائی رہائش گاہ جو ایک بہت وسیع و عریض کوٹھی تھی میں پہنچے ۔ یہ کوٹھی گوہر ایوب کے والد سابق صدر فیلڈ مارشل محمد ایوب خان نے اپنے دورِ حکومت میں بنوائی تھی اور 1969 ء میں صدرِ مملکت کی حیثیت سے استعفیٰ دینے کے بعد وہ کئی برس تک اس کوٹھی میں مقیم رہے۔ کوٹھی میں داخل ہوتے ہی پورچ میں ایوب خان کا ایک بڑا سا پورٹریٹ لگا ہوا تھا۔ گوہر ایوب خان نے اپنے انٹرویو میں کوئی نئی بات تو نہ کی البتہ مسلم لیگ ن سے اپنی وابستگی تعلق کا بار بار اظہار کیا۔ یہی گوہر ایوب میاں محمد نواز شریف کی دوسری حکومت میں پاکستان کے وزیرِ خارجہ رہے اور جب 1999 ء میں جنرل پرویز مشرف نے میاں محمد نواز شریف کے خلاف اعلانِ بغاوت کر کے حکومت پر غاصبانہ قبضہ کیا تویہ کچھ عرصہ کے بعد مسلم لیگ ن میں میاں محمد نوازشریف کی قیادت کے خلاف مسلم لیگ ن میں بننے والے ہم خیال گروپ میں شامل ہوگئے۔ بعد میں ان کے صاحبزادے عمر ایوب صدر پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں وزیرِمملکت برائے خزانہ بھی متعین رہے ۔ پچھلے چند برسوں سے یہ پاکستان تحریک ِ انصاف میں شامل چلے آ رہے ہیں اور اُن کا شمار تحریکِ انصاف کے اہم رہنمائوں میں ہوتا ہے اور فروری 2024 ء کے عام انتخابات میں وہ ہری پور سے قومی اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے لیکن 9 مئی کے مقدمات میں سزا یافتہ ہونے کے بعد انہیں اپنی سیٹ سے محروم ہونا پڑا اور ابھی کچھ دن قبل منعقد ہونے والے ضمنی انتخابات میں اُن کی اہلیہ محترمہ نے حصہ لیا اور ناکامی سے دوچار ہوئیں۔ مجھے یاد ہے کہ ہفتہ روزہ ’’تکبیر ‘‘ کے لئے میجر ریٹائرڈ عامر صاحب کا انٹرویو لینے کے لئے میں عرفان صاحب کے ساتھ میجر صاحب کے آبائی گائوں پنج پیر ضلع صوابی میں بھی گیا۔ عزیزِ مکرم اسماعیل قریشی بھی ہمارے ہمراہ تھے ۔اُن دنوں محترمہ بینظیر کی حکومت تھی اور میجر جنرل نصیر اللہ خان بابر اُن کے وزیرِ داخلہ تھے۔ جنرل نصیر اللہ نے میجر عامر کے خلاف کریک ڈائون کر رکھا تھا کہ میجر عامر محترمہ بینظیر کے پہلے دورِ حکومت میں مِڈ نائٹ جیکال نام کے ایک خفیہ آپریشن کے تحت محترمہ بینظیر کی حکومت کو ختم کرنے میں آئی بی کے سابق سربراہ بریگیڈئیر ریٹائرڈ امتیاز مرحوم کے ساتھ شریک رہے تھے۔ میجر عامرحکومتی آپریشن کے تحت گرفتاری سے بچنے کے لئے پنج پیر میں اپنے آبائی گھر میں جس کے ساتھ ایک بہت بڑا مدرسہ اور مسجد بھی ہے رو پوش تھے۔ میری اور اسماعیل قریشی صاحب کی تو میجر عامر سے ملاقات نہ ہوئی لیکن عرفان صاحب نے اُن کا مفصل انٹرویو لیا جو ہفتہ روزہ ’’تکبیر‘‘ کی اگلی اشاعت میں شائع ہوا۔ 
برادرِ مکرم و محترم عرفان صدیقی صاحب کے جس انٹرویو کو بہت شہرت ملی وہ مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف کا انٹرویو تھا جو عرفان صاحب نے مدیرِ تکبیر محمد صلاح الدین شہید کی معیت میں جاتی عمرہ لاہور میں لیا تھا۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ اس انٹرویو کی باز گشت بہت عرصے تک سنائی دیتی رہی۔ انٹرویو کے آغاز میں محمد صلاح الدین مرحوم نے عرفان صاحب کا تعارف کراتے ہوئے یہ جملہ بھی بولا تھا کہ پاکستان میں اس وقت ان سے بڑھ کر خوبصورت، جامع اور مستند انٹرویو لینے والا کوئی اورنہیں ہے۔ میں نے بعد میں عرفان صاحب سے پوچھا کہ میاںصاحب کے بارے میں بڑا مشہور ہے کہ وہ سری پائے ، بونگ، نہاری وغیرہ کھانے کھلانے کے بہت شوقین ہیں تو کیا انہوں نے آپ کی بھی انہی ڈشوں سے مدارت کی ۔ عرفان صاحب کا جواب تھا کہ میاں صاحب نے ہمارے لئے پُر تکلف ظہرانے کا اہتمام کر رکھا تھا اور وہ خود آگے بڑھ کر مختلف ڈشیں ہمیں پیش کرتے رہے لیکن یہ جو سری پائے ، بونگ اور نہاری وغیرہ کی اُن کے بارے میں جو خبریں وغیرہ پھیلائی جاتی ہیں ان میں کچھ حقیقت نہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ محترم عرفان صاحب کا یہ انٹرویو بعد میں میاں محمد نواز شریف سے اُن کے مضبوط تعلق کی راہ ہموار کرنے کا ایک ذریعہ بنا۔ 1996 ء میں بینظیر کی حکومت کو انہی کی پارٹی سے تعلق رکھنے والے فاروق لغاری نے بر طرف کر دیا تو فروری 1997 ء میں ملک میں عام انتخابات ہوئے جن میں مسلم لیگ ن نے قومی اسمبلی میں دو تہائی سے بھی زیادہ اکثریت حاصل کر لی۔ سید مشاہد حسین جو بعد میں سینیٹر بنے اور انہوں نے وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات کا منصب سنبھالا، انہوں نے عرفان صاحب سے رابطہ کر کے انہیں وزیرِ اعظم کے تقریر نویس کی ذمہ داری سونپی۔ عرفان صاحب نے یہ ذمہ داری چند ماہ ہی نبھائی ہو گی کہ 1998 ء کے اوائل میں نومنتخب صدرِ مملکت محمد رفیق تارڑ مرحوم نے عرفان صاحب کو ایوانِ صدر میں اپنا پریس سیکریٹری یا میڈیا ایڈوائزر مقرر کیا تو اس طرح ایوانِ اقتدار و اختیار میں اُن کی براہِ راست رسائی کی راہ ہموار ہوئی ۔    (جاری ہے)

ٹیگز: