Wed, September 16, 2026

اعزازی تلوار کی چوری

اعزازی تلوار کی چوری


اپنی مرضی سے جینے کے حق کو استعمال کرتے ہوئے میں گزشتہ چار برس سے اپنی سوچ کے مطابق جی رہا ہوں۔ اس سوچ کی تشکیل میں بعض ٹی وی چینلز پر مسلسل نظر آنے والے مبصرین کا اہم کردار ہے جو ملک کی ترقی، امن و امان کی بہتری، مہنگائی کم ہونے اور عنقریب ملک پر ڈالروں کی بارش اور ملک کے بعض حصوں سے معدنی تیل کے ذخائر کی خوش کن خبریں سناتے رہتے ہیں۔ اپنے آس پاس ڈھیروں خوش خبریوں کی موجودگی میں خوشیاں بانٹنے کیلئے میں نے عیدالاضحی لاہور سے باہر اہل خانہ کے ساتھ منانے کا فیصلہ کیا۔ میری طرح یہ فیصلہ لاہور کی دو کروڑ کی آبادی میں لاکھوں افراد کرتے ہیں۔ ان میں بہت کم ایسے خوش قسمت ہوتے ہیں جنہیں واپسی پر گھر سلامت ملتا ہے۔ تعطیلات عید ختم ہوئیں، میں گھر پہنچا تو رات گہری ہو چکی تھی۔ دیکھا کہ پورے گھر کی بتیاں جل رہی ہیں۔ پورچ میں پہنچا تو دیکھا تالے ٹوٹے ہوئے ہیں۔ اندر داخل ہوا تو نظر آیا ہر کمرے پر الماری کا در کھلا ہے اور گھر کا مکمل صفایا ہو چکا۔ صفائی کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ الیکٹرانک سامان، مردانہ زنانہ سلے ان سلے ملبوسات، گھڑیاں، موبائل فون، کراکری، پاٹری، کٹلری متعدد سوٹ کیس بریف کیس، کیمرے، درجن بھر سے زیادہ زنانہ مردانہ نئے جوتے، استری، بیڈکور، چادریں، تولئے، ایمرجنسی لائٹیں، سووینئر، انڈرگارمنٹس، ورزش کا سامان، ڈمبل راڈ، ساٹھ انچ ایل سی ڈی، یو پی ایس بیٹریاں اور میری زندگی کا اثاثہ ایک خاص چیز تو چور لے ہی گئے۔ انہوں نے گھر کے تین واش رومز میں موجود تمام ٹوٹیاں، شاور اور اپنے مطلب کی تمام چیزیں کھول کر نہیں نکالیں بلکہ واش بیسن اور دیواریں توڑ کر نکال لے گئے ہیں۔ آج میرے گھر میں کسی باتھ روم میں ایک بھی ٹوٹی موجود نہیں، سب کچھ ٹوٹ چکا ہے۔ چوروں نے کچن میں موجود چینی، چاول، گھی، کوکنگ آئل، چائے کی پتی اور آٹے کا سٹاک بھی ساتھ لے جانا ضروری سمجھا، سو وہ بھی لے گئے۔ ہر آنے والے دن انکشاف ہوتا ہے فلاں چیز بھی غائب ہے، صدمے سے باہر نہیں آیا تھا کہ اسی حالت میں بازار جانا ضروری سمجھا کہ کچھ کھانے پینے کے لئے لاو¿ں، دن والے گارڈ سے پوچھا تو اس نے یقین محکم سے کہا سر یہ واردات کسی رات کی ہے۔ دن میں چور ادھر آنے کی جرا¿ت نہیں کر سکتا کیونکہ والٹن روڈ لاہور کینٹ کی ہماری کالونی چاروں طرف سے بند ہے قریباً ساٹھ گھر ہیں کالونی میں، آنے اور جانے کا ایک ہی راستہ ہے۔ رات کی ڈیوٹی والے گارڈ سے پوچھا تو اس کا جواب تھا چور شکر دوپہر آئے ہیں، رات میں نہیں آئے۔ چور جب بھی آئے ان کا پورا گینگ آیا، دیوار پھلانگ کر آئے اپنے ہمراہ رکشہ چنگ چی یا کار لے کر آئے۔ اتنا وزنی سامان کاندھوں پر اٹھا کر نہیں لے جا سکتے تھے، شاید ابھی تین روز گزرے تھے سہ پہر کے وقت میں لٹے پٹے گھر میں داخل ہوا ابھی لاﺅنج میں بیٹھ کر پانی پی رہا تھا کہ پورچ میں دھم سی آواز آئی، ایک چور دیوار پھلانگ کر اندر آ چکا تھا، یہ چور یقینا انہی چوروں کا ساتھی تھا، اسے یقین تھا گھر آج بھی خالی ملے گا۔ چور آگے بڑھا تو اس نے دیکھ لیا کہ گھر والے آ چکے ہیں۔ وہ تیزی سے واپس پلٹا کہ باہر چھلانگ لگا دے لیکن اسے اندر آتے ہوئے میرے دوست احسن نے دیکھ لیا تھا، باہر سے وہ دوڑ کر آیا اور اندر سے میں، ہم نے چور پکڑ لیا۔ دھینگا مشتی شروع ہو گئی۔ چور نوجوان قدآور تھا، اس پر بمشکل قابو پایا، کچھ دیر میں امتیاز صاحب اور ایک مجمع اکٹھا ہو گیا۔ ون فائیو پر کال کیا تو پولیس ٹیم محمد عدنان اشرف کی قیادت میں پہنچ گئی۔ چور گروپ اپنے آلات وہیں چھوڑ گیا۔ چور کو حوالہ پولیس کیا۔ ایف آئی آر درج ہوئی جو میں نے نہیں لکھی۔ تھانے کے ضوابط کے تحت ایک کانسٹیبل لکھتا ہے۔ اس نے چوری کی ایف آئی آر درج کی لیکن جو چور ہم نے پکڑ کر ون فائیو پر کال کر کے پولیس کے حوالہ کیا، اس کا کوئی ذکر اس میں نہیں، ایسا کیوں ہے شاید کوئی مصلحت ہو پولیس حکام ہی بہتر بتا سکتے ہیں۔ چوروں نے دراصل میرا قبلہ درست کرنے کی غیرسرکاری کوشش کی ہے، انہیں معلوم تھا میں ٹی وی نہیں دیکھتا، اس لیے وہ میری ایل سی ڈی لے گئے۔ انہیں میرے یو پی ایس اور بیٹریاں بری لگیں، وہ چاہتے تھے میں سولر لگواﺅں اور حکومت کو سستی بجلی فروخت کروں اور خود مہنگی بجلی استعمال کروں۔ انہوں نے میرے گھر کی تمام ٹوٹیاں جذبہ قومی خدمت کے تحت اتاری ہیں۔ انہیں معلوم تھا کہ موسم گرما میں پانی کی کمی 
ہوتی ہے۔ پٹرول بہت مہنگا ہے کیونکہ آبنائے ہرمز بند ہے۔ مہنگا پٹرول درآمد کرنے سے قومی خزانے پر بوجھ بڑھے گا۔ پانی گھر گھر پہنچانے کے لئے دن میں ٹیوب ویل تین مرتبہ نہیں چلایا جا سکتا۔ بجٹ آﺅٹ ہے، ٹیوب ویل کے ڈیزل کے لئے رقم کم پڑ گئی ہے۔ ایسے میں اگر ہم دن میں دو مرتبہ غسل کرتے ہیں اور پانی کا ضیاع کرنے سے باز نہیں آ رہے تو ایسے لوگوں کی ٹوٹیاں بند کرنے کی بجائے انہیں اتار کر ہی لے جانا ہی بہتر خیال کیا گیا۔ چوروں کی یقینا یہ سوچ تھی کہ اب دنیا موبائل فون پر ٹائم دیکھتی ہے لہٰذا رسٹ واچز گھر میں نہیں ہونی چاہئے، سو وہ لے گئے۔ استری اس لئے اٹھائی گئی کہ بجلی خرچ کرتی ہے اور بجلی بہت مہنگی ہو چکی ہے یوں چور نے بجلی کا بل کم کرنے میں میری مدد کرنے کی کوشش کی ہے۔ انڈرگارمنٹس اس لئے چرائے گئے کہ آج کل گرمی عروج پر ہے، لاہور میں بغیر بنیان کے قمیض اور بغیر انڈروئیر پتلون پہننے کا فیشن ہے تاکہ وینٹی لیشن ہوتی رہے اور گرمی سے صرف چہرہ ہی لٹکا نظر آئے۔ بند جوتوں کی جگہ جوگر لے چکے ہیں لہٰذا عمدہ جوتے بھی گھر میں اضافی سمجھے گئے، چوروں کو غصہ آیا ہو گا کہ میں چمچ، چھری، کانٹا کیوں استعمال کرتا ہوں، ہاتھ سے کیوں نہیں کھاتا جو عین اسلامی طریقہ ہے لہٰذا وہ یہ سب کچھ بھی لے گئے۔ سامان ورزش اس لئے لے گئے کہ صحت مند جسم ہو گا نہ صحت مند دماغ، کوئی ڈھنگ کی سوچ آئے گی نہ کوئی مثبت خیال۔ وہ چاہتے ہونگے میں بھی ان جیسا ہو جاﺅں، چوری ہو جانے والی چیزوں میں نے ایک خاص چیز کا ذکر کیا ہے جو میری زندگی کا اثاثہ تھی، آپ کو یاد ہو گا جنگ ستمبر کے ہیرو میجر عزیز بھٹی شہید نشان حیدر کو ایک اعزازی تلوار ملی تھی جو بہترین کیڈٹ کو پاسنگ آو¿ٹ پر ملتی ہے۔ میجر صاحب شہید کی زندگی پر پی ٹی وی اور آرمی کے ادارے آئی ایس پی آر نے ایک ڈرامہ تیار کیا، اس ڈرامے میں مجھے میجر عزیز بھٹی شہید کا کردار ادا کرنے کا موقع ملا۔ پاکستانی فوج اور پاکستان سے محبت کرنےوالے اس ڈرامے کو نہیں بھول سکتے۔ یہ بلامبالغہ ایک شاہکار لانگ پلے ہے۔ میری اس پرفارمنس کو سراہتے ہوئے اہل لاہور نے ایک شاندار تقریب میں مجھے بھی ایک اعزازی تلوار سے نوازا۔ بدبخت چور میری متاع عزیز یہ تلوار بھی لے گئے۔ محترم آئی جی پنجاب، سی سی پی او، جناب ڈی آئی جی اور اعلیٰ حکام سے درخواست ہے کہ یوں تو میرے گھر سے لوٹی گئی ہر چیز بیش قیمت ہے لیکن میری اعزازی تلوار انمول ہے۔ میں نے اپنے ہاتھوں سے چور پکڑا ہے۔ اب میرا سامان میری تلوار آپ برآمد کرائیے۔

ٹیگز: