اب بھلا مانے تو کس کی بات مانے، یقین کریں تو کس کے دعوے پر یقین کریں۔ چار کھونٹ آپ کو دروغ گوئی، مبالغہ آمیزی اور غلط اعداد و شمار دینے کا ایک ایسا رجحان نظر آتا ہے جس کا کوئی اختتام نہیں۔ ایسے میں ہمارے محبوب وزیراعظم آئے روز ایسے دعوے کرتے نظر آتے ہیں کہ دل تو چاہتا ہے کہ ان کے اوپر یقین کر لیں تاہم کیا کریں حقائق جب بلند آواز ان دعووں کی نفی کریں تو پھر ہم کیا کریں۔ یقین تو دور کی بات ان پر کان دھرنے سے بھی دل ڈرتا ہے۔
وزیر اعظم کا دعویٰ ہے کہ مہنگائی 9 سال کی کم ترین سطح پرہے، جنوری میں مہنگائی کی سطح 2.4 فیصد پر آ چکی ہے جس پر وہ وزیر خزانہ، ان کی ٹیم اور ایف بی آر کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ ایسے میں انہوں نے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں مہنگائی کی شرح 81 ماہ کی کم ترین سطح پر آنے پر اظہارِ اطمینان کیا ہے اور اسے خوش آئند قرار دیا ہے۔ بات یہاں تک رہتی تو شاید کچھ مناسب ہوتا۔ چند قدم اور آگے بڑھے اور کہہ ڈالا کہ دسمبر 2024 میں مہنگائی کی شرح 4.1 فیصد پر آنا خوش آئند ہے، میکرو اکنامک استحکام حاصل کر لیا ہے لیکن یہ صرف آغاز ہے، ہم نے اڑان پاکستان جیسے منصوبے کا آغاز کیا، یہ منصوبہ پاکستان کو دنیا کے صف اول ممالک میں کھڑا کر دے گا۔ وزیر اعظم کے دعوے نہایت دل پذیر اور خوشنما ہیں دل چاہتا ہے کہ ان پر فوراً یقین کر لیں لیکن ایک اور خبر نے ہمیں جھنجوڑ کر رکھ دیا خبر کیا تھی گویا ایک بجلی جو ملکی معیشت کی اصل تصویر کشی کر رہی ہے اڑان پاکستان منصوبہ ملک کو کہاں پہنچا چکا ہے اور آگے کیا ہونے جا رہا ہے سب طشت ازبام ہونے لگا ہے۔ خبر کے مطابق ملکی ایکسپورٹس میں اچانک ایک بہت بڑی تنزلی واقع ہوئی ہے۔ صرف 1 ماہ میں ملکی برآمدات نصف ارب ڈالر سے زائد نیچے جا چکی ہے۔ رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال 2024-25 کے پہلے8 ماہ (جولائی تا فروری) کے دوران ملک کا تجارتی خسارہ 6.33 فیصد اضافے کے ساتھ 15 ارب 78 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا، گذشتہ ماہ (فروری2025) کے دوران ملکی ایکسپورٹس میں 17.35 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
وفاقی ادارہ شماریات کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ ماہ (فروری) میں ایکسپورٹس کا حجم 2 ارب 43 کروڑ 90 لاکھ ڈالر رہا ہے جو جنوری 2025 میں 2 ارب 95 کروڑ ڈالر تھا۔ ملکی برآمدادت میں ایک بڑی کمی اس امر کی طرف بھی اشارہ کرتی ہیں کہ پاکستان میں رائج ٹیکسوں کے بھاری اور غیر منصفانہ نظام، حکومتی پالیسیوں اور حکومتی مشینری کی چیرا دستیوں کے باعث ملکی انڈسٹری جس میں خاص طور پر ٹیکسٹائل اس کا شعبہ شامل ہے، بُری طرح تباہ ہو چکا ہے۔ فیکٹریاں اور ملیں تیزی سے بند ہو رہی ہیں، ملکی بزنس مین اور مینوفیکچرز اپنا بزنس پاکستان سے باہر شفٹ کر رہے ہیں۔ جہاں تک پاکستان کے نصیب جلے عوام کا تعلق ہے تو وہ رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں بھی نہ صرف مہنگی بجلی، پٹرول اور گیس خریدنے پر مجبور ہیں بلکہ آسمان سی باتیں کرتی ہوئی اشیاءخور و نوش کی قیمتوں نے انہیں چکرا کر رکھ دیا ہے انہیں جان خلاصی کی کوئی صورت بھی نظر نہیں آتی۔ ایک جانب مشکل مالی حالات کا رونا رو کر حکومت کفایت شعاری اور سادگی کے بہانے سرکاری ملازمین کی ایک بڑی تعداد کو فارغ کر رہی ہے تو دوسری جانب اراکین اسمبلی کی تنخواہوں اور دیگر مراعات میں اربوں روپے کا ہوشربا اضافہ کر کے اپنے ہی دعووں کی نفی بھی کر رہی ہے۔ ایسے میں وفاقی کابینہ میں وزراءاور مشیروں کی ایک نئی فوج ظفر موج کا اضافہ گویا مرے کو مارے شاہ مدار کے مترادف ہے۔
اب کچھ بات کرتے ہیں ملک میں امن و امان کی جس کی بہتری کے بغیر ملک میں معیشت کی ترقی کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ بلوچستان اور خیبر پختون کا صوبہ تو پہلے ہی دہشت گردی او شر پسندی کی نذر ہو چکا ہے ایسے میں پنجاب کے علاقے ڈی آئی خان اور ملحقہ علاقوں میں صورتحال تیزی سے بگڑ رہی ہے یہاں خوف کا یہ عالم ہے کہ رات کے وقت قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار بھی رات کے وقت باہر نکلنے سے گھبراتے ہیں۔ ایسے میں موٹروے اور نیشنل ہائی وے پر سرکاری اہلکاروں کی گاڑیوں کے جلائے جانے اور ان سے سرکاری اسلحہ لوٹنے کے حالیہ واقعات یقیناً پریشان کن ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہاں بھی دہشت گردوں اور شر پسند عناصر نے ڈیرے ڈال لیے ہیں اور اگر ان کے خلاف بروقت اور سخت کارروائی نہ کی گئی تو آنے والے دنوں میں حالات مزید دگر گوں ہو سکتے ہیں۔
یہ امر بھی قابل غور ہے کہ حالیہ دنوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے ہونے والی کارروائیوں میں افغان فورسز کے اہلکاروں کی ہلاکت اس حقیقت کی غمازی کرتی ہے کہ پاکستان کی دشمن قوتیں جن میں بھارت، اسرائیل اور امریکہ سر فہرست ہیں افغانستان کے راستے پاکستان میں کوئی نیا کھیل کھیلنا چاہتے ہیں۔ افغان سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی پاکستان کے اندر موجودگی اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ افغانستان کے راستے پاکستان کے اندر کوئی گوریلا جنگ شروع کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور اگر ایسا ہو رہا ہے تو اس کے خطے کے امن پر گہرے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ وزیراعظم شہباز شریف صاحب نے درست کہا ہے افغانستان کی حکومت اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے کیونکہ اس صورت میں پورا خطہ ہی انتشار اور ابتری کا شکار ہو جائے گا۔