Wed, September 16, 2026

نیویارک کا پہلا نوجوان مسلم میئر

نیویارک کا پہلا نوجوان مسلم میئر

ریاست ہائے امریکہ کے اہم شہر نیویارک کے میئر کے انتخاب میں ایک غیر روایتی، مگر پرجوش سیاست دان زہران ممدانی نے تاریخ رقم کر دی۔ وہ نہ صرف شہر کے پہلے مسلم بلکہ پہلے جنوبی ایشیائی نڑاد میئر بن گئے ہیں۔ ان کی کامیابی کو امریکی سیاست میں ایک نئے دور کا آغاز قرار دیا جا رہا ہے، جہاں مختلف شہری طبقات خاص طور پہ مہاجرین، نوجوان اور محنت کش ایک نئی آواز اور لیڈرشپ کے تحت یکجا ہوئے۔ ممدانی کا سیاسی سفر غیر معمولی ہے۔ یوگنڈا میں پیدا ہونے والے،  اس نوجوان نے اپنی ابتدائی زندگی میں ہی ایک مہاجر خاندان کے نئے ملک میں مسائل کو قریب سے دیکھا، اور وہ تجربہ ان کے نظریات میں رچ بس گیا۔
نیو یارک جیسا کثیرالثقافتی اور پیچیدہ شہر ہمیشہ سیاسی تجربات کا میدان رہا ہے، مگر ممدانی کی مہم نے اس بار شہر کی سیاست کو ایک نئی سمت دی۔ انہوں نے اپنی پوری مہم اس نعرے کے گرد استوار کی کہ ‘‘شہر صرف امیروں کا نہیں، سب کا ہے۔’’ یہی وہ پیغام تھا جس نے عام شہریوں کے دل جیت لیے۔ ان کی تقاریر میں رہائش کی بڑھتی قیمتوں، عام آمدنی والے شہریوں کی مشکلات، پبلک ٹرانسپورٹ کے بحران اور روزگار کے عدم استحکام جیسے مسائل مرکزی حیثیت رکھتے تھے۔
ان کی انتخابی مہم نے پرانے سیاسی ڈھانچوں کو بھی چیلنج کیا۔ وہ بڑے سرمایہ داروں سے چندہ لینے کے بجائے چھوٹے عطیات پر انحصار کرتے رہے، اور انہوں نے سوشل میڈیا کو اپنے پیغام کے پھیلاؤ کے لیے ایک طاقتور ذریعہ بنایا۔ نوجوانوں نے، خاص طور پر مسلمان، جنوبی ایشیائی اور افریقی نڑاد امریکیوں اور قدامت پسند یہودیوں نے بڑی تعداد میں ان کی حمایت کی۔ ممدانی کی مہم میں جذبہ، شمولیت اور امید کا ایک نیا امتزاج نظر آیا۔ وہ اس بات کے قائل تھے کہ سیاست میں صرف طاقتوروں کی زبان نہیں بولی جانی چاہیے، بلکہ سیاست ان کے لیے ہونی چاہئے جو روزمرہ زندگی کے مسائل سے دوچار ہیں۔
اگرچہ ان کی مہم نے اندرونِ شہر زبردست مقبولیت حاصل کی، مگر ان کے بعض بیانات نے بین الاقوامی سطح پر بحث چھیڑ دی۔ ممدانی نے اسرائیل کی پالیسیوں کو سختی سے تنقید کا نشانہ بنایا، خاص طور پر غزہ پر کارروائیوں کو انہوں نے ‘‘نسلی صفایا’’ قرار دیا۔ انہوں نے بین الاقوامی فوجداری عدالت کی جانب سے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کے خلاف جاری وارنٹ کی حمایت کی اور کہا کہ اگر نیتن یاہو نیو یارک آیا تو قانون سب کے لیے برابر ہو گا اور اسے گرفتار کیا جائیگا۔ ان کا یہ موقف امریکی سیاسی روایات کے برعکس تھا، جہاں عام طور پہ اسرائیل کے بارے میں نرم رویہ اختیار کیا جاتا ہے۔ تاہم، ممدانی نے واضح کیا کہ ان کے لیے انسانی حقوق اور انصاف کی اقدار کسی بھی ملک کی سفارتی حیثیت سے زیادہ اہم ہیں۔
بھارت کے حوالے سے بھی ممدانی کے خیالات کھل کر سامنے آئے۔ انہوں نے وزیرِ اعظم نریندر مودی اور ان کی جماعت بی جے پی کی پالیسیوں پر کڑی تنقید کی۔ ان کے بقول، بھارت میں مذہبی ہم آہنگی اور اس کی سیکولر پہچان کو کمزور کیا جا رہا ہے ان کے بقول مودی حکومت ایک ایسے بھارت کی تشکیل میں مصروف ہے جہاں صرف مخصوص اور انتہاپسند نظریات کے حامل طبقے کو ترجیح حاصل ہو۔ انہوں نے بھارتی گجرات میں مسلمانوں کی نسل کشی کا ذمہ دار بھی موجودہ بھارتی وزیر اعظم کو قرار دیا۔ ان کے یہ بیانات بھارت میں حکومتی حلقوں کو شدید ناگوار گزرے، مگر بہت سے بھارتی نڑاد امریکیوں نے انہیں ‘‘حقیقی جمہوری آواز’’ قرار دیا۔ وہیں امریکی صدر بھی انہیں مسلسل تنقید کا نشانہ بناتے رہے۔ قرین قیاس ہے کہ دو یا تین ارب پتیوں نے قریب بیس ملین ڈالر ان کی مخالفت میں جھونک دئے لیکن وہ پھر بھی بری طرح ناکام رہے۔ 
ممدانی کی کامیابی کے پیچھے کئی عوامل کار فرما رہے۔ ایک طرف شہری طبقات روایتی سیاست سے اکتا چکے تھے، دوسری جانب نوجوان نسل کو ایک ایسے رہنما کی تلاش تھی جو ان کے مسائل کو دل سے سمجھے۔ نیو یارک میں بڑھتی مہنگائی، کرایوں کا طوفان، اور متوسط طبقے کی کمزور ہوتی معاشی حالت نے ایک ایسی فضا پیدا کی جہاں تبدیلی کا نعرہ سنجیدگی سے سنا گیا۔ ممدانی نے اس موقع کو نہ صرف پہچانا بلکہ اسے عملی حکمتِ عملی میں ڈھالا۔ ان کی انتخابی مہم محض ایک سیاسی سرگرمی نہیں بلکہ ایک سماجی تحریک میں بدل گئی، جس میں نسلی انصاف، ماحولیاتی استحکام، اور عوامی بہبود جیسے موضوعات کو نمایاں رکھا گیا۔
ان کی فتح کا ایک اور اہم پہلو نمائندگی کا تھا۔ نیو یارک جیسے شہر میں جہاں مختلف قومیتیں، زبانیں اور مذاہب بستے ہیں، ایک مسلمان جنوبی ایشیائی میئر کا انتخاب محض سیاسی نہیں بلکہ علامتی کامیابی بھی ہے۔ یہ اس بات کا اظہار ہے کہ شہری اب خود کو طاقت کے مراکز سے باہر نہیں سمجھتے۔ ممدانی نے جیتنے کے بعد برملا کہا، ’’یہ جیت میری نہیں، ان سب کی ہے جنہیں طویل عرصے تک نظرانداز کیا گیا۔‘‘
لیکن اب جیت کے بعد ان کا حقیقی امتحان شروع ہو رہا ہے۔ اسرائیل کے بارے میں ان کے موقف نے صیہونیوں کے بعض گروہوں میں تشویش پیدا کر دی ہے، جبکہ بھارتی حکومت کے بارے میں ان کی تنقید نے جنوبی ایشیائی کمیونٹی کے ایک حصے کو محتاط بنا دیا ہے۔ اب انہیں اس توازن کو قائم رکھنا ہو گا جہاں وہ اپنے اصولوں پر قائم رہتے ہوئے تمام شہریوں کے مفاد کا یکساں خیال رکھ سکیں۔
مگر ایک بات طے ہے کہ زہران ممدانی کی کامیابی نے امریکی شہری سیاست میں ایک نیا باب کھول دیا ہے۔ یہ جیت صرف ایک امیدوار کی نہیں بلکہ ایک نظریے کی جیت ہے کہ نیو یارک صرف اونچی عمارتوں اور کاروباری منافعوں اور ارب پتیوں کا ہی نہیں بلکہ عام انسانوں کا بھی شہر ہے۔ اب آنے والے مہینوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہو گا کہ ممدانی اپنے وعدوں کو کس طرح حقیقت کا روپ دیتے ہیں۔ مگر فی الحال وہ ایک نئی امید، ایک نئے بیانیے اور ایک نئے دور کے نمائندہ اور امریکہ کے اہم ترین شہر کے سب سے کم عمر سربراہ بن چکے ہیں۔

ٹیگز: