لاہور : پاکستان کی 13 سالہ مارشل آرٹس کھلاڑی فاطمہ نسیم نے کم عمری میں ایک اور نمایاں کارنامہ انجام دے دیا۔ بھارتی کھلاڑی کا ریکارڈ توڑنے کے بعد فاطمہ کے عالمی ریکارڈز کی تعداد 10 ہوگئی، جبکہ وہ پاکستان کی پہلی خاتون کھلاڑی بن گئی ہیں جنہوں نے 10 عالمی ریکارڈز قائم کیے ہیں۔
فاطمہ نسیم نے ہاتھوں میں انڈے تھام کر صرف ایک منٹ میں 340 پنچز لگائے اور بھارتی کھلاڑی دیبیاجوتی سرکار کا 331 پنچز کا سابقہ ریکارڈ اپنے نام کرلیا۔
ان کی ایک اور غیر معمولی کامیابی کو بھی گنیز ورلڈ ریکارڈز کی جانب سے تسلیم کیا گیا ہے۔ فاطمہ نے دو کرسیوں کے درمیان توازن برقرار رکھتے ہوئے ایک منٹ 45 سیکنڈ تک سٹریچنگ کی۔ اس سے قبل اس کیٹیگری میں عالمی ریکارڈ ایک منٹ 30 سیکنڈ کا تھا۔
یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ فاطمہ نے بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہو۔ وہ اس سے قبل چار بھارتی کھلاڑیوں کے ریکارڈ توڑ چکی ہیں، جبکہ دنیا کی معروف فلیکسیبلٹی ایتھلیٹ لبرٹی باروس کا ریکارڈ بھی اپنے نام کر چکی ہیں۔ لبرٹی باروس برطانیہ، امریکا اور سپین کے معروف پروگرامز میں اپنی غیر معمولی جسمانی لچک کا مظاہرہ کر چکی ہیں۔
فاطمہ نسیم نے جرمنی کی معروف مارشل آرٹس ایتھلیٹ پالینا گلیبووا کو بھی پیچھے چھوڑا، جو متعدد عالمی ریکارڈز کی حامل ہیں۔ اس کے علاوہ بھارتی مارشل آرٹسٹ کرن یونیال کا ریکارڈ توڑنا بھی ان کی نمایاں کامیابیوں میں شامل ہے۔
کم عمری میں مسلسل نئے ریکارڈز قائم کرنے والی فاطمہ نسیم عالمی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کر رہی ہیں، تاہم ان کی کامیابیوں کے باوجود انہیں اب تک حکومت کی جانب سے باقاعدہ سرپرستی یا مالی معاونت نہیں مل سکی۔
فاطمہ نسیم کا تعلق ایسے خاندان سے ہے جس کے کئی افراد عالمی ریکارڈز قائم کر چکے ہیں۔ ان کے والد، والدہ، دادا اور بھائی بھی گنیز ورلڈ ریکارڈز ہولڈرز ہیں۔ خاندان کے مجموعی عالمی ریکارڈز کی تعداد 180 سے تجاوز کرچکی ہے۔
فاطمہ کے والد نسیم خود بھی پاکستان کے لیے 165 انفرادی عالمی ریکارڈز قائم کر چکے ہیں۔ یہ خاندان اپنی مدد آپ کے تحت مسلسل محنت کرتے ہوئے عالمی سطح پر پاکستان کا نام نمایاں کر رہا ہے۔