غزہ کے درد، رنج ،غم، بھوک اور پیاس سے بلکتے مسلمان ہر طرف امید بھری نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔امید و بیم کی کیفیت میں وہ ہر گھڑی ایک نئے امتحان میں ہیں۔۔ شیر خوار بچوں سے لے کر ، جوانوں، عورتوں اور بوڑھوں تک مظلوم شہیدوں کا بہتا لہو، ملبے کے ڈھیر، زخمیوں کی چیخ و پکار اوربارودکے دھویں میں ہر طرف قیامت صغریٰ کا سماں ہے مگرمسلم دنیا جانے کن مصلحتوں میں گم ہے۔۔انسانی حقوق کی کھلے عام ، وہشت آمیزاور ہولناک، خلاف ورزیاں جاری ہیں۔۔مگر انسانیت کا اجتماعی ضمیر جانے کہاں جا سوگیا ہے۔۔۔! انسانیت پر دن دیہاڑے مسلسل ظلم و جبر جاری ہے ، معصوم بچوں کی لاشیں سڑکوں پر بکھری ہیں، آسمان دھویں اوربارود سے اٹا پڑا ہے۔وحشیانہ بمباری جاری ہے۔انسانیت درد بھری آہوں، سسکیوں اور چیخوں سے پکار رہی ہے مگریہ کیسی دنیا ہے، جو سب کچھ دیکھ کر بھی خاموش ہے۔۔!
غزہ میں روز قیامت بپا ہوتی ہے۔ اسرائیل اپنی فضائی صلاحیت، فوجی طاقت، جدید میزائل ٹیکنالوجی اور سیاسی پشت پناہی کا وحشیانہ استعمال کرتے ہوئے ہزاروں فلسطینیوں کو نشانہ بنارہا ہے۔اس کے ظلم و جور سے رہائشی علاقوں، تجارتی مراکز، ہسپتالوں، سکولوں، پناہ گاہوں اور امدادی کیمپوں سمیت کوئی بھی جگہ محفوظ نہیں۔ پوری دنیا کے میڈیا پرمظلوم اور بے بس فلسطینی مسلمانوں کی بے بسی اور مظلومیت کی دہائی دیتی تصویریں چیخ رہی ہیں، لیکن عالمی ادارے خاموش ہیں، اقوامِ متحدہ بے بس اور مسلمان دنیا مصلحتوں میں الجھی ہوئی ہے۔۔۔! زبانی کلامی بیانات کے سلسلے جاری ہیں مگر عملاً اسرائیل کے ظلم و ستم اور جبر و استبداد کا بڑھتا ہواہاتھ روکنے کو کوئی تیار نہیں۔۔۔!
اس بحران کا ایک نیا اور پیچیدہ پہلو ایران پر اسرائیلی حملے ہیں۔ ایران نے بارہا فلسطینی مزاحمتی تنظیموں، خصوصاً حماس اور اسلامی جہاد کو اخلاقی و عسکری حمایت فراہم کی ہے۔ لیکن اب حالات بدل چکے ہیں۔حالیہ مہینوں میں اسرائیل نے ایران کی سرزمین پر براہِ راست حملے کرکے اہم عسکری شخصیات اور انٹیلی جنس نیٹ ورک کو نشانہ بنایا ہے۔ ایران نے بھی اس پر مقدور بھر ردعمل دے کر کسی قدرعزت و وقار سے اپنے جینے اور آگے بڑھنے کی راہ نکالی ہے مگر مسلسل بمباری سے سلگتا فلسطین پہلے سے بھی کہیںزیادہ اکیلا ،بے یارومددگار ، بھوک اور پیاس کی شدت میں روز جی رہا اور روز مر رہا ہے۔۔۔!
اسرائیل اپنے بیانیے کے مطابق خود کو ”دفاع “کا حق رکھنے والی ریاست کے طور پر پیش کرتا ہے، لیکن سوال یہ ہے غزہ کی صورت دنیا کی ”محصور بستی “کے لاکھوں شہری کب تک زندہ رہنے کے لیے ”دفاع “کی قیمت اپنی جان و مال کی تباہی سے چکاتے رہیں گے۔۔۔؟ ہزاروں ٹن بارود، جدید بمبار طیارے، گائیڈڈ میزائل ، ٹینک ، ڈرون اور پھر زمینی افواج کا استعمال کیایہ دفاع ہے یا غزہ اور دیگر مقبوضہ علاقوں پرقبضہ مضبوط کرنے کا ایک بھیانک اور خوفناک منصوبہ ہے۔۔۔!
ایسے میں مغربی دنیا ،خصوصاً امریکہ اور یورپی طاقتیں بظاہرانسانی حقوق، جمہوریت اور آزادیِ اظہار کے بہت بڑے دعوے دار ہیں مگر فلسطین کا نام آتے ہی وہ سب کچھ بھول جاتے ہیں۔ اسرائیل کی کھلی جارحیت پر بھی وہ یا تو خاموش تماشائی ہیں یا اسے ”حقِ دفاع“ کا ” لائسنس “ دیئے اس مجرمانہ عمل میں شامل ہیں۔
جبکہ دوسری طرف مسلمان دنیا کی مجرمانہ خاموشی یا بے بسی اس مسئلے کا ایک اور انتہائی افسوس ناک پہلو ہے۔دنیا میں اس وقت پچاس سے زائد وسائل سے مالا مال مسلمان ممالک موجود ہیں جن کے پاس تیل کی دولت سے لے کر فوجی طاقت تک موجود ہے ۔او۔آئی ۔سی کی صورت اجتماع کا ایک پلیٹ فارم موجود ہے مگر عملاً مختلف گروہوں ، اختلافات اور مفادات کا شکار منقسم مسلم دنیا کی مو¿ثر آواز کہیں موجود نہیں۔پاکستان، ایران، ترکی، قطر یا چند دیگر مسلم ممالک کی بیاناتی، سفارتی اور اخلاقی حمایت کو چھوڑ کر کوئی بھی ایسی اجتماعی تحریک نظر نہیں آتی جو فلسطین کے لیے عملی آواز بنے اور دنیا کے ساتھ مل کر اسرائیل کے مظالم روکے۔۔۔!
ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا غزہ کے مظلوم مسلمانوں اورقبلہ اول کے لیے محض پریس کانفرنسیں اور قراردادیں ہی کافی ہیں۔۔؟ کیا ان سے درد ، بھوک ، پیاس ، رنج اور غم میں مبتلا ”اہل ِ غزہ “ کے درد کا درمان ہو جائے گا۔۔امتِ مسلمہ کا اتحاد کہاں ہے۔۔؟ اسلامی تعاون کی تنظیم (OIC) کب تک محض کاغذی ادارہ بنی رہے گی۔۔۔؟ کیا مسلم دنیا کے حکمرانوں نے مسئلہ فلسطین کو اپنی کرسی کی قیمت پر فروخت کر دیا ہے۔۔؟ کیا وقتی دنیاوی مفادات نے سب کو اپنے فرائض کی ادائیگی ، اللہ کے خوف اور آخرت کی ہمیشہ ہمیشہ کی زندگی کو یکسر فراموش کر دیا ہے ۔۔۔!
اس کے ساتھ ساتھ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ غزہ ”مزاحمت “ کا استعارہ بن چکا ہے مگر کب تک۔۔؟ فلسطینی عوام، خصوصاً غزہ کے نوجوان، ایک ایسی نسل بن چکے ہیں جنہوں نے ہوش سنبھالنے سے پہلے جنگ دیکھی، موت دیکھی، لاشیں اٹھائیں، املاک کی تباہی دیکھی ،بارود کے دھویں اور مسلسل بے یقینی میں پروان چڑھے ۔ اس کے باوجود وہ مزاحمت کر رہے ہیں، سینہ تان کر دشمن کے مقابل کھڑے ہیں۔۔لیکن کب تک۔۔؟ آخر کب تک وہ خالی ہاتھ پتھروں اور لاٹھیوں سے، جدید اسلحے سے لیس اور اخلاقیات سے عاری ایک استعماری ریاست سے لڑتے ، مزاحمت کرتے اور اس کا مقابلہ کرتے رہیں گے۔
آج عالمی عدالت انصاف، اقوامِ متحدہ اورانسانی حقوق کی تنظیموں سمیت سبھی خاموش ہیں۔ گاہے گاہے ، دنیا میںکہیں فلسطینی مسلمانوں کے حق میں کچھ مظاہرے ہوتے ہیں اور سوشل میڈیا پر چند آوازیں ابھرتی ہیں، لیکن وہ بھی دبادی جاتی ہیں۔یہ کیسا عالمی نظام ہے جہاں انصاف صرف طاقتور کے لیے ہے۔۔؟ یہ کیسی تہذیب ہے جو انسانیت کو رنگ، نسل اور مذہب کے پیمانوں میں تول رہی ہے۔۔۔؟انسانیت کہاں ہے۔۔؟یہ کالم محض ایک تجزیہ نہیں، بلکہ ایک پکار ہے ، ایک فریاد ہے ان لوگوں کے لیے جن کے پاس اسرائیل کا ہاتھ روکنے کی طاقت اوروسائل موجود اوران کے ضمیرزندہ ہیں۔ غزہ جل رہا ہے، اسرائیل طاقت کے نشے میں اندھا ہوچکا ہے جبکہ دنیا ہنوزخاموش تماشائی ہے۔اگر آج ہم خاموش رہے۔۔ آج ہم نے ظالم کو ظالم نہ کہا۔۔اس کا ہاتھ نہ روکا تو کل ہم خود ظالموں کی صف میں شمار ہوں گے تب ہماری چیخیں اور آہ و بکا بھی کوئی نہ سنے گا۔۔وقت کا پہیہ گردش میں ہے، نظام قدرت حرکت میں ہے ، سدا یہ حالات نہیں رہیں گے۔اہل فلسطین کے لیے امن ، چین ، استحکام اور بقا کا سورج ضرور طلوع ہو گا۔۔ایک بار پھر سے غزہ میں معصوم بچوں کی قلقاریاں گونجیں گی مگر تاریخ آج کے مسلمانوں ، مقتدر حلقوں اورحکمرانوںکو کس طرح یاد کرے گی، یہ سمجھنے ، سوچنے اوریاد رکھنے والی بات ہے۔۔۔!