Wed, September 16, 2026

ٹرمپ مخالف نیلی لہر

ٹرمپ مخالف نیلی لہر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جس انداز میں دوسری مرتبہ صدر منتخب ہوئے۔ وہ آج بھی دنیا میں موضوع گفتگو ہے۔ خیال تھا انہوں نے پہلی مرتبہ بھی کارنامہ انجام دیا جبکہ دوسری مرتبہ تو ان کا حریف مقابلے سے قبل ہی نیم جان ہو چکا تھا۔ جوبائیڈن حکومت کی ناکامیاں بھی ٹرمپ کی جیت میں اپنا کردار ادا کرتی نظر آئیں۔ امریکہ کے صدارتی الیکشن کے بعد اب میئر نیویارک کا الیکشن دنیا بھر کے سیاسی حلقوں میں مباحثوں کا موضوع ہے۔ زہران ممدانی جان توڑ مقابلے کے بعد اینڈریو کو مو کو شکست دینے میں کامیاب رہے ہیں۔ نیویارک کے رہائشیوں کے مطابق یہ ممولے اور شہباز کا مقابلہ تھا۔ ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے پسندیدہ امیدوار برائے میئر نیویارک جنگجو طبیعت کے مالک ہیں۔ اس الیکشن میں بھی جنگ کا سا سماں نظر آیا۔ ٹرمپ ٹیم کے مہرے کو شکست ہو گئی جو ایک بڑی شکست کے طور پر دیکھی جا رہی ہے، ٹرمپ اور اینڈریوکومو میں باپ بیٹے کا رشتہ نہیں لیکن ان کا تعلق اتنا ہی قریبی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ بھاری اکثریت سے اپنا صدارتی انتخاب جیتے لیکن ٹھیک نو ماہ بعد ان کی مقبولیت میں تیس فیصد کمی واقع ہو گئی، اس کا سبب ان کی وہ پالیسیاں ہیں جن کے بارے میں امریکی سمجھتے ہیں کہ یہ پالیسیاں امریکہ کے لئے اور عام امریکیوں کے لئے نقصان دہ ہیں۔ انہی ایام میں ٹرمپ پالیسیوں کے خلاف امریکہ کی تمام ریاستوں میں ستر لاکھ افراد احتجاج کرنے سڑکوں پر نکلے۔ ٹرمپ کے خلاف جو نعرہ امریکہ کی ہر ریاست کے ہر شہر میں لگایا گیا وہ تھا ٹرمپ بادشاہ مت بنو، ہمیں بادشاہ نہیں چاہئے۔ اس احتجاج کو ٹرمپ کے خلاف ریفرنڈم قرار دیا گیا جس کے فوراً بعد ان کے امیدوار کو نیویارک میں شکست ہوئی جسے اہمیت دی جا رہی ہے۔ امریکہ میں برسر اقتدار جماعت کو صرف زہران ممدانی نے دھول نہیں چٹائی، یہ منظر اور بھی کئی جگہوں پر دیکھنے کو ملتا ہے۔
نیوجرسی میں حکومت مخالف امیدوار میکی شیرل نے اپنے مقابل کو شکست دی ہے۔ وہ نیوجرسی کی گورنر منتخب ہوئی ہیں۔ میکی شیرل طویل عرصہ تک امریکی نیوی سے بطور پائلٹ منسلک رہیں۔ انہوں نے اپنے مقابل ایک مضبوط ترین امیدوار جیک سیاٹریلی کو شکست دی، اسی طرح ورجینیا کی ریاست میں سپینبرگیر گورنر کا انتخاب جیت گئے جبکہ بھارتی مسلمان غزالہ ہاشمی اسی ریاست کی لیفٹیننٹ گورنر منتخب ہو گئی ہیں۔ اہم ترین مقابلوں میں سے ایک موجودہ اٹارنی جنرل جیل میاوس کا تھا جنہیں بری طرح شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
ان انتخابات میں درجن بھر سیٹوں پر اپ سیٹ نتائج کی توقع کی جا رہی تھی لیکن ٹرمپ انتظامیہ اور ان کے قریب سیاسی حلقوں کا کہنا تھا کہ ہمارا کچھ نہیں بگڑا۔ سب کچھ چند دنوں میں ٹھیک ہو جائے گا۔ ٹرمپ اپنی کھوئی ہوئی مقبولیت جلد حاصل کر لیں گے لیکن ہر گزرتے دن کے ساتھ ان کی ناکامیوں کا گراف بڑھتا چلا جا رہا ہے، ان کے موقف میں ابھرتے سورج اور ڈوبتے سورج کے ساتھ ہونے والی تبدیلیوں نے ان کی پارٹی اور ان کی حکومت کی ساکھ کو بہت نقصان پہنچایا ہے، ان کے قریبی ساتھی ایلون مسک اور دیگر دو درجن کے قریب امریکی ارب پتی ان سے فاصلہ اختیار کر چکے ہیں۔ ٹرمپ نے اختلافات سے پہنچنے والے نقصان کا ادراک کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر ایلون مسک کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا ہے لیکن ان کے تعلق کو اس وقت مزید نقصان پہنچا جب ٹرمپ نے کہا کہ ایلون مسک نے مجھے سلام بھیجا ہے، جس کا میں نے مثبت جواب دیا ہے۔ ایک وقت ایسا بھی تھا جب ایلون مسک اپنے گود کے بچے کے علاوہ ایک اور شرارتی بچے کو انگلی لگائے ٹرمپ کے اوول آفس میں نظر آتے تھے۔ ٹرمپ ان کے بچوں کو پیار سے گود میں بٹھاتے، ان سے اٹھکیلیاں کرتے اور پھر ٹھیک چند ماہ بعد وہ وقت آیا جب ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر ایلون مسک کا دفتر اوول آفس سے باہر سڑک کے پار ایک اور عمارت میں منتقل کر دیا گیا۔ ٹرمپ کے یہ اقدام ان کے گرو تمام کاروباری افراد کے لئے ایک اشارہ تھا۔ سب سوچنے پر مجبور ہو گئے کہ اگر ایلون مسک کو دیس نکالا مل سکتا ہے جنہوں نے ٹرمپ کے الیکشن پر تیس ملین ڈالر خرچ کئے تو ان کے نزدیک کسی بھی سرمایہ دار کی کوئی حیثیت نہیں۔ یہ بات اپنی جگہ بڑی حقیقت ہے کہ ٹرمپ کو الیکشن مہم کے دوران ان ارب پتیوں کی دولت کی ضرورت تھی مگر اب نہیں، ٹرمپ کی اپنی درجنوں کاروباری کمپنیاں ہیں جو ان کے بیٹے، داماد اور بیٹیاں چلا رہے ہیں۔ مقامی بڑے کاروباری یہ الزام دھرتے ہیں کہ منافع بخش ٹھیکے ان ہی کی کمپنیوں کو مل رہے ہیں۔
دنیا کے بڑے تاجر حتیٰ کہ بعض سربراہان مملکت ٹرمپ کی کمپنیوں سے کاروبار کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ شرم الشیخ میں ایک اہم اجلاس کے موقع پر انڈونیشیا کے صدر ٹرمپ کے کان میں کہتے پکڑے گئے کہ آپ مجھے اپنے بیٹے کا فون نمبر دیں، میں اس سے رابطہ کرنا چاہتا ہوں، جس پر ٹرمپ نے انہیں سرگوشی کے انداز میں جواب دیا ٹھیک ہے میں اپنے بیٹے سے کہوں گا کہ آپ سے رابطہ کرے۔ یہ گفتگو حساس آلات کی زد میں آئی اور دنیا کے کونے کونے تک جا پہنچی، جس سے اس بات کی تصدیق ہو گئی کہ سربراہان حکومت کے بیٹے، بھانجے، بھتیجے، داماد ان کے فرنٹ مین ہوتے ہیں، چاہے وہ صدر امریکہ ہی کیوں نہ ہو جس کے بیٹے نہیں ہوتے ، ان کی بیٹیاں یہ منصب سنبھالتی ہیں۔ کوریائی صدر کم کی بیٹی آج کل اسی ٹریننگ کے مراحل سے گزر رہی ہیں۔ خیال ہے کہ وہ اپنے والد کے بعد ان کی جگہ لیں گی۔
نیویارک میئر، نیوجرسی میں حکومت مخالف گورنر اور ڈپٹی گورنر کے آنے اور حکومت کے موجودہ اٹارنی جنرل کی شکست کو ٹرمپ حکومت کے خلاف ’’بلیو ویو‘‘ قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ نیلی لہر وسط مدتی امریکی انتخابات میں ٹرمپ کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔

ٹیگز: