Wed, September 16, 2026

پانی کی بوتل دو سو میں

پانی کی بوتل دو سو میں

آپ ایک صبح اٹھیں کسی دوسرے شہر میں رشتہ داروں کے ہاں خوشی غمی میں جانا ہو، یا بچوں کی چھٹیوں کے لیے سیر پر نکلنا ہو، یا کسی کاروباری سلسلے میں کسی دوسرے شہر جانا ہو تو آپ گاڑی نکالیں گے، یا بس پکڑیں گے اور براستہ موٹر وے سفر کریں گے۔ اب فرض کریں آپ فیملی کے ساتھ کسی قیام و طعام پہ سستانے کے لیے رکتے ہیں اور آپ کے بچے بھوک بھوک کی رٹ لگا دیتے ہیں، آپ انہیں لے کر ایک سٹور میں گھستے ہیں، آپ ایک کافی مانگتے ہیں، آپ کو تیس روپے کی پڑیا گرم پانی میں گھول کے دی جاتی ہے، بچے بھاگ بھاگ کر رنگ برنگی چپس کے پیکٹ اچک لیتے ہیں، آپ لوگ ایک آدھ پانی کی بوتل اٹھا لیتے ہیں، ہاں کسی معیاری کمپنی کی نہیں جعلی سے نام کی مناسب سی بوتل ہے لیکن ہائے ری تشنگی۔۔۔!! پانی تو پینا ہی ہے۔ آپ کا کتنا بل بننا چاہیے؟ ساٹھ کے چپس والے تین پیکٹ، اسی کا پانی، سو کی کافی کے لحاظ سے؟ تین سو ساٹھ! اور آپ کا بل بنتا کتنا ہے؟ گیارہ سو۔۔۔!! آپ ایک لمحے کو اپنی سیٹ سے اچھل کر چھت سے لگتے ہیں اور پھر زمین پہ آتے ہیں، چپس پہ لکھی قیمت پہ کالا مارکر پھیر رکھا ہے اور وہ ڈیڑھ سو کا ہے۔۔ انٹرنیشنل برانڈز کے پانی کی بوتل بھلے نوے کی ہو یہ فلٹر سے بھر کر سٹکر چپکا کے رکھی چار نمبر پانی کی بوتل وہاں دو سو کی ہے۔ آپ بحث کرتے ہیں تو وہ جواب دیتا ہے کہ یہاں یہی ریٹ ہے۔ اب بچے مچل رہے ہیں وقت پھسل رہا ہے چار و ناچار آپ بل ادا کرنے لگتے ہیں تو کوئی پرچی نہ کمپیوٹرائزڈ سلپ، آپ کارڈ آگے بڑھاتے ہیں تو عملہ ڈونلڈ ٹرمپ جیسا لب و 
لہجہ اپنا کے کہتا ہے کیش ۔۔۔ آپ پیسے بھی دیں گے، چیزیں لیں گے، بطور ذمہ دار شہری آواز بھی نہیں اٹھائیں گے بس بڑبڑاتے ہوئے گاڑی میں جا بیٹھیں گے۔ آئیے یہاں آپ کو کچھ دلچسپ حقائق بتاتی ہوں۔ معذرت کے ساتھ اس قدر اندھیر نگری کی ایک بڑی وجہ آپ کی لاعلمی بھی ہے۔ کیسے؟ آئیے سمجھانے کی کوشش کرتی ہوں۔ اگر آپ کو لگتا ہے کہ قیام و طعام والے موٹر وے کے بھگوان ہیں تو ایسا غلط ہے۔ وہ پابند ہیں کہ ڈی سی ریٹ پہ اشیا بیچیں، کپمیوٹرائزڈ بل دیں، کیونکہ جب جب کوئی شخص کیش میں بل لیتا ہے وہ ٹیکس چوری کرتا ہے اور اس کا خمیازہ کون کون کہاں کہاں بھگتتا ہے وہ ایک الگ لمبی بحث ہے اس پہ پھر کسی روز بات کریں گے۔ خیر متعلقہ اسسٹنٹ کمشنر کی ذمہ داریوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ وہاں نظر رکھے، ریٹس پر، ایکسپائری ڈیٹس پر، عملے کے رویے پر وغیرہ وغیرہ۔۔۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ بیشتر اسسٹنٹ کمشنر یا تو اسپائرنٹس کو امتحان کی تیاری کرانے میں مصروف ہیں یا ٹک ٹاک پہ اداکاری کرنے اور اپنی مراعات کی نمائش کرنے میں مشغول ہیں، اب ظاہر ہے اتنے جیم پیکڈ شیڈول میں کس کافر کو فرصت ہو یہ دیکھنے کی کہ ساٹھ والا چپس کا پیکٹ ڈیڑھ سو میں بک رہا ہے۔ اس کی بلا سے بکے، اور ویسے بھی وہ جب سے سروس میں گیا ہے آپ مڈل کلاس لوگوں کی طرح سستے چپس نہیں کھاتا، صاحب بہادر امپورٹڈ ڈوریٹوز کھاتے ہیں۔ تو خیر آپ بحیثیت شہری اس صورتحال میں کیا کر سکتے تھے؟ یہ جو موبائل ہاتھ میں پکڑ رکھا ہے جس پہ آپ فراغت کے لمحوں میں دھیان سے دیکھئے فلاں اداکارہ نے کی کیسی شرمناک حرکت، یا کورونا ویکسین بنی جان کی دشمن حقیقت سامنے آ گئی دیکھتے ہیں اسے جیب سے نکالیے، کیمرہ کھولیے اور ویڈیو بنائیے، چپس کے پیکٹ پہ مارکر لگی قیمت سے لے کر منہ بسورتے دوکاندار کی شکل تک، باہر دوکان کے نام کی تختی سے لے کر کیش پکڑانے تک اور ساتھ ساتھ کمنٹری کیجیے، جی ویسی ہی جیسی آپ اپنے ٹی وی لاؤنج میں میچ اور ڈرامے دیکھتے سمے کرتے ہیں۔ اب اس ویڈیو کو متعلقہ ڈی سی کے آفیشل نمبر پہ بھیجنے کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پہ اپلوڈ کیجیے۔ اب یہ مسئلہ صرف ایک پیکٹ چپس کا یا صرف آپ کا نہیں تھا۔ موٹر وے پہ سفر کرنے والے ہر شہری کا تھا، سو آپ کی کاوش کو اربابِ اختیار تک آپ کے ہم جولی پہنچائیں گے۔ مبارک ہو آپ نے اپنے حصے کی شمع جلا دی ہے۔ یہاں عقلمندی کا تقاضا یہ ہے کہ موٹر وے پہ فرسٹ رسپانڈنٹ موٹر وے پولیس ہے، کسی بھی جرم، انہونی، یا ناخوشگوار واقعے کی صورت میں وہ سب سے پہلے پہنچتے ہیں، تو ان مگر مچھوں کو نتھ ڈالنے کے لیے، چھاپہ مارنے کے، جرمانہ عائد کرنے کے، سیل کرنے کے اختیارات موٹر وے پولیس کے پاس ہونے چاہئیں، کیونکہ وہ تو وہیں گشت کرتے پھرتے ہیں، نظر بھی رکھیں گے اور اے سی صاحب تسلی سے نئے امیدواروں کو افسری میں آنے کے گر سکھا سکیں گے، تا کہ مزید معیاری گدھے بھرتی ہو سکیں۔ تاریخ شاہد ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں جتنی اچھی ایڈمنسٹریشن ہمیشہ پی ایم ایل نے کی ویسی کسی نے نہیں کی، تو میاں صاحب اور سی ایم صاحبہ سے گزارش ہے کہ کمال کی چیزیں بنا چھوڑنا بلاشبہ کمال کا کام ہے لیکن اصل کمال ان چیزوں کو لازوال حالت میں رکھنے میں ہے، موٹر وے بڑے میاں صاحب کا ایک کمال تھا، اب اس کے حالات درست کر کے، ذمہ داروں کو کیفرِ کردار تک پہنچا کے ایک دوسرا کمال آپ کریں۔

ٹیگز: