پاکستان اپنی تاریخ کے مشکل ترین دور سے گزر رہا ہے۔ یہ کوئی روایتی جملہ نہیں ہے۔ حالات ایسے ہی ہیں پہلے بھی شاید ایسے ہی مشکل حالات ہوں گے۔ ویسے مشکل ہوتے تھے تو ہمیں مارشل لاﺅں کا سامنا کرنا پڑا۔ سیاسی طور پر معاملات قیام پاکستان کے وقت سے ہی الجھے ہوئے تھے ، نو سال تک ریاست پاکستان بے آئین رہی۔ ہم بطور قوم طے ہی نہیں کر پائے کہ یہ ملک کس طرح کے نظم سیاست کے تحت چلایا جائے گا۔ ملک کا آئین اسلامی ہو گا یا سیکولر، پارلیمانی طرز حکمرانی ہو گا یا صدارتی، بیوروکریسی اور انگریزوں کے تیار کردہ جاگیردار اور وڈیرے اس ملک کی سیاست و ریاست کے نگران و نگہبان رہے۔ 1956ءمیں آئین بنا اور آئین بنانے والا چودھری محمد علی ایک سکہ بند قسم کا بیوروکریٹ تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ ایک اعلیٰ درجے کے منظم اور زیرک انسان تھے۔ ان کی حب الوطنی بھی کسی شک و شبے سے بالاتر تھی لیکن وہ تھے ایک سرکاری اہلکار جو سیاست میں آدھمکے تھے۔ انہوں نے پاکستان کو پہلا 1956ءکا دستور دیا لیکن 23 مارچ 1956ءمیں آئین نافذ ہونے کے 6 ماہ بعد 12 ستمبر 1956ءکو مستعفی ہونے پر مجبور ہو گئے، ان کی اپنی ہی پارٹی نے ان کے خلاف تحریک اٹھائی۔ ان پر الزامات لگائے حتیٰ کہ انہیں اپنے عہدے سے مستعفی ہونا پڑا۔ حیران کن بات یہ ہے کہ ان کا دیا گیا آئین بھی 1958ءمیں مارشل لاءکے قدموں تلے رونداگیا۔ ہمارے سیاسی حالات کبھی ٹھیک نہیں رہے۔ ایوب خان، یحییٰ خان، ضیاءالحق اور مشرف کے مارشل لاءکیا سیاسی استحکام کی علامت تھے۔ کیا یہ مارشل لاءسیاسی استحکام پر منتج ہوئے۔ ہاں جنرل ضیاءالحق کے مارشل لاءکے دوران پاکستان نے سوویت یونین کے خلاف جہاد افغانستان کی کامیابی اور اشتراکی افواج کی شکست کے لئے اہم کردار ادا کیا پھر جنرل مشرف کے دور حکمرانی میں پاکستان امریکہ کی طرف سے شروع کردہ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں فرنٹ لائن ریاست بنا، ہم امریکی اتحادی رہے۔ ہم نے اپنے بحر اور بر امریکی اتحادی افواج کی نقل و حرکت کے لئے کھول دی تھیں۔ 20سال تک امریکی و اتحادی افواج یہاں دندناتی پھریں لیکن ہم افغان طالبان کو بھی بچانے میں مشغول رہے، انہیں ہم اپنا سٹرٹیجک اثاثہ قرار دیتے رہے۔
ہم نے امریکی افواج کی یہاں افغانستان سے شرمناک انداز میں رخصتی بھی دیکھی اور کابل پر طالبان کا قبضہ بھی۔ ہم نے جشن فتح کابل بھی منایا۔ طالبان نے 20 سال تک جدوجہد کی اپنی آزادی کے لئے دشمن سے نبرد آزما رہے۔ افغانستان پر اب طالبان حکمران ہیں۔ امریکی اتحادی افواج یہاں سے رخصت ہو چکی ہیں لیکن پاکستان دہشت گردی کی وحشت کا شکار رہے۔ کے پی اور بلوچستان میں دہشت گرد دندناتے پھر رہے ہیں۔ ہماری مسلح افواج اور متعلقہ اداروں کی قربانیاں اپنی جگہ پر درست اور قابل ستائش ہیں لیکن احوال واقعی تو یہ ہے کہ وہ پاکستان پر حملہ آور ہیں انہیں بیرون ملک ہی نہیں بلکہ اندرون ملک بھی معاونت حاصل ہے۔ انڈین را ہو یا اسرائیلی ایجنسی یہ سب پاکستان پر حملہ آور دہشت گردوں کو مالی و تکنیکی امداد فراہم کرتے ہیں۔ کابل میں طالبان حکومت کا قیام ہمارا خواب تھا کیونکہ ہم انہیں اپنا سٹرٹیجک اثاثہ تصور کرتے تھے۔ ہمارا یہ خواب بھی پاش پاش ہو گیا ہے۔ تحریک طالبان پاکستان افغان سرزمین سے ہی ہم پر حملہ آور ہوتی ہے، اس دہشت گرد گروہ کے مراکز افغانستان میں ہیں۔ اس گروہ کو افغانوں کی معاونت حاصل ہے۔ ہم 40 سال سے افغانوں کی میزبانی کرتے رہے ہیں لیکن یہ نمک حرام نکلے ہیں۔ انہوں نے پاکستان کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کیا یا یوں کہیں ہم ان کے مقاصد کے لئے استعمال ہوتے رہے۔ اب یہ ہمارے دشمنوں کے معاون بنے ہوئے ہیں۔ ہمیں دھمکاتے ہیں، ڈراتے ہیں حالانکہ پاکستان ان کے رحمت و نصرت کا پیامبر ثابت ہوا ہے۔ان کی معاشی خوشحالی کا ضامن بنا رہا ہے۔ ریاست پاکستان نے اب اپنے ان مہمانوں سے گلو خلاصی کرانے کا تہیہ کر لیا ہے۔ پاکستان میں غیرقانونی طور پر رہنے والے افغانیوں کو یہاں سے نکل جانے کا کہا ہے۔ لاکھوں افغانی نکل چکے ہیں اور باقی نکالے جانے کے منتظر ہیں۔ ہم ایسے نمک حراموں سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے پرعزم ہیں۔
ہماری سیاست داخلی سیاست تضادات کا شکار ہے۔ پی ٹی آئی کی قیادت عمران خان ہو یا گنڈہ پور،
وہ پاکستان کے قومی و ریاستی مفادات سے ٹکرا رہے ہیں۔ کے پی میں دہشت گردی کے خلاف آپریشن کامیابی سے جاری ہے۔ دہشت گردوں کی کمر توڑی جا رہی ہے۔ سب کچھ ہونے کے باوجود مطلوبہ نتائج نہیں نکل رہے ہیں۔ پولیٹیکل معاملات قابو میں نہیں آرہے ہیں۔ پی ٹی آئی افتراق و انتشار کی علمبردار بن چکی ہے۔ وہ ہر ایک ایسا قدم اٹھاتی ہے جس سے ریاست اور مملکت کو تکلیف پہنچتی ہے۔ گو پی ٹی آئی کسی قسم کی تحریک چلانے یا سڑکوں پر آکر مملکت کے نظم و نسق کو خراب کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہی ہے لیکن فکری افتراق و انتشار پھیلانے میں ابھی تک یہ یدطولیٰ رکھتی ہے۔ اس بارے میں تو کوئی شک نہیں ہے کہ الیکشن 2024ءمیں پی ٹی آئی کے امیدواروں کو خوب ووٹ ملے۔ یہ الگ بات ہے کہ پی ٹی آئی کی قیادت اپنے ووٹوں کی اکثریت کو الیکٹورل برتری میں تبدیل نہیں کر سکی۔ پی ٹی آئی قیادت کی حماقتوں کے باعث ووٹرز کی اکثریت حاصل کرنے کے باوجود، پارٹی ٹکڑوں میں بٹ چکی ہے ویسے پارٹی کو اس بری حالت تک پہنچانے میں 9 مئی کے واقعات کا بھی کلیدی تعلق ہے۔ ویسے پی ٹی آئی رل کھل جانے کے باوجود انارکی پھیلانے میں مصروف ہے۔ بے یقینی کے فروغ میں مصروف ہے۔ دوسری طرف ہماری معیشت کچھ بہتر پوزیشن میں نہیں ہے۔ معاملات بہتر نہیں ہو رہے ہیں۔ آمدنی اور اخراجات میں گہرا تفاوت پایا جاتا ہے۔ فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ نہ ہونے کے باعث صنعتی ترقی کے معاملات بہتر نہیں ہو رہے ہیں۔ ٹیکس وصولیوں کے اہداف پورے نہیں ہو رہے ہیں، اس لئے ٹیکس نیٹ میں پہلے سے ہی موجود ٹیکس دہندگان پر مزید ٹیکسوں کا بوجھ لادا جا رہا ہے، جس سے عام آدمی کی بدحالی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ نجکاری کا پراسس فیل ہو چکا ہے، اس ذریعے سے مطلوبہ رقوم حاصل نہیں ہو پا رہی ہیں۔ سرکاری اخراجات میں کمی کے اہداف بھی حاصل نہیں ہو پائے ہیں۔ اس حوالے سے حکومت ناکام نظر آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب اخراجات میں کمی نہ ہونے اور ٹیکسوں کے اہداف پورے نہ ہونے کے باعث مجموعی وصولیوں کے ٹارگٹس پورے نہیں ہوتے تو عوام پر مزید ٹیکسوں کا بوجھ لاد دیا جاتا ہے۔ عام شہری کی قوت خرید دن بہ دن گھٹتی چلی جا رہی ہے۔ آمدنی کے ذرائع کم ہیں۔ سرمایہ کاری نہ ہونے کے باعث روزگار کے مواقع بھی بڑھ نہیں رہے ہیں۔ قابل تصرف شخصی آمدنیاں گھٹ رہی ہیں۔ عام شہری اپنے حال سے مایوس ہے۔ مستقبل تو تاریک ہی نظر آرہا ہے۔ نوجوان ملک چھوڑ رہے ہیں۔ چھوڑنے کی تیاریوں میں ہیں۔ ہمارا کیا بنے گا؟