Wed, September 16, 2026

ادب، ادیب اور اعزاز

ادب، ادیب اور اعزاز

سٹیج پر براجمان ادیب اس تقریب کے بہت اہم لوگ تھے۔ وہ بیک وقت میزبان بھی تھے اور مہمان خصوصی بھی۔ سٹیج پر رکھی کرسیوں میں سے ذرا بڑی کرسی درمیان میں اس لیے رکھی تھی کہ وہ صدارتی کرسی تھی۔ صدارتی کرسی پر بیٹھا ہوا بزرگ ادیب اس لیے صدارت نہیں فرما رہا تھا کہ اس کے قلم سے بڑا ادب تخلیق ہوا تھا یا اس کے اشعار کائناتی گرہ کھولنے کے لیے الہام ہوئے تھے، بلکہ وہ اس لیے کرسی صدارت پر براجمان تھا کہ وہ سرمایہ داروں اور صنعت کاروں سے فنڈز تخلیق کر کے ادبی ایوارڈ جاری کرتا تھا اور اسی ایوارڈ کی بنا پر ادیب اور شاعر اپنا مقام از خود متعین کرتے تھے۔
کرسی صدارت کے طرفین میں بیٹھے مہمان خاص اور مہمان اعزاز بھی اس لیے ان اہم نشستوں پر نہیں بیٹھے تھے کہ ان کے قلم سے ہمیشہ زندہ رہ جانے والا فکشن تخلیق ہوا تھا یا وہ مقبول ادیب تھے بلکہ وہ اس لیے اہم تھے کہ وہ پروفیسر تھے اس لیے بطور نقاد سچے تخلیق کاروں کے مقام کا تعین کرتے تھے، ان کے پاس اچھا ادب تخلیق کرنے کا وقت نہ تھا اس لیے وہ نقاد ہو چکے تھے۔ ایک خوبی ان میں یہ بھی تھی کہ وہ کئی ادبی کانفرنسوں کے مہتمم بھی تھے اور کلی طور پر بااختیار بھی۔ اس لیے اپنی پچ سازگار رکھنے کے لیے تمام ادبی حلقے انہیں اپنا باس ماننے پر مجبور تھے۔ یہ تو ایک ادبی تقریب کا احوال چشم دید تھا جو شہر زندہ دلان میں منعقد ہوئی مگر دراصل یہی حال ہر تقسیم ایوارڈز کی تقریب کا بھی ہے جہاں پر ہمیشہ تعلقات، برتری، عہدے اور سیاسی طاقت حسن تخلیق کے ہر فن پارے پر بھاری ثابت ہوئے۔ بیرون ممالک سے آنے والے ادیب اور شاعر اپنی کج ادائی کے باوجود ایوارڈز کے حق دار ٹھہرتے ہیں کیونکہ وہ ادبی مظاہروں اور مشاعروں کے منصفین کے لیے دور دیسوں میں بہترین میزبانی ثابت کر چکے ہوتے ہیں اور ان کی مہمان نوازی بہرحال ان کے شعری و نثری اظہار سے زیادہ معتبر ہے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ سرحد پار سے پاکستان میں آنے والے پاکستان ہی کے تارکین وطن فنکاروں کو بے پناہ داد بھی ملتی ہے اور وہ ایک دو میزبانوں کے کانوں میں آئندہ دورے میں آپ کا نام تجویز کروں گا جیسی پھلجھڑیاں چھوڑ کر اپنا آئندہ پروگرام بھی پکا کر لیتے ہیں۔
کچھ ادیب ایک آدھ ادبی تنظیم بنا کر بھی وہ مقام حاصل کر لیتے ہیں جو سچے فن کار کے نصیب میں تمام عمر کی ریاضت کے بعد بھی نہیں آتا۔ ادبی تنظیم کی تاحیات سربراہی اور کچھ دے یا نہ دے علاقائی سطح پر ادبی مقام ضرور عنایت کر دیتی ہے۔ جاہ و حشمت کے طلب گاروں کا ماننا ہے کہ فروغ ادب کے لیے قائم سرکاری اداروں کے سربراہوں کے دوروں کے شیڈول کا انہیں علم ہوتا ہے اس لیے ان کے استقبالیہ سے الوداعیہ تک کے مراحل میں پیش پیش رہ کر کچھ اعزازی عہدے اور چھوٹے چھوٹے ایوارڈ تو مل ہی جاتے ہیں، ساتھ ساتھ مرکزی شہروں میں ہونے والے فیسٹیولز کی دعوتیں بھی ادبی مقام کو مزید مضبوط بناتی ہیں۔
باہمی تبادلہ گفت و شنید کی جگہ اب باہمی تبادلہ دعوتی کارڈز نے لے لی ہے۔ یتیموں اور مساکین سے پہلے اقربا کا خیال کچھ اس طور رکھا جاتا ہے کہ مجال ہے پچاس متشاعروں کی فہرست میں کوئی ایک بھی شاعر شامل ہو۔ مذاکروں میں اب افسانہ، کہانی، ناول، نظم یا غزل پر بات نہیں ہوتی کیونکہ ایسا کرنے کے لیے شریک گفتگو کو کچھ مطالعہ ثابت کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے سامعین و حاضرین کو الجھانے کے لیے کچھ ایسے موضوعات پر بات کی جاتی ہے کہ اول سے آخر تک کسی ذہن پر کوئی سوال نہ ابھر سکے۔ گزشتہ تین سال کے دوران کچھ ایسے موضوعات نے ادبی مذاکروں، مکالموں اور فیسٹیولز میں جگہ پائی ہے:
اردو افسانے میں وائس چانسلر کی عدم تعیناتی سے پیدا شدہ تغیرات کا جزوی مطالعہ
جدید غزل میں کرونا سے پیدا ہونے والی شعری کمزوریوں کے استعاروں کا فقدان
اردو صحافت کے زوال میں حالیہ سیلاب سے ہونے والی تباہی کا کردار
مذکورہ بالا موضوعات پر محفلیں سجا کر ہم سمجھتے ہیں کہ ایک جینوئن ادیب معاشرتی مسائل کو حل کرنے میں کیوں ناکام رہا ہے۔

ٹیگز: