Wed, September 16, 2026

جاپان میں وزیرِاعظم کے انتخاب کا پیچیدہ عمل شروع

جاپان میں وزیرِاعظم کے انتخاب کا پیچیدہ عمل شروع

ٹوکیو: جاپان کے وزیرِاعظم شیگرو ایشیبا نے اپنا استعفیٰ دے دیا ہے، جس کے بعد ملک کی قیادت سنبھالنے والے نئے وزیراعظم کے انتخاب کی تمام توجہ حاصل ہو گئی ہے۔

شیگرو ایشیبا کی جماعت، لبرل ڈیموکریٹک پارٹی (ایل ڈی پی) اور اس کے اتحادیوں نے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں اکثریت کھو دی ہے، جس کی وجہ سے نئے قائد کا انتخاب پہلے سے زیادہ مشکل ہو گیا ہے۔

ایل ڈی پی کو سب سے پہلے اپنی قیادت کے لیے نیا صدر منتخب کرنا ہوگا جو ممکنہ طور پر وزیرِاعظم کا عہدہ سنبھالے گا۔ امیدواروں کو کم از کم 20 قانون سازوں کی حمایت حاصل کرنی ہوگی۔ انتخابی عمل میں پارٹی کے ارکان اور پارلیمنٹ کے اراکین ووٹ دیں گے۔ اگر کسی امیدوار کو پہلی بار اکثریت نہ ملے تو سب سے زیادہ ووٹ لینے والے دو امیدواروں کے درمیان رن آف منعقد ہوگا۔

رن آف میں ہر قانون ساز کو ایک ووٹ دیا جائے گا جبکہ پارٹی کے عام اراکین کے ووٹ 47 جغرافیائی حصوں میں تقسیم کیے جائیں گے۔ ووٹ برابر ہونے کی صورت میں قرعہ اندازی کے ذریعے فیصلہ کیا جاتا ہے۔

اگرچہ ایل ڈی پی کا صدر عام طور پر وزیراعظم بنتا ہے، لیکن اب پارٹی کے پاس پارلیمنٹ میں اکثریت نہیں ہے، اس لیے وزیرِاعظم کا انتخاب ایوان زیریں میں ہوگا جہاں کسی بھی رکن کو نامزد کیا جا سکتا ہے۔ پہلے مرحلے میں اگر کوئی امیدوار اکثریتی ووٹ حاصل کر لیتا ہے تو وہ وزیراعظم منتخب ہو جاتا ہے، ورنہ رن آف کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔

ایوان بالا بھی وزیرِاعظم کے انتخاب میں ووٹ دیتا ہے، مگر اگر دونوں ایوانوں کا انتخاب مختلف ہو تو ایوان زیریں کا فیصلہ حتمی سمجھا جاتا ہے۔ نئے وزیراعظم کو ملک میں فوری عام انتخابات کرانے کا اختیار بھی حاصل ہوگا تاکہ وہ وسیع تر عوامی حمایت حاصل کر سکے۔

یہ تبدیلی جاپان کی سیاسی صورتحال میں ایک اہم مرحلہ ثابت ہوگی۔
 
 

ٹیگز: