اِس مضمون کا عنوان ایک گانے سے مستعار لیا گیا ہے جو پاکستان ٹیلی وژن نے 1974ءمیں ہونے والی اِسلامی سربراہی کانفرنس کے موقع پر ترتیب دِیا تھا۔ یہ گانا بے حد مقبول ہوا تھا۔ آج کے دور کے لوگ البتہ اِس گانے سے ناواقف ہیں۔ اپنی بیوی سے بات کرتے ہوئے مجھے آج اچانک اِس گانے کا خیال آیا۔ میں نے سوچا کہ جو کچھ یہ گانا بتا رہا ہے وہ یقیناً ا±س زمانے کے پاکستانی مسلمانوں کی سوچ تھی۔ اِسی وجہ سے یہ بے حد مقبول ہوا تھا۔ ہمیں سب سے پہلے تویہ غور کرنے کی ضرورت ہے کہ اِس میں کیا کہا گیا ہے۔
شاعر نے بتایا ہے کہ مسلمان قوم ہمیشہ کوشش اَور تبدیلی کی دوست رہے گی۔ یعنی مسلمان د±نیامیں آگے بڑھنے اَور تبدیلی لانے یا تبدیلی کو گلے لگانے میں ہمیشہ پہل کریں گے۔ لیکن پھر یہ ہوا کہ زمانہ بدلا اَور اسی کی دہائی میں ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ تبدیلی ہمارے لیے نہیں ہے۔ اگر ہم میں تبدیلی آگئی تو ہمارا اِسلام خطرے میں پڑ جائے گا۔ چنانچہ ہمیں چاہیے کہ ہم چودہ سو سال پہلے کے زمانے میں لوٹ جائیں اَور کسی طرح سب کچھ ویسا ہی کرلیں۔ د±وسری بات اِس سوچ کے ساتھ خودبخود اپنی موت آپ مرگئی۔ وہ تھی کوشش۔ جب ہم نے آگے ہی نہیں بڑھنا تو کوشش کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ چنانچہ ہم نے کوشش سے بھی مجموعی طور پر ہاتھ ا±ٹھا لیے۔ اَب ہماری کوشش زیادہ تر صرف ایک سمت میں رہ گئی ہے۔ وہ ہے زیادہ سے زیادہ پیسہ بنانا۔ ا±دھر ہمارا دِماغ خوب چلنے لگا۔ لیکن یہ پیسہ بھی اِنفرادی سطح پر بنانا ہمارا مطمع نظر بن گیا۔ ملک و قوم کو اَمیرکرنے کے بارے میں ہم نے کبھی نہیں سوچا۔ مسلمانوں کی تارِیخ میں بھی اِس طرح کی مثالیں ملتی ہیں کہ ا±نہوں نے تبدیلی کا اِنکار کردِیا۔ جب جرمنی میں آف سیٹ پرنٹنگ پریس اِیجاد ہوا تو سلطنت عثمانیہ کے بادشاہ سلطان بایزید دوم نے اِس پر پابندی لگا دی۔ یہ بات 1485ءکی ہے۔ یہ پابندی تین سو سال تک جاری رہی۔ اِس دوران د±نیا نے کتابیں چھاپ کر خوب ترقی کی جب کہ ہم ہاتھ سے ہی کتابیں لکھتے رہ گئے۔ تب بھی ہم نے کہا تھا کہ یہ بے ہودہ اِیجاد ہے اَور جہنم سے آئی ہے۔
لہٰذا آج کے دور میں یہ گانا اَور یہ سوچ نہ صرف پرانی ہے بلکہ غلط بھی قرار دی جاچکی ہے۔ پاکستانیوں نے تیزی سے تبدیل ہوتی ہوئی د±نیا کے بارے میں غور کرنا چھوڑ دِیا یا ا±س کی جانب سے آنکھیں بند کرلیں۔ د±نیا اَپنی رفتار پر چلتی ہوئی کہیں سے کہیں جاپہنچی۔ ہمیں یہ بتایا گیا کہ د±نیا جہنم کی طرف جارہی ہے۔ لہٰذا اِس کی طرف دیکھنا بھی مت۔ پیچھے کی طرف دیکھو۔ لیکن زمینی حقائق یہ ہیں کہ بہت سے معاملوں میں اَب پیچھے دیکھنا ممکن نہیں رہا۔ معاشی معاملات، سفارتی تعلقات، سیاسی صورتِ حال میں وقت کے ساتھ بہت سی تبدیلیاں آئی ہیں۔ ہم نے بہت کوشش کی کہ ہم اِن سے کسی طرح جان چھڑا لیں لیکن اسی کی دہائی سے پہلے تک پاکستان ایک سمت میں سفر شروع کرچکا تھا۔ ہم د±نیا کے ساتھ چل رہے تھے اَور ترقی بھی کررہے تھے۔ اِس سفر کو روکنا اَور واپس پلٹ جانا ممکن نہیں تھا۔ چنانچہ ہم نے کبوتر کی طرح آنکھیں بندکرلیں۔ ہم نے کہا کہ ہم رک چکے ہیں۔ لیکن ہم بعض معاملات میں چلتے رہنے پر مجبور تھے۔ چنانچہ قوم کے اَندر پہلے ایک کھنچاو¿ اَور پھر تقسیم پیدا ہوگئی۔ اَب قوم واضح طور پر دو حصوں میں تقسیم ہوچکی ہے۔ کچھ لوگ ہمیں واپس گھسیٹنا چاہتے ہیں۔ کچھ لوگ ہمیں آگے لے جانا چاہتے ہیں۔ چنانچہ قوم چوں چوں کا مربہ بن کر رہ گئی ہے۔
اِس میں شک نہیں کہ ہمارے اَندر کچھ خوبیاں بھی پائی جاتی ہیں۔ صرف خرابیوں میں مبتلا قوم د±نیا میں زیادہ عرصہ زِندہ نہیں رہ سکتی۔ لیکن جو بات ہم نہیں جانتے یا جاننا نہیں چاہتے وہ یہ ہے کہ ہماری خرابیاں ہماری خوبیوں کو کھارہی ہیں۔ اگر ہم نے اِس طرف توجہ نہ دی تو وہ وقت زیادہ د±ور نہیں جب یہاں اچھے لوگوں کا شدید فقدان ہوجائے گا۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ جو لوگ اچھاپڑھ لکھ جاتے ہیں وہ ملک چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔ یہ سلسلہ migrationسے بڑھ کر exodus تک جاپہنچا ہے۔ لوگ قانونی یا غیرقانونی طور پر، جس طرح بھی ممکن ہو، ملک سے بھاگ رہے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ہمارے ملک کی کریم ہیں۔ اِنہی لوگوں کے ساتھ اَصل خوبیاں بھی نکل جائیں گی۔ پیچھے وہ خوبیاں رہ جائیں گی جنہیں ہم خوبیاں کہیں گے لیکن دراصل ا±ن کے ہونے سے معاشرے میں کسی قسم کا کوئی سدھار پیدا نہیں ہوسکتا۔ ہم نے یہ جاننے کی کوشش ہی ترک کردی ہے کہ تغیر یا تبدیلی کیسے پیدا کی جائے۔ د±نیاکے ساتھ کیسے چلا جائے۔ تیزی سے تبدیل ہوتی د±نیاکے ساتھ کیونکر قدم ملائے جائیں۔ ہمیں یہ بتایا گیاہے کہ د±نیا کے ساتھ قدم ملاکر چلنا ہمیں کفر تک لے جائے گا۔ چنانچہ ہم سوچ اَور عمل میں برف پوش پہاڑ بن چکے ہیں۔ اِس قدر سردی میں ہماری سوچ بھی جم چکی ہے۔
وہ لوگ جو ملک میں واقعی کچھ اچھا کام کررہے ہیں اِس ملک کی آبادی کا دس فیصد بھی نہیں ہیں۔ پچیس کروڑ کی آبادی میں آپ کو اگر ڈھائی کروڑ اَیسے افراد مل جائیں جو ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرانے کی سعی کررہے ہیں تو یہ بھی بڑی بات ہو گی۔ میرا نہیں خیال کہ اَیسے لوگوں کی تعداد ڈھائی کروڑ ہے۔ اِس میں آپ سائنس دان، انجینئر، ڈاکٹر، فوجی، صنعت کار، ماہر معاشیات، اچھے اَور لائق اساتذہ سب بھی شامل کرلیں تو بھی شاید آپ کو ڈھائی کروڑ اَیسے افراد نہ مل سکیں۔ دس فیصد افراد نوے فیصد کی تقدیر تبدیل نہیں کرسکتے خاص طور پر جبکہ وہ نوے فیصد سعی اَور تغیر کو نہ صرف ناپسند کرتے ہیں بلکہ بعض معاملات میں تو ا±سے کفر ہی جانتے ہیں۔ ا±ن کا خیال ہے کہ د±نیاکےلئے سعی کرنا، اِس کی بہتری کی خواہش رکھنا دراصل آخرت کا اِنکار ہے اَور آخرت کا اِنکار کفر ہے۔ چنانچہ جو شخص اَپنی توانائیاں د±نیا کو بہتر بنانے پر صرف کررہا ہے وہ دراصل گمراہ اَور بھٹکا ہوا اِنسان ہے اَور ا±س سے جتنا د±ور رہا جائے ا±تنا ہی بہتر ہے۔ چنانچہ وہ گمراہ لوگ ملک میں مس فٹ ہیں۔ اِسی لیے وہ چاہتے ہیں کہ یہاں سے جلد سے جلد د±ور نکل جائیں جہاںوہ اَپنی صلاحیتیں اَور علم بہتر طور پر اِستعمال کرسکیں۔ پھر یہ ہوتا ہے کہ د±نیا ہمارے ہی ٹیلنٹ سے فائدہ ا±ٹھاتی ہے اَور ہم اَپنی برف میں اَور زیادہ دھنس جاتے ہیں۔
تبدیلی کا آنا ناگزیر ہے۔ د±نیا ہرلمحہ بدل رہی ہے۔ اِسلام وہ واحد مذہب ہے جو تبدیلی کو ہمیشہ پسندکرتاہے۔ د±نیاکا کوئی د±وسرا مذہب تبدیلی کو گلے سے نہیں لگاتا۔ لیکن ہوا یہ ہے کہ د±وسرے تمام لوگوں نے تبدیلی کے ہاتھوں میں ہاتھ دے دیئے اور ہم منہ دیکھتے رہ گئے۔ ہم نے کہاکہ پیچھے دیکھو۔ آگے بڑھے تو جہنم میں جاگرو گے۔ یہی معاملہ سعی کے حوالے سے بھی ہوا۔ ہم نے ہرطرح کی کوشش سے ہاتھ ا±ٹھا لیے۔ اَب اَپنی تعریفوں کے پل باندھنے سے کچھ نہیں ہوگا۔ اَپنی شان میں گیت گانے سے بھی کچھ نہیں ہوگا۔ ہمیں آنکھیں کھول کر د±نیااَور اَپنے آپ کو دیکھنا پڑے گا تب ہی کوئی بہتری آئے گی۔