اسلام آباد: ڈی ایچ اے اسلام آباد میں مون سون شجرکاری مہم کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا، مہم کے دوران تقریباً 50 ہزار مقامی اور پھل دار درخت لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
شجرکاری مہم میں طلبہ و طالبات، یونیورسٹی طلبہ، نوجوانوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے بھرپور شرکت کی۔ نوجوانوں نے مختلف مقامات پر پودے لگا کر ماحولیاتی تحفظ کے لیے اپنی ذمہ داری کا عملی مظاہرہ کیا۔
شرکاء کا کہنا تھا کہ پاکستان کو سرسبز و شاداب بنانے کے لیے شجرکاری کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے بڑھتے ہوئے منفی اثرات سے نمٹنے کے لیے ملک میں درختوں کی تعداد میں اضافہ کرنا ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ درخت فضائی آلودگی میں کمی، صاف ہوا کی فراہمی اور موسمی شدت کے اثرات کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ مقامی اور پھل دار درختوں کی زیادہ سے زیادہ افزائش نہ صرف ماحول کو بہتر بنانے میں مدد دے گی بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی محفوظ اور صحت مند مستقبل کی بنیاد بنے گی۔
شرکاء نے کہا کہ نوجوان نسل کو شجرکاری اور ماحولیاتی تحفظ کی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیے۔ سرسبز پاکستان کے لیے اجتماعی کوششوں کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ شجرکاری صرف ایک دن کی سرگرمی نہیں بلکہ مسلسل قومی ذمہ داری ہے۔ پودے لگانے کے ساتھ ان کی نگہداشت اور افزائش بھی ہر فرد کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ آج لگایا گیا ایک پودا مستقبل میں آنے والی نسلوں کے لیے قیمتی اثاثہ ثابت ہو سکتا ہے۔
ڈی ایچ اے اسلام آباد کی مون سون شجرکاری مہم کا مقصد ماحول دوست اور سرسبز معاشرے کے قیام کو فروغ دینا ہے۔ شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صاف، صحت مند اور سرسبز پاکستان کے لیے ہر فرد اپنا کردار ادا کرے گا۔