Wed, September 16, 2026

ہرگز نمیرد آں کہ دلش زندہ شد بعشق

ہرگز نمیرد آں کہ دلش زندہ شد بعشق

نجانے کیا ہوا کہ تمام مظاہرِ فطرت نے ہمارے خلاف ایکہ کر لیا۔ مون سون بارشوں کے عنوان سے پے در پے حملے سمندروں سے چل پڑے۔ خلیج بنگال اور بحیرئہ عرب ہم سے دشمنی پر اتر آئے۔ مہینوں کی بارش چند گھنٹوں میں دیوانی غضبناک لہروں میں ڈھل کر سڑکوں کا حوصلہ آزمانے لگی۔ نکاسیٔ آب سے بے غم انتظامیہ، الل ٹپ تعمیرات ، بلا منصوبہ بندی۔ پہلے بارش، بارانِ رحمت، لگے بندھے طے شدہ موسم تھے۔ اب ہر طرف موسمیاتی بحرانوں کے تذکرے ہیں۔ پہلے صرف کہر ہوتی تھی اب سموگ ساری آکسیجن نگل جاتی ہے سانس اٹکنے لگتا ہے۔ دھواں دھار دھواں آسمانوں کا حسن، نگاہ کی بینائی نگل جانے کو ہوتا ہے۔
 اب ہر طرف ’برسٹ‘ (بوچھاڑ) کا تذکرہ ہے۔ ’امریکی جنگ برائے دہشت گردی‘ ختم ہوئی تو ہم نے جانا کہ اب توپوں ، ہیلی کاپٹروں، ڈرونوں کے ڈرائونے برسٹ ختم ۔ سکھ سے جئیں گے۔ مگر پھر یہی سب بلکہ انسانی تاریخ کے بدترین برسٹ غزہ میں ’حیوانہ وار‘ ٹوٹ پڑے۔ ٹنوں بارود پھٹ پڑا۔ زمین کی تہوں ، ہوائوں ، فضائوں میں اتر گیا۔ اس سے پہلے امریکہ نے ہمارے ہمسایہ ملک میں ’ڈیزی کٹر‘ میزائل بے رحم برسائے۔ ڈیزی، گل بہار سفید نرم و  نازک پتیوں اور پیلے بور دانے والا پھول! ننھے معصوم بچوں کا سا حسن ! اب اسرائیل کی بے رحمی دیکھ کر سمجھ آیا کہ یہ تو مسلمان بچوں کے درپے رہے ہیں۔ اب کہہ بھی دیا 
اسرائیلیوں نے کہ ہم نے پہلے حماسی مار دیے ہوتے (جب بچے تھے) تو 7اکتوبر کا دن نہ دیکھنا پڑتا۔ اس سے ان کی نفسیات پڑھیے!یہی بارود بہت بڑا عنصر ہے موسمیاتی بحران کا۔ہاں تو تذکرہ تھا برسٹ کا۔ ہم 20سال امریکہ کے ہمہ جہت اتحادی مددگار رہے۔ برسٹ جو مارے گئے، ہمارے ہوائی اڈے، سبھی شاہراہیں استعمال ہوئیں۔ پھر غزہ شروع ہو گیا ہم چپ رہے۔ محتاط نیم دلانہ بیانوں کبھی کبھار کی مدد بھیجنے کے سوا۔ اہم کردار جو ایٹمی پاکستان، قائداعظم کے کڑے موقف بسلسلہ اسرائیل کے شایانِ شان ہوتا۔ یا اسرائیل پر پالیسی ، لیاقت علی خان کے امریکہ میں بیان کے مطابق ہوتی۔ (اسرائیل تسلیم کرنے کے سوال پر مضبوط لہجے میں کہا :’ہماری روحیں برائے فروخت نہیں ہیں!‘ ) آج ہم امریکی جنگ، قرضوں، کرپشن کے ہاتھوں اتنے کمزور ہو گئے کہ گھر کا قیمتی ترین اثاثہ بیچنا پڑ گیا، یعنی نظریۂ پاکستان (اسلامی شناخت) بیچا۔ لہلہاتا خطہ ریگ زار بنا ڈالا یا پھر بھارتی چھوڑے گئے سیلابوں میں غرقاب! کھیرے، پیار، ٹماٹر ، لہسن، ادرک، پھل تک سے تہی دامن ہو گئے۔ ہر سطح پر پیسہ کہاں جاتا رہا۔ ڈیم کیوں نہ بن سکے؟ نکاسیٔ آب نظام سے صوبائی دارالخلافے، تمام بڑے شہر کیوں محروم رہے۔ اتنی قسموں کے ’برسٹ‘ کیوں اللہ ہمیں مارے جا رہا ہے۔ گلیشیئر بھی برسٹ ہو گئے !
ہمارے ہاں قطبین کے بعد دنیا میں سب سے زیادہ یعنی 13ہزار سے زائد گلیشیئر ہیں۔ جن میں سے 33خطرناک ہیں۔ خوف ہے کہ پھٹ نہ پڑیں۔ اب ہم ’گلوف‘ کی اصطلاح سن رہے ہیں۔ گلیشیئر پگھل کر جو جھیلیں بنتی ہیں وہ اچانک بے حساب پانی کا برسٹ دے مارتی ہیں اور وہ قابو سے باہر ہو کر سبھی کچھ کر گزرتا ہے۔
 7.1ملین بلتستان گلگت، نیز کے پی میں آبادی نشانہ بن سکتی ہے۔ اور یہ غریب آبادیاں ہیں 26.7 فی صد خطِ غربت سے نیچے جو زد میں ہیں۔ پورا پاکستان انہی عوامل، بادل پھٹنے اور فلیش فلڈ اچانک بلا اطلاع بن بلائے ٹوٹ پڑنے کی بلا میں گرفتار ہے۔ حتیٰ کہ اتوار پیر کی درمیانی رات زمین بھی بپھر گئی اور زلزلے نے ہلا مارا۔ خبریں پڑھتے اور مناظر دیکھتے ہیں تو وہی ٹینٹ ، بے دخلی، سکول بچوں کی بجائے بے گھر خاندانوں کا مسکن، خواتین بچوں کی کسمپرسی۔ غزہ کے سارے منظر یہاں آگئے۔ ایک ہفتے میں سیلاب سے 40لاکھ تک متأثر َ ہو ئے! وہاں زمین ہلاکت خیز بمباریوں سے لرزتی تھی۔ یہاں زلزلے سے، شدید کڑک گرج چمک سے لرزتی ہے۔قدرتی آفتیں یک جا ہو گئیں۔ ہم اپنے فرائض بھول گئے مقام بھول گئے تو فطرت کا ہر مظہر ہماری گستاخیوں، حد شکنیوں، طاغوتی طغیانیوں پر پھٹ پڑا۔   
سیلاب قدموں تلے تھے۔ ادھر خوبصورت آوازوں کے انتخاب کے آڈیشن کا ملک گیر اختلاطی مقابلہ تھا۔ سیر و سیاحت کے فکر، غم، سجدہ ، دعا سے بے نیاز تھے۔ استغفار کا تو ذکر ہی کیا۔ تصورِ زندگی ہی یہ ہے کہ ’ہم نے کون سا گناہ کیا ہے!‘ راگ رنگ، حرام دوستیاں،لاہور میں قومِ لوط سے یک جہتی کا اظہار، رشوت، چور بازاری، سود کا دور دورہ، وراثتی ہیر پھیر، فحاشی و عریانی ، کم لباسی کچھ بھی تو گناہ نہیں۔ اس ہولناک منظرنامے میں ملکی و غزہ کی تباہی کے باوجود ہماری ترجیحات ؟ 15-27ستمبر بچیوں (عمر 9تا 15سال) کو Cervixکینسر سے آگاہی دینے اور ان کی ویکسی نیشن ! اسے ہم پبلک ہیلتھ کا بڑا سنگ میل (ترقی) کہہ کر متعارف کروا رہے ہیں جو ایک اضحوکا ہے۔ اتنی چھوٹی عمر میں 9سالہ بچی کو اس کے جسم کے نازک، حساس ، حیا طلب ، جغرافیائی مقامات سے آگاہی دینا؟ رہا یہ کینسر تو اعدادو شمار کی ہیرا پھیری چھوڑیے۔ ناقص غذائوں، آلودہ پانی، ہسپتالوں اور طبی سہولیات کی شدید کمی اور عدم فراہمی۔ معدہ، جگر، گردے، دل، انتڑیاں سبھی جواب دے رہے ہیں۔ رہی سہی کسر بازاری ناقص خوراک، فوڈ پانڈوںکے ہاتھوں، مضرِ صحت بوتلوں رنگ برنگے مشروبات ان بچیوں کی جان کے زیادہ بڑے دشمن ہیں۔ کووڈ میں ہم ویکسینوں کے سکینڈل، مابعد اثرات، اموات تک بھگت چکے ہیں۔ بین الاقوامی ادارے ہماری جان بخشی کریں۔ ایک طرف مسلمانوں کو، مغربی حکومتیں، ادارے ختم کرنے کے در پے ہیں۔ ہمیں فراہم کیے جانے والے نت نئے پیکج ہماری نسلوں کی بربادی کا سامان لاتے ہیں۔ (بانجھ پن دینا تحدیدِ آبادی ان کے پروگراموں کا اصل ہدف ہے !) صرف غزہ میں امدادی ادارے GHFکے ہاتھوں امریکہ اسرائیل کے حقیقی عزائم کردار دیکھ لیجیے! والدین ہوشیار باش! اساتذہ اپنی ذمہ داری پہچانیں۔ یہ بچیاں قوم کی امانت ہیں۔ حقیقی ترقی جو درکار ہے اس کی کہانی سیلاب سنا رہے ہیں۔ ڈیم ، نہریں عنقا!
باہر دنیا کے مناظر دیدنی ہیں۔ نیویارک پوسٹ کا پول بتاتا ہے کہ 60فی صد امریکی نئی نسل حماس کو اسرائیل پر ترجیح دیتی ہے۔ ایک اور پول میں60فی صد امریکی ووٹر اسرائیل کی فوجی امداد کی مخالفت کر رہے ہیں۔ الٹرامیراتھان فرانس میں جیتنے والا چینی فلسطینی جھنڈا بلند کرتا ہے اور منہ پر ہاتھ رکھ کر خاموشی اس ظلم پر، کے خلاف احتجاجی ہے! لوگ جوق در جوق دنیا میں اسلام قبول کر رہے ہیں۔ جاپان میں یہ شرح تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ میکسیکو، جرمنی، برازیل، آسٹریلیا ہر طرف اشتیاق بڑھ رہا ہے۔ ایک سیاہ فام کو جب قرآن (مغرب میں صرف ترجمے والے قرآنِ پاک عام تقسیم کے لیے ہوتے ہیں) دیا جاتا ہے تو وہ خوشی سے دیوانہ ہو جاتا ہے۔ کیا واقعی یہ قرآن ہے۔ میں ضرور پڑھوں گا! ہم ہوئے کافر، تو وہ کافر مسلماں ہو گیا۔ سیلاب کیوں  نہ امڈیں ہر جا! 
ابوعبیدہ ! وہ تو ہر صورت کامیابی کا شاندار استعارہ ہے! بھیانک شکست امن نوبل انعام کے حریص 
ٹرمپ اور نیتن یاہو… دونوں کا مقدر ایک ہے باذن اللہ۔بی بی سی نے اسرائیلی ذرائع کے حوالے سے ابوعبیدہ کی ’شہادت‘ رپورٹ کی ۔ 5 میزائل 6منزلہ عمارت پر دو اطراف سے دوسری اور تیسری منزل پر برسائے۔ عینی شاہد نے بتایا ہر طرف خون ہی خون تھا لوگ چہرے پر خون لیے، ننھے زخمی بچے خون آلود تھے۔ ابوعبیدہ حفظہ اللہ یا زندہ ہیں یا بہت زیادہ زندہ ہیں۔ ہرگز نمیرد آں کہ دلش زندہ شد بعشق! البتہ مارنے کی کوشش میں مرے جانے والے مر مر جا رہے ہیں۔ البتہ امِ ابراہیم ، ایلیہ ابوعبیدہ اور ان کے بچے صبر و ثبات، ایمان و عزیمت کی بے پناہ مشکل زندگی گزار کرشہادت پا چکے ۔ جب نیتن یاہو کی بیوی کے لیے چارٹر جہاز میں آئس کریم یورپ سے آتی تھی، امِ ابراہیم اور بچوں کے پاس آیاتِ قرآنی قوت کا واحد ذریعہ تھیں۔ بے دخلی کی شدتوں کے شب و روز ان کے گزر گئے۔ اب راحتوں ، رب تعالیٰ کی میزبانی کے عظیم اعزاز کے دروازے سب کھل گئے۔ رہے ابوعبیدہ!! اللہ سلامتی دے انھیں۔ دنیا بھر میں نئے ابوعبیدہ تیار ہو گئے ہیں۔ غزہ اسی کی فیکٹری ہے! 
جبل الطارق سے جہاں طارق بن زیادؒ نے کشتیاں جلائیں،کشتیوں کے قافلے قدس کی مدد کو روانہ ہو ئے ۔ اٹلی میں ان کے استقبال میں ہزارہا لوگ جذبات، احساسات کی شدتیں لیے، روشنیوں سے ساری تاریک دنیا روشن کر تے رہے! اللہ اکبر! جب ہم سیلاب میں کشتیاں اتار کر مجبور بے گھر ہم وطنوں کو سنبھال رہے ہیں! سوچئے گا ضرور!

ٹیگز: