Wed, September 16, 2026

”لاتوں کے بھوت....“

”لاتوں کے بھوت....“

 چوپال سجی ہوئی تھی۔ سب ایک دوسرے سے محو گفتگو تھے۔ اتنے میں چپ سائیں آئے۔ سب احتراماً کھڑے ہوگئے۔ چپ سائیں نے بیٹھنے کااشارہ کیا ۔۔۔ نتھو اورپھتو نے پانی دیا۔ پانی پینے کے بعد چپ سائیں نے سب کا حال احوال پوچھا۔۔ سب نے بیک زبان الحمدللہ کہا۔۔۔ اسی اثنا میں چا چا رشید بھی چوپال میں آئے۔۔ چا چا رشید نے کہا کہ کیا حال ہے بھئی دوستو!۔ سب نے کہا بھلے چنگے ہیں آپ بتائیں ۔ ۔ اس پرچا چا رشید نے کہاکہ سائیں جی آج ایک عجیب سی کشمکش ہے۔ اجازت ہو تو عرض گزار کروں۔ اس پر چپ سائیںنے کہا کیوں نہیں بھائی رشید بتاﺅ۔ اس پر چاچا رشید نے بولنا شروع کیا۔۔ کہا سائیں جی ۔ میرے پوتے نے مجھ سے سوال کیا ہے کہ ؟ دادا جی یہ لاتوں کے بھوت کیا ہوتا ہے؟۔۔کیا کوئی بھوت بغیر لاتوں کے بھی ہوتا ہے؟ اس پر سب ہنس دیئے۔سائیں جی نے کہاکہ بھائی رشید آج کل کے بچے بہت زیادہ سیانے ہیں۔خیر بھائی دوستو میں آپ کو آج ”لاتوں کے بھوت“ کا مطلب سمجھانے کی کوشش کروں گا۔ 
چپ سائیں نے کہا بھائی دوستو!۔ اس دنیا میں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ ان کو کچھ کہنے سکھانے کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ وہ ہر کام ایک بار سمجھنے اور سیکھنے کے بعد خود ہی سر جھکائے کرنے کے عادی ہوجاتے ہیںاور کبھی شور شرابا تک نہیں کرتے نہ ہی کبھی تنگ کرتے ہیں۔ یہ کہنے کے بعد چپ سائیں چپ کرگئے۔۔ دوبارہ گویا ہوئے لیکن اس کے الٹ ایک ایسا گروہ بھی ہوتا ہے جس نے ہر کام الٹا کرنے کی قسم کھائی ہوتی ہے۔وہ کام بگاڑتے پہلے اور سدھارتے بعد میں ہیں ۔ ان کو پھر خوب سننا پڑتی ہے۔ اسی وجہ سے یہ کہاجاتا ہے کہ یہ” لاتوں کے بھوت ہیں باتوں سے نہیں مانتے“۔۔خیر دوستو اب میں کچھ مثالیں دیتا ہوں۔
چپ سائیں نے کہاکہ بھلے وقتوں کی بات ہے کہ باپ اور بزرگ اپنے بچوں کو مسجد میں لے جایا کرتے تھے۔ لیکن دلچسپ امر یہ ہے کہ کچھ شرارتی بچے اپنے والدین کے ساتھ مسجد جاتے تو 
ضرور تھے لیکن جیسے ہی جماعت کھڑی ہوتی وہ پچھلی صف سے مسجد سے باہر۔۔۔ ایک روز کسی شریف والد نے پچھلی صفوں پر نہ پایا۔۔۔ گھر جاتے ہیں ڈنڈا اٹھایا اور برخوردار کی خوب دھلائی کی۔۔۔ جب غصہ ٹھنڈا ہوا تو۔۔ پھر پوچھا۔۔۔بتاﺅ۔۔ کہاں غائب تھے؟۔۔۔ بچے نے جواب دیا۔۔۔ میں تو آپ کے ساتھ ہی نماز پڑھنے گیا تھا۔ اس پر والد صاحب دوبارہ غصے میں آئے۔۔ کہنے لگے سیدھی طرح سے بتاتے ہویا۔۔ دوبارہ شروع ہو جاﺅں۔۔ پھر بڑبڑانے لگے۔۔ یہ لاتوں کا بھوت ہے۔۔باتوں سے نہیںمانے گا۔۔۔ اس پر شرارتی بچہ۔۔ کھسیانی آواز میں بولنے لگا۔۔۔ بابا جان آپ نماز پڑھنے جاتے ہیں یا کہ میرا دھیان رکھنے۔۔۔چپ سائیں کی یہ بات سن کر سب ہنس دیئے۔۔۔
چپ سائیں نے پھر کہا دوستو! مثالیں تو بہت ہیں۔۔ خیر اب استاد شگن کی مثال لو۔۔ پاس کے سکول میں کسی زمانے میں ہیڈ ماسٹر ریٹائرڈ ہوا ۔۔ وہ سکول ٹیچر سے عہدے پر ترقی پاکر ہیڈ ماسٹر بنا۔۔ اس کے بارے میں کہاجاتا تھا کہ یہ مارتا بھی بہت ہے اور گھسیٹتا بھی بہت ہے۔۔ ایک روز میں نے گزرے وقتوں میںہمت کرکے پوچھ ہی لیا۔۔ بھائی آپ کے بارے میں ایسا کیوں مشہور ہے۔ اس پر استاد شگن نے کہاکہ آئیں سائیں جی آج میرے ساتھ سکول چلیں۔ میں اس کے ساتھ ہولیا۔۔ اس نے کلاس میں ایک کونے میں مجھے بیٹھنے کا اشارہ کیا اور کہا صرف خاموشی سے نظارہ کروں۔۔ استادشگن نے پہلے بینچوں سے سبق سنا۔۔ دس ،بارہ سٹوڈنٹس نے تو سنادیا۔۔ خوب شاباشی لی۔۔ اس کے بعد وہ پچھلے بینچوں کی طرف آگئے۔۔ سٹوڈنٹس نے سبق سنانے کی بجائے حیلے بہانے تراشے ، استاد شگن نے ان کو کھڑاکردیا اور سبق یاد کرنے کا کہا۔ اس پرشریر بچوں نے سبق یاد کرنے کی بجائے ایک دوسرے کوتنگ کرنا شروع کیا۔ استاد شگن پہلے تو خاموش رہے ، پھر زبان سے سمجھایا۔۔ پر بچوںنے طوفان بدتمیزی برپا کردیا۔۔ اس پر استاد شگن نے آﺅ دیکھا نہ تاﺅ۔۔ ڈائس سے لال ٹیپ والا گول ڈنڈا نکالا اورشریروں کی خوب ٹھکائی کی۔۔پھر کرسی پر آکر بیٹھ گئے۔۔ کہا۔۔ سائیں جی۔۔ یہ لاتوں کے بھوت ہیں اور ان پر باتوں کا اثر نہیں ہوتا۔۔۔۔ سائیں جی کی یہ بات سن کر سب پھر ہنسنے لگے۔۔
چپ سائیں توقف کے بعد گویا ہوئے کہ چوپال کے دوستو اور بچو ! بعض لوگ یا حالات صرف بات چیت، نصیحت یا سمجھانے سے نہیں سدھرتے، بلکہ انہیں سخت اقدامات یا عملی طور پر سنبھالنا پڑتا ہے۔یہ محاورہ زندگی کے مختلف پہلو¶ں میں صادق آتا ہے۔ مثال کے طور پر، اگر کوئی شخص بار بار غلط کام کر رہا ہو، اور ہم اسے صرف باتوں سے سمجھانے کی کوشش کریں، تو اکثر ایسا شخص اپنی غلطی نہ سمجھ کر پھر سے وہی عمل دہراتا ہے۔ ایسے میں محاورے کے مطابق سخت رویہ یا عملی اقدام ضروری ہوتا ہے تاکہ صورتحال قابو میں آ سکے لہٰذا نرمی کے ساتھ ساتھ سختی بھی ضروری ہے، صرف ڈنڈا دکھانا ہی مقصود نہیں لہجے میں شیرینی کی بھی ضرورت ہوتی ہے تاکہ معاملہ حل ہو اور مسئلے کا حل تلاش کیا جاسکے۔
چپ سائیں نے سرد آہ بھری۔۔ چپ کرگئے اور پھر کہاکہ انسان یا معاشرہ اکثر صرف نرمی اور بات چیت پر ہی ردعمل نہیں دیتا۔ بعض اوقات قوت، حوصلہ اور عملی اقدام کے بغیر بہتری ممکن نہیں۔انسانی فطرت ایسی ہے کہ بعض اوقات نرمی اور مہربانی کا فائدہ اٹھا کر لوگ اپنی مرضی کے مطابق چلنے لگتے ہیں۔ اگر ایسے افراد یا حالات کو قابو میں لانے کے لیے سختی اور عملی اقدام نہ کیا جائے، تو مسئلہ مزید بگڑ سکتا ہے۔ اس لیے یہ کہاوت ہمیں یہ سمجھاتی ہے کہ بعض اوقات حالات کے مطابق تدبیر اور عملی قوت اختیار کرنا ضروری ہے۔ کامیابی اور اصلاح کے لیے حوصلہ، محنت، عملی اقدام اور فیصلہ کن رویہ ضروری ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر تاریخ میں کئی ایسے حکمران اور قائدین دیکھے گئے ہیں جنہوں نے اپنے ملک یا معاشرے میں نظم و ضبط قائم کرنے کے لیے سخت اقدامات کیے، اور یہی اقدامات ان کے کامیاب ہونے کی بنیاد بنے۔
''لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے'' ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ بعض اوقات صرف بات یا نصیحت کافی نہیں ہوتی، بلکہ عملی اقدامات اور سختی اختیار کرنا ضروری ہوتا ہے۔ ۔۔۔ باقی رہے نام اللہ کا!۔

ٹیگز: