امریکہ آج کل پاکستان پر کچھ زیادہ ہی مہربان ہے بدلے میں پاکستان بھی ٹرمپ کے صدقے واری جا رہا ہے یہ بھول کر کہ پولیس والوں کی طرح اس کی دوستی اچھی نہ دشمنی؟ٹرمپ بھارت مخالف اقدامات سے اسلام آباد کو خوش کر رہا ہے صرف اپنا الو سیدھا کر رہا ہے کیونکہ بھارت کا جھکاﺅآج کل روس کی طرف کچھ زیادہ ہی ہے اسی لئے دباﺅ ڈال کرامریکہ بھارت پر زیادہ ٹیرف لگائے گا پاکستان کے ساتھ پیار کی پینگیں بھی اسی لئے بڑھائی جا رہی ہیں کہ مودی پاکستان دشمنی میں صر ف امریکہ کے سامنے جی جی کرے امریکہ جتنا پاکستان کے قریب ہو گا اتنا ہی مودی ٹرمپ کے چرنوں میں بیٹھے گا اورٹرمپ اسی کمزوری کو پکڑ کر روز مودی کو تڑیاں لگا رہا ہے جبکہ پاکستان چین کو بھی پس پشت ڈال کر امریکہ پر لٹوہورہا ہے یہ بھول کر کہ امریکہ کسی کا دوست نہیں جسے امریکہ نے دوست بنایاوہ ذلیل وخوار ہوا عراق ہو یا کویت مصر ہولیبیا ان ممالک کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں کبھی یہ بھی امریکہ کے رائٹ ہینڈ تھے امریکہ کی بے رخی اورمفاد پرستی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں جس کا برملا اظہار وزیر دفاع خواجہ آصف بھی کر چکے ہیں۔ وفاقی وزیر کا کہنا ہے کہ ہر بار جب بھی امریکی یہاں آئے خطے کا جغرافیہ تبدیل ہو کر رہ گیا وزیر دفاع نے خبردار کیا کہ پاکستان کو بہت محتاط رہنا ہوگا ہم ابھی تک افغانستان میں مداخلت کی قیمت ادا کر رہے ہیںامریکا پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کوششوں پر مایوس ہے جو کہ غیر منصفانہ سوچ ہے کیونکہ دہشت گردی کی جنگ میں ہم نے بہت نقصان اٹھایا ہے عام عوام سمیت ہمارے فوجی جوانوں کی شہادتیں ہو ئیں ہو بھی رہی ہیںیوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ ہر بار پرائی جنگ میں کود کر ملک اور قوم کا نقصان کیا۔ ہماری قربانیوں کے باوجود امریکی اب بھی پاکستان پر اعتبار نہیں کر رہے، جو افسوسناک ہے۔ روس اور چین خطے کی دو بڑی طاقتیں ہیں ہمیں خطے کے مسائل کا حل باہر جا کر نہیں بلکہ اندر رہ کر تلاش کرنا چاہئے۔ امریکہ میلوں دور بیٹھ کرخطے پر چوہدراہٹ قائم کرنا چاہتا ہے اس لئے ہمیں اپنے مفاد کو مد نظر رکھ کرچین اور روس کی طرف زیادہ دوستی کا ہاتھ بڑھانا چا ہےے روس پابندیوں کے باوجود اقتصادی طور پر ابھر رہا ہے،اس خطے میں ہونے کے باعث پاکستان کو روس سے بہتر تعلقات قائم کرنے چاہئے ٹرمپ کسی خاص مقصد کے تحت بھارت کو روس سے مسلسل فوجی سازو سامان اورتیل خریداری پر جرمانہ کی دھمکیاں دے رہا ہے دوسری جانب پاکستان کے ساتھ تیل کی تلاش کے مشترکہ منصوبے شروع کرنے کابھی اعلان کیا ہے جس سے مبصرین حیران اور پریشان ہیں کہ اتنی مہربانی کس ایجنڈے کا حصہ ہے امریکہ نے کبھی گھاٹے کا سودا نہیں کیا وہ کسی کوٹھکانے لگانے کےلئے اپنے بندے مروانے سے بھی گریز نہیں کرتا اپنی سیکولر اور لبرل اقدار کو پوری دنیا پر رائج اور دنیا کے مختلف خطوں میں اپنے مفادات کو حاصل کرتا رہے گا چین تقریباً 40 سال پہلے ہی اس نتیجے پر پہنچ گیا تھا کہ امریکہ کا مقابلہ کرنے کے لیے معاشی طور پر مضبوط ہونا ہو گا، اسی طرح روسیوں نے بھی اپنے فوجی اختیارات کے ساتھ اپنی عسکری صلاحیتوں کی بنیاد پر امریکہ کے یکطرفہ تسلط کے خلاف محاذ تشکیل دیا، آج عرب ممالک کو سمجھ آ گئی ہے امریکہ قابل بھروسہ نہیں لیکن وہ اب بھی کبوتر کی طرح آنکھیں بند کےے ہو ئے ہیں، آج کئی ممالک نے امریکی بالادستی کو پاﺅں تلے روند ڈالا ہے جس میں چین ،کوریا وغیرہ شامل ہیں ، دنیا کو ڈالر کی بالادستی ختم کرنے کی کوشش کرنا ہو گی کیونکہ حکومت کوئی بھی ہو امریکہ دنیا پر اپنا تسلط قائم رکھنے کےلئے منافقانہ
پالیسی اپناتا ہے، امریکہ سے عالمی معاہدوں پر قائم رہنے کی توقع نہیں رکھی جا سکتی۔ انسان دشمن سامراجی پالیسیوں کی بدولت امریکہ کواقوام عالم میں اچھی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا،دنیا بھر کے انسان دوست عوام امریکی انسان دشمن ظالمانہ اقدامات سے نفرت کرتے ہیں ، امریکہ نے پاکستان اور عالم اسلام کو ہمیشہ نقصان پہنچایا ہے اور وہ کبھی پاکستان کا قابل اعتماد دوست نہیں رہا، پاکستان میں دہشت گردی سامراجی ممالک کا دیا ہوا تحفہ ہے، ٹرمپ کی اسلام دشمنی کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں ، فلسطینی مسلمانوں کے قتل عام میں امریکہ براہ راست ملوث ہے، امریکی دوستی نے ہمیشہ پاکستان کو بحرانوں میں دھکیلا ،ہمارے حکمرانوں کو چاہئے کہ وہ امریکہ پر اندھا اعتماد کرنے کے بجائے عوام کو امریکی غلامی سے نجات دلائیں کیونکہ امریکا کے قول و فعل میں تضاد ہے،اس میں کوئی شک نہیں کہ خطے میں امریکا بد امنی پھلا رہا ہے، ہمیں امریکہ کی نوازشوں سے ہوشیار رہنا ہو گا نہ اس کی دشمنی اچھی نہ دوستی ہمیں آج بھی یاد ہے کہ ساتواں بحری بیڑا آج تک نہیں پہنچا امریکہ کسی خاص مقصد کےلئے بھارت کو نیچا دکھا رہا ہے نہیں یقین تو آنے والے وقت کا انتظارکیجیے کیونکہ آئینہ کبھی جھوٹ نہیں بولتا؟