امریکہ نے ہمیشہ چودھراہٹ کی ہے اور وہ اس کےلئے کسی حد تک بھی جاسکتا ہے کسی کی بھی پگڑی اچھال سکتا ہے کسی پر انسانی حقوق کا الزام لگا کر اس کا باجا بجا سکتا ہے کسی کو بھی وائٹ ہاﺅس بلا کر بے عزت کر یا کرا سکتا ہے جیسے گزشتہ دنوں یوکرین کے صدر کے ساتھ کیاجس کے ساتھ ٹرمپ معدنیات کا معاہدہ کرکے خرچ کی گئی رقم” کھری“ کرنا چاہتا تھا جس کے بدلے یوکرین نے سکیورٹی کا معاہدہ مانگا گیا تو ٹرمپ بڑھک اٹھے اور زیلنسکی کو بے عزت کرکے وائٹ ہاﺅس سے چلتا کیابات یہاں تک ہی محدود نہ رہی امریکی نائب صدر نے بھی یوکرینی صدر کا مذاق اڑایا نائب صدر جے ڈی وینس سابقہ امریکی فوجی اورایک کامیاب سرمایہ کار ہیں، وہ سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتاب کے مصنف ہیں اور کچھ عرصہ پہلے تک وہ ریاست اوہائیو سے امریکی سینیٹر رہے ہیں دیکھا دیکھی میں امریکی صحافی بھی یوکرینی صدر کے کپڑوں کا مذاق اڑاتے رہے انہوں نے زیلنسکی کو غریب اور حقیر قراردیدیادنیا کو انسانی حقوق کا بھاشن دینے والے امریکہ نے جس طرح یوکرینی صدرکو دنیا کے سامنے بے عزت کیا وہ اس کے اتحادیوں کےلئے لمحہ فکریہ ہے امریکہ نے ہمیشہ اپنے مفاد کو مقدم رکھا اور دوستی، دشمنی میں اخلاقیات بھی بول گئے،روس کی مخالفت میں یوکرین پر اسلحہ کی بارش کرنے والے امریکہ نے یوکرین کو آنکھیں دکھانا شروع کردیں اور روس کی حمایت کردی جس تبدیلی پر یورپ بھی حیران رہ گیااب کہا جا رہا ہے کہ یوکرین کے صدر زیلنسکی نے روس کے ساتھ امن کی حمایت نہ کی تو وہ زیادہ دیر نہیں رہ سکیں گے،اسی منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کےلئے یوکرین کی فوجی امداد روک دی گئی ہے ٹرمپ یوکرینی صدر کی گردن پر انگوٹھا رکھ کر معاہدہ کرانا چاہتا تھا جس سے زیلنسکی نے صاف انکار کردیاکہتے ہیں کہ منہ کو خون لگ جائے تو پھر وہ خون پینے سے باز نہیں آتا یہی گردان امریکہ کی ہے جس سے برطانوی وزیر اعظم کو بھی جھاڑاتھایہ بول کر کہ کبھی کبھی لینے کے دینے بھی پڑجاتے ہیں یہی امریکہ یوکرین اور روس جنگ میں 380 ارب ڈالر کی خطیر رقم خرچ کر چکا ہے اوراب سود سمیت ریکوری کے نام پر یوکرین سے 500 ارب ڈالر کے مخصوص معدنیات ہتھیانا چاہتا ہے تاکہ اپنی چودھراہٹ قائم رکھ سکے جس سے یوکرینی صدر نے صاف انکار کردیا اور یہ تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے کہ کسی غیر ملکی نے وائٹ ہاﺅس میں بیٹھ کر امریکی صدر کو للکارا ہے یہی ٹرمپ کےلئے نا قابل برداشت ہے کہ مجھے کوئی آنکھیں دکھائے لیکن کہا جاتا ہے کہ کبھی دادے دیاں تے کدے پوتے دیاں؟ہر بار سنانے والے کو کبھی کبھی چنگی طراں سننا بھی پڑتی ہے جو یوکرینی صدر نے سنادیں کیونکہ امریکہ ہر دوسرے ملک کے معاملات میں مداخلت کرتا ہے جس کی وجہ سے امریکہ سے نفرت دن بہ دن بڑھتی ہی چلی جا رہی ہے لیکن مسلم ممالک کی ہٹ دھرمی با بزدلی کی وجہ سے اسے بدمعاشی کرنے کی مزید شہہ ملتی ہے ٹرمپ نے آتے ہی اتحادیوں سمیت مخالفین کی طرف انگارے برسانا شروع کر دیئے اور کینیڈا کو 51ویں ریاست قرار دیدیا ادھر یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے معافی مانگنے سے صاف انکار کرتے ہوئے اپنے ملک کے لئے نیٹو کی رکنیت کے بدلے مستعفی ہونے کو تیار ہیں جس سے ٹرمپ کو سمجھ جانا چاہےے کہ کسی دباﺅ میں لاکر معاہدے کرنے کا دور گزر گیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یوکرینی ہم منصب ولودومیر زیلنسکی کے درمیان جھڑپ کے بعد لندن میں 18 ممالک کا یوکرین کی حمایت میں آگئے جو امریکہ کےلئے لمحہ فکریہ ہے،یورپی ممالک نے یوکرین کی حمایت کیلئے عالمی اتحاد تشکیل دینے اور دفاعی اخراجات بڑھانے پراتفاق کرلیا ہے ، یورپی رہنما¶ں کا کہنا تھا کہ وہ ٹرمپ کو دکھائیں گے کہ وہ امریکا کے بغیر بھی براعظم کا دفاع کرسکتے ہیں ، برطانوی وزیراعظم اسٹارمر کیئر نے کہا ہے کہ برطانیہ، یوکرین اور فرانس سمیت دیگر ممالک نے مرضی کے حامل ممالک کا اتحاد”کولیشن آف ولنگ“ تشکیل دینے پر اتفاق کرلیا ہے، یہ اتحاد مستقبل میں بھی روسی جارحیت کیخلاف اقدامات کرے گا جبکہ یوکرین کی حمایت اور جنگ بندی کے حوالے سے منصوبہ ٹرمپ کے ساتھ زیر بحث لایا جائے گا، لگتا ہے یورپ اب جاگ اٹھا ہے، یوکرین کے معاملے پر امریکا میں بھی تقسیم واضح نظر آرہی ہے، یورپی رہنماو¿ں نے اتفاق کیا کہ ٹرمپ کو یہ دکھانے کے لیے دفاع پر زیادہ خرچ کرنا چاہیے کہ براعظم اپنی حفاظت کر سکتا ہے اور بہت سی اقوام پہلے سے ہی مالی اخراجات کے ساتھ یہ جدوجہد کر رہی ہیں ،کیئر اسٹارمر کے مطابق امن معاہدے میں اہم کردار یورپ کو ادا کرنا ہوگاجس سے صاف ظاہر ہے کہ ٹرمپ کےلئے اقتدار کی مدت پوری کرنا مشکل ہو گا؟افغانستان سے جاتے ہوئے امریکہ اسلحہ چھوڑنا واشنگٹن کے گلے پڑ گیا ہے جبکہ پاکستان بھی اس عمل سے شدید متاثرہوا ہے ٹرمپ کو نظریہ ضرورت کے تحت پاکستان کی ضرورت ہے، ٹرمپ کا منصوبہ گریٹر اسرائیل قائم کرنے کا ہے، اس کی ثالثی قبول نہ کریں ورنہ حشر فلسطین والا ہوگا،پاکستان علاقائی سیاست کا محور بن ہے،ہم جتنا انحصارچین پر کرسکتے ہیں اور کسی ملک پر نہیں کر سکتے، چینی ہمارے ملک میں 100 سے زائد منصوبوں پر کام کر رہا ہے جبکہ امریکہ نے پاکستان کو استعمال کیا ہے ہمیں اپنے مفادات کو ترجیح دینا ہو گی اور امریکہ کو بھی جان لینا چاہےے کہ پاکستان ایٹمی طاقت ہے کسی کی کالونی نہیں جو دن کورات اور رات کو دن کہے اگر ٹرمپ نے چودھراہٹ نہ چھوڑی تو وہ وقت دور نہیں کہ اقتدار سے بھی جائے گا اور امریکہ جلد ٹوٹنے کے قریب پہنچ جائے گا؟۔