گاو¿ں کی زندگی سادمرادی ہوتی تھی اور دیہات میں کھیل بھی اسی طرح کے ہوتے تھے خاص کر بارہ ٹینی جب کھیلتے تو ہار نظر آتی تو ایویں ای سارا کھیل خراب کر کے اپنی عزت بچانے کی کوشش کرتے، یہی حال امریکی صدرٹرمپ کا ہے۔ جب سے ایران پر جارحیت شروع کی ہے اسرائیل کے ساتھ مل کر، تہران نے منظم طریقے سے اس جارحیت کا جواب دیا اور تاحال دیا جا رہا ہے۔ جہاں ایران کا جانی و مالی نقصان ہوا وہیں اسرائیلیوں کی زندگی جہنم بن گئی ہے، بچا امریکہ بھی نہیں۔ ایران نے واشنگٹن کا غرور بھی خاک میں ملا دیا۔ دھڑادھڑ امریکی طیارے گر رہے جنہیں فرینڈلی فائر کا نام دیا جا رہا، ساتھ ساتھ امریکی فوجی مر رہے اور زخمی بھی ہو رہے۔ کوئی مانے یا نہ مانے اسرائیل میں بنکر لاشوں سے بھرے پڑے ہیں، سیٹلائٹ تصاویر پر پابندی ہلاکتوں کو چھپانے کیلئے لگائی گئی۔ اسرائیلی ماتم کر رہے ہیں کہ جنگ بند کرو امریکہ میں لاکھوں افراد سڑکوں پر ہیں کہ پرائی جنگ ختم کرو لیکن ٹرمپ اور نیتن یاہو ڈھیٹ مٹی کے بنے ہیں۔ واضح شکست کے باوجود ایران پر حملے جاری ہیں، کبھی 48 گھنٹے کی ڈیڈلائن کبھی ڈیڈلائن کو بڑھا دیا جاتا ہے، کبھی ایران کو پتھر کے زمانے میں دھکیلنے کی دھمکی کبھی خود ہی جیت کا رولا ڈالا جاتا ہے۔ صبح ٹرمپ کی زبان اور شام کو اور ہوتی ہے۔ ایران میں ہزیمت وکٹری میں بدلنے کیلئے ڈونلڈ ٹرمپ مرے جا رہے ہیں۔ ثالثوں کے ذریعے ایران سے نکلنا چاہتے ہیں۔ فتح
امریکہ کے نام کر کے جو ناممکن ہے کیونکہ امریکہ اور اسرائیل نے حملہ کرتے وقت غلط اندازہ لگا لیا تھا، اس اندازے نے ان کے حواریوں کو بھی پیچھے ہٹنے پرمجبور کر دیا اگر ان کو کُٹ نہ پڑتی تو شاید نیٹو اور چند خلیجی ممالک بھی ایران پر چڑھ دوڑتے، اب ایران کی تعریفوں کے ساتھ ٹرمپ نے نئی دھمکی دی ہے۔ سطور کے چھپنے تک شائد دنیا کا نقشہ کچھ اور ہو لیکن ایک بات طے ہے کہ امریکہ کا جو سپرپاور کا ہوّا تھا وہ ”وڑ“ گیا ہے۔ اب لاکھ ٹرمپ کہیں کہ ایران کوشکست دے دی دنیا جان چکی ہے کہ اصل کیا ہے۔ دوسری طرف خلیجی ممالک کی آنکھیں بھی کھل جانی چاہئیں جو واشنگٹن کو اڈے دے کر امریکی فوجیوں کو مفت میں پال پوس رہے ہیں۔ امریکی صدر اس وقت سکتے میں ہیں، ایک طرف مڈٹرم الیکشن قریب آ رہے ہیں، دوسری طرف مئی میں دورہ چین کرنا ہے۔ جنگ کی وجہ سے ٹرمپ کی پاپولیرٹی زیرو ہو گئی اور مڈٹرم الیکشن میں شکست سے دوچار ہو سکتے ہیں۔ دوسری طرف اگر جنگ نہیں رکتی تو ایسی صورت میں دورہ چین مشکل ہو جائے گا۔ اس لئے کہ چینی قوم کسی ایسے شخص کو اپنے ملک میں مہمان بنانا پسند نہیںکرے گی جو بچوں بڑوں کا قاتل ہو، ویسے بھی چینی قوم کو امریکی ایک آنکھ نہیں بھاتے۔ اس لئے ٹرمپ کسی بھی صورت میں جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ اس لئے بھی کہ روزانہ اربوں ڈالر کا خرچہ ہو رہا ہے اور اگر امریکہ میں پٹرول 110سے اوپر چلا گیا تو امریکی کسی صورت بھی ٹرمپ کو قبول نہیں کریں گے۔ ایران جنگ میں پاکستان کا کردار مثبت طور پر سامنے آیا ہے جس پر امریکہ اور ایران دونوںہی اعتماد کرتے ہیں۔ اس لئے جب ثالثی کا ذکر شروع ہوا تو پاکستان سرفہرست تھا، اللہ کا شکر ہے کہ پاکستان نے ثالثی جس انداز میں شروع کی اس پر دونوں فریق مطمئن ہیں لیکن اگر ٹرمپ نے ضد نہ چھوڑی تو خطہ تباہی کے دہانے تک پہنچ جائے گا، ایران کے اثاثے تباہ ہوئے تو پھر خلیجی ممالک بچیں گے نہ اسرائیل۔ تہران نے ہمیشہ مثبت انداز میں دوستوں کو جواب دیا، ایران جنگ بند کرنا چاہتا ہے لیکن اس کے بدلے گارنٹی چاہتا ہے کہ آئندہ حملہ نہ کیا جائے۔ آبنائے ہرمز تو ایک بہانہ ہے اصل بات یہی ہے کہ ثالث گارنٹی دیں کہ امریکہ یا اسرائیل آئندہ جارحیت سے باز رہیں گے۔ اب نقطہ ایک ہی ہے او وہ یہ کہ ا یران کوآئندہ کے لئے گارنٹی چاہیے جو کوئی نہیں دے رہا کیونکہ ثالثوں کو بھی پتہ ہے کہ امریکہ بے اعتبار اور ٹرمپ جواریا ہےم وہ دو مونہہ سانپ بھی ہے جس کا کھائے اسے بھی ڈسے جس کا نہ کھائے اسے بھی ڈسے۔ اگر امریکہ پیچھے نہیں ہٹتا تو پھر کل ایسا بھیانک ہو گا کہ سب دیکھتے ہی رہ جائیں گے۔ ٹرمپ کے بیانات اس کی مایوسی کو عیاں کر رہے ہیں، جنگ بند نہیں ہوتی تو تباہی ایران کی تو ہو گی ساتھ عرب ممالک اور اسرائیل پر بھی نہیں بچیں گے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا ہر روز بیان پاگل پن ظاہر کرتا ہے۔ تاہم پاکستان کا کردار اب تک بہت اچھا جا رہا ضرورت اس بات کی ہے کہ ڈیڈ لائن پے ڈیڈ لائن کے بجائے مثبت طریقے سے مذاکرات کوآگے بڑھایا جائے کیونکہ جنگ کسی بھی مسئلے کا حل نہیں جنگوں سے ہمیشہ تباہی ہوتی ہے۔