برصغیر اور وسطی ایشیا کے سنگم پر واقع دو ہمسایہ ممالک، پاکستان اور افغانستان، صرف جغرافیائی نہیں بلکہ تاریخ، ثقافت اور ایمان کے رشتوں میں بھی بندھے ہوئے ہیں۔ صدیوں سے قافلے اِس سرحد کو پار کرتے رہے، خاندان بٹتے بھی رہے اور جڑتے بھی۔ مگر بدقسمتی سے گزشتہ چند دہائیوں میں یہ سرحد صرف تجارتی گزرگاہ نہیں رہی بلکہ سیکیورٹی خدشات اور بداعتمادی کی علامت بنتی چلی گئی۔
سوال یہ ہے کہ کیا یہ صورتحال دونوں ممالک کے مفاد میں ہے؟ یقینا نہیں۔
افغانستان میں طویل جنگوں، بیرونی مداخلت اور اندرونی انتشار نے پورے خطے کو متاثر کیا۔ اس کے اثرات پاکستان تک بھی پہنچے۔ دہشت گردی کی لہر، سرحدی دراندازی اور غیر یقینی حالات نے پاکستان کی داخلی سلامتی کو چیلنج کیا۔ ایسے میں پاکستان کا یہ مؤقف فطری اور جائز ہے کہ اس کی سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہ ہو اور نہ ہی کسی اور کی زمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو۔ یہی بین الاقوامی تعلقات کا بنیادی اصول ہے۔
پاکستان نے مغربی سرحد پر باڑ کی تنصیب، جدید نگرانی کے نظام اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے ذریعے اپنی سلامتی کو مضبوط بنانے کی کوشش کی۔ ان اقدامات کا مقصد محاذ آرائی نہیں بلکہ نظم و ضبط اور قانون کی عملداری کو یقینی بنانا ہے۔ ریاست کی پہلی ذمہ داری اپنے شہریوں کا تحفظ ہوتی ہے اور اسی اصول کے تحت یہ فیصلے کیے گئے۔
اسی تناظر میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے دور میں فوجی حکمت عملی کو ایک واضح سمت دی گئی ہے—اندرونی استحکام، دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائی اور قومی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہ کرنا۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے متعدد مواقع پر اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے، مگر اپنی سرحدوں اور شہریوں کے تحفظ پر کوئی کمزوری برداشت نہیں کرے گا۔ یہ پیغام جارحیت کا نہیں بلکہ ذمہ دارانہ ریاستی طرزِ عمل کا عکاس ہے۔ تاہم حقیقت یہ بھی ہے کہ بندوق کی آواز دیرپا امن کی ضامن نہیں بن سکتی۔ پاکستان اور افغانستان دونوں کے عوام غربت، بیروزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی جیسے مسائل سے دوچار ہیں۔ اگر وسائل کا رخ تصادم کی طرف موڑا جائے گا تو نقصان دونوں طرف ہوگا۔ اس کے برعکس اگر توجہ تجارت، سرحدی تعاون اور علاقائی روابط پر دی جائے تو پورا خطہ فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
پاکستان بارہا یہ بات دہرا چکا ہے کہ وہ ایک مستحکم اور پْرامن افغانستان دیکھنا چاہتا ہے۔ اس کی وجہ محض سفارتی بیان بازی نہیں بلکہ عملی حقیقت ہے۔ ایک غیر مستحکم افغانستان پاکستان کے لیے بھی مسائل کا سبب بنتا ہے اور ایک پْرامن افغانستان پورے خطے کے لیے ترقی کے دروازے کھولتا ہے۔ وسطی ایشیا تک رسائی، توانائی کے منصوبے اور تجارتی راہداریوں کا خواب اسی وقت شرمندہ تعبیر ہو سکتا ہے جب سرحد کے دونوں طرف اعتماد بحال ہو۔
یہ وقت الزام تراشی کا نہیں بلکہ ذمہ داری کا ہے۔ افغانستان کو بھی یہ ادراک ہونا چاہیے کہ کسی بھی مسلح گروہ کی سرگرمی، جو ہمسایہ ملک میں بدامنی پھیلائے، بالآخر خود اس کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔ اسی طرح پاکستان کو بھی سفارتی رابطوں اور عوامی سطح پر اعتماد سازی کے عمل کو جاری رکھنا ہوگا۔ بیان بازی میں احتیاط، میڈیا میں ذمہ داری اور پس پردہ سفارت کاری—یہ سب عوامل مل کر کشیدگی کو کم کر سکتے ہیں۔
قیادت کا امتحان مشکل گھڑیوں میں ہی ہوتا ہے۔ فیلڈمارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان کی سیکیورٹی پالیسی نے ایک واضح پیغام دیا ہے: امن اولین ترجیح ہے، مگر سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں۔ یہ توازن ہی دراصل ریاستی حکمت کا مظہر ہے۔ ایک طرف دہشت گردی کے خلاف سخت کارروائی، دوسری طرف ہمسایہ ملک کے ساتھ بات چیت کے دروازے کھلے رکھنا—یہی وہ راستہ ہے جو خطے کو تصادم سے نکال کر تعاون کی طرف لے جا سکتا ہے۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ دونوں ممالک جذبات کے بجائے تدبر سے کام لیں۔ سرحدیں جغرافیہ بناتی ہیں، مگر تعلقات عقل اور نیت سے بنتے ہیں۔ اگر نیت امن کی ہو اور حکمت عملی مستقل مزاجی سے اپنائی جائے تو بداعتمادی کی دیواریں گر سکتی ہیں۔آخرکار پاکستان اور افغانستان کا مستقبل باہم جڑا ہوا ہے۔ ایک کی آگ دوسرے کو بھی جلا سکتی ہے اور ایک کا استحکام دوسرے کے لیے بھی روشنی بن سکتا ہے۔ انتخاب دونوں قیادتوں کے ہاتھ میں ہے—تصادم یا تعاون۔ امید یہی کی جانی چاہیے کہ دانشمندی غالب آئے گی اور سرحد کے اْس پار اور اِس پار بسنے والے عوام ایک پْرامن اور خوشحال کل کی طرف قدم بڑھا سکیں گے۔