سویلین کا ملٹری کورٹس میں کیس چل سکتا ہے یا نہیں اس حوالے سے آئینی بینچ میں جو سماعت ہو رہی ہے اس پر محترم ججز کے ریمارکس کے بعد کیا فیصلہ آ سکتا ہے ۔ہم نے اپنی تحریروں میں ایک سے زائد بار اس بات کا ذکر کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور میں پشاور ہائی کورٹ کے اس وقت کے چیف جسٹس سیٹھ وقار احمد نے فیصلہ دیا تھا کہ سویلین کا ملٹری کورٹ میں ٹرائل نہیں ہو سکتا لیکن اس فیصلے کے خلاف تحریک انصاف کی حکومت نے سپریم کورٹ میں اپیل کی تھی ۔ سیانے کہتے ہیں کہ ہاتھوں سے لگائی گرہیں بسا اوقات دانتوں سے کھولنا پڑتی ہیں۔ ہم خیال ججز کا معاملہ اور تھا کہ وہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی انجان بن جاتے تھے لیکن جن محترم ججز نے آئین اور قانون کی پاسداری کا حلف اٹھایا ہوا ہے اور وہ صدق دل سے اس پر عمل بھی کرتے ہیں اور اپنے ضمیر کے مطابق نہیں بلکہ آئین اور قانون کے مطابق فیصلے کرتے ہیں ان کے سامنے جب وکیل پیش ہوتا ہے تو پھر وہاں جو سوال جواب ہوتے ہیں ان میں کسی پہلو سے صرف نظر نہیں کیا جاتا ۔ ا س پر مزید بات کریں گے لیکن پہلے اسی سے متعلق جڑے کچھ معاملات پر چند گذارشات ۔ گذشتہ ہفتہ اڈیالہ جیل سے خبریں آئی تھیں کہ بشریٰ بی بی کے جیل میںآنے کے بعد بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے کھانے کے ماہانہ اخراجات سات لاکھ روپے ہو گئے ہیں ۔ پہلے یہ چار سے پانچ لاکھ تک تھے ۔ یہ اخراجات ان کی فیملی برداشت کرتی ہے ۔ کھانے کا مینو عمران خان سیٹ کرتے ہیں جس میں ناشتے میں فریش جوسز اور ناریل ۔ دن میں تین مرتبہ کافی ۔پنک سالمن مچھلی انھیں پسند ہیں ۔ دیسی مرغ کی یخنی کا استعمال کرتے ہیں ۔ ہر روز بانی پی ٹی آئی کی فرمائش پر جیل میں ان کے لئے کھانا تیار ہوتا ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ انھیں ایک مشقتی بھی ملا ہوا ہے اور ایکسرسائز مشین بھی ہے ۔ کچھ لوگ جن کا تعلق بانی پی ٹی آئی کے فین کلب سے ہے وہ خان صاحب کی سال ڈیڑھ سال کی قید کو لے کر انھیں نیلسن منڈیلا بنانے پر تلے رہتے ہیں ۔ نیلسن منڈیلا نے ستائیس سال جیل کاٹی تھی اس تمام عرصے میں کسی ایک دن بھی اگر انھیں یہ سہولتیں ملی ہوں کہ جن کے مزے بانی پی ٹی آئی لے رہے ہوں تو ہمیں بتا کر ہمارے علم میں بھی اضافہ کیا جائے ۔
آپ سوچ رہے ہوں گے کہ جیل میں بانی پی ٹی آئی کو ملی سہولیات کا سویلین کا ملٹری کورٹس میں ٹرائل کیس سے کیا تعلق تو بڑا ہی گہرا تعلق ہے اس لئے کہ ملٹری کورٹس ٹرائل کیس میں ہی بانی پی ٹی آئی کے جیل سے لکھے گئے خطوط کا بھی ذکر ہوتا رہا تو یہ جو ہر روز جیل میں ملاقاتوں کا میلہ لگا ہوا ہے اور اڈیالہ جیل ایک طرح سے تحریک انصاف کا کیمپ آفس بن چکی ہے تو زمینی حقائق کو دیکھتے ایسے لگتا ہے کہ یہ سب جلد ختم ہونے والا ہے ۔ اس لئے کہ میڈیا میں جمہوریت ، جمہوری اقدار اور انسانی حقوق کے متعلق بھاشن دینا بڑا آسان ہوتا ہے لیکن عدالت میں جب بانی پی ٹی آئی کے وکیل عزیز بھنڈاری سے اور دیگر وکلاءسے بھی بار بار ایک ہی سوال کیا گیا کہ آرمی ایکٹ کی شق 2-Dکے خلاف کیا تحریک انصاف یا کسی سیاسی جماعت نے کوئی بل اسمبلی میں پیش کیا ۔ جواب خاموشی ۔ کیا کسی ممبر نے ذاتی حیثیت میں اس کے خلاف کوئی ترمیم پیش کی تو جواب خاموشی ۔کیا کبھی اس کے خلاف کسی نے آواز بلند کی تو جواب میں پھر خاموشی ۔ اس پر محترم ججز نے ریمارکس دیئے کہ آرمی ایکٹ میں ترمیم کے مطابق اگر گٹھ جوڑ ثابت ہو جائے تو سویلین کا ملٹری کورٹس میں ٹرائل ہو سکتا ہے ۔ اب ملین ڈالر سوال ہے کہ جو کارکن نو مئی کے کیس میں گرفتار ہیں ان میں سے تو کوئی کسی گٹھ جوڑ میں ملوث نہیں ہو سکتا اس لئے کہ کارکن بیچارے کی اتنی اوقات ہی نہیں ہوتی کہ وہ کسی سے گٹھ جوڑ کر سکے یا کوئی اسے اس قابل سمجھے کہ اس سے گٹھ جوڑ کرے تو یہ ایک واضح اشارہ ہے کہ جو عام کارکن ہیں ان کا تو نہیں لیکن 9مئی کے کیس میں بانی پی ٹی آئی کا ملٹری کورٹس میں ٹرائل ہو سکتا ہے ۔ دوسرا سیاسی پنڈت کہتے ہیں کہ جنرل فیض کے کیس کا فیصلہ بھی عید سے پہلے ہونے کے امکانات ہیں اور اگر اس میں یہ ثابت ہو گیا کہ جس کی طرف شواہد اشارہ کرتے ہیں کہ بانی پی ٹی آئی کا جنرل فیض حمید کے ساتھ گٹھ جوڑ تھا تو پھر اس کے بعد بانی پی ٹی آئی اڈیالہ جیل سے آرمی کی تحویل میں چلے جائیں گے اور اور اگر ایسا ہوتا ہے تو پھر کون سی ملاقاتیں اور کون سا فوڈ مینو ۔پھر تو وہی ہو گا کہ جو جنرل فیض کے ساتھ ہو رہا ہے کہ اگست2024سے گرفتار ہیں اور ان کے متعلق فقط وہی خبر سننے کو ملتی ہے کہ جو ڈی جی آئی ایس پی آر بتاتے ہیں ۔
سویلین کا ملٹری کورٹ میں ٹرائل کیس جیسے جیسے آگے بڑھ رہا ہے تو اس کے اثرات پاکستان کی سیاست پر تو مرتب ہو ہی رہے ہیں لیکن خود تحریک انصاف کے اپنے اندر بھی اس حوالے سے بہت کچھ ہو رہا ہے ۔جس میں تحریک انصاف میں اختلافات کی شدت اور خود بانی پی ٹی آئی کی فرسٹریشن میں اضافہ ہونا اور اس کے نتیجہ میں جو فیصلے ہو رہے ہیں ان کی وجہ سے مزید اختلافات پیدا ہو رہے ہیں ۔ شیر افضل مروت کو پارٹی سے نکالنا اور مروت کا سلمان اکرم راجہ کو اس کے لئے کھل کر مورد الزام ٹھہرانا ۔ یہ سب تحریک انصاف میں اختلافات کی خبریں دیتے ہیں ۔اس کے علاوہ بانی پی ٹی آئی کا کچھ لوگوں کو خیبر پختون خوا کی کابینہ میں شامل کرنے کا حکم دینا لیکن گنڈا پور کا جیل میں عمران خان سے ملنا اور انھیں ان دو بندوں کو کابینہ میں شامل نہ کرنے پر راضی کرنا یا یہ سمجھ لیں کہ انھیں شامل کرنے سے چٹا انکار ۔ یہ سب بھی تحریک انصاف میں اختلافات کا پتا دیتے ہیں اور پہلی بار بانی پی ٹی آئی کی گرفت پارٹی پر کمزور ہو رہی ہے۔