ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی مسلط کردہ بلاجواز وحشیانہ جنگ کو ایک ماہ سے زائد ہو چکا ہے۔ ایسے میں ایرانی قیادت سے لے کر سکول، کتب خانے، ہسپتال، ایرانی عوام کے گھروں اور پانی و بجلی کی ترسیلات پر امریکی، اسرائیلی بمباری کے باوجود ایران کی سیاسی و عسکری قیادت اور عوام ڈٹ کر کھڑے ہیں۔ ایرانی قوم نے موت کا خوف بھلا کر اپنے سے ہزار گنا بڑے سامراج کے سامنے گھٹنے ٹیکنے سے انکار کر دیا ہے۔ حالانکہ دنیا کی سب سے طاقتور فوجی قوت کے سامنے ڈٹتے ہوئے اپنے تئیں بڑی مضبوط فوج کی بھی ٹانگیں کانپ جاتی ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی وحشت اور بوکھلاہٹ ہر آئے روز بڑھتی جا رہی ہے۔ ایرانی قیادت کی مزاحمت اور نہ جھکنے کے عزم کی وجہ سے ٹرمپ باقاعدہ گالی گلوچ پر اتر آیا ہے۔ امریکہ جیسی سامراجی طاقت نے اپنی پوری تاریخ میں خود ایسا صدر نہیں دیکھا جو تمام تر سفارتی اور اخلاقی حدیں پھلانگ کر برسرِ عام ہی گالی گلوچ پر اتر آئے۔ بین الاقوامی لیڈرز، محققین، سفارت کاروں اور میڈیا تجزیہ کاروں کے مطابق یہ امریکی داخلی نظام کی گراوٹ کی آخری حد ہے، جہاں ایسا شخص امریکی صدر ہے جو انتہائی بد لحاظ، بد زبان، دھوکے باز اور ڈفر ہے، جس نے اپنے ہر قول کی اپنے عمل سے تردید کی ہے۔ امریکی عوام سے معاشی خوشحالی اور دنیا سے جنگیں ختم کرنے کے تمام وعدوں کے برعکس اپنی قوم کو دھوکا دیا ہے۔وینزویلا، گرین لینڈ اور ایران پر امریکی حملے دراصل وہ قول و فعل کا تضاد ہیں جو امریکی صدر ٹرمپ کی مسلسل بیان بازیوں کے خلاف ہیں۔ یورپی، ایشیائی، افریقی اور لاطینی امریکہ کے حکمرانوں اور عوام کی مسلسل زبانی تذلیل کرنے پر دنیا بھر کے سنجیدہ طبقات اس امر پر متفق ہیں کہ یہ ایک جھوٹا اور ناقابلِ اعتبار شخص ہے۔ لیکن دنیا میں اس وقت جو کچھ بھی ہو رہا ہے، کیا وہ کسی ایک شخص کے تابع ہے؟ یا اس کے پیچھے انسانی استحصال اور لوٹ مار کے نظریے پر مبنی وہ سامراجی سرمایہ دارانہ نظام ہے، جس کی روح برطانوی سامراج کے جسم سے نکل کر امریکی سامراج کے جسم میں سما چکی ہے۔
امریکہ کی دنیا کے سٹیج پر انٹری اس قدر خوفناک ہے کہ آج بھی ہیروشیما اور ناگاساکی پر گرائے گئے ایٹم بموں کے نتیجے میں انسانیت کے زخموں سے خون ٹپک رہا ہے۔ حال ہی میں کس قدر بے شرمی سے ڈونلڈ ٹرمپ نے جاپان پر گرائے گئے ایٹم بموں کا فخر سے تذکرہ کیا۔ اس سے زیادہ تذلیلِ انسانیت اور کیا ہو گی؟ سرد جنگ میں لاکھوں انسانوں کے قتل اور روس کے تحلیل ہونے کے بعد امریکہ نے سکھ کا سانس لیا تھا کہ اب وہ تنہا دنیا کی تھانیداری کا دعوے دار ہو گا، دنیا میں اپنا ورلڈ آرڈر، سیاست، معیشت اور تجارت مسلط رکھے گا اور کوئی اسے چیلنج نہیں کر سکے گا۔اس ضمن میں اس کے تین بنیادی اہداف تھے: دنیا پر سیاسی تسلط، یورپ کو مطیع رکھنے کے لیے نیٹو کو برقرار رکھنا، اور تیسرا امریکی اور مغربی اسلحے کی صنعتوں کو بند ہونے سے بچانا۔ 1991 میں کویت کو آزاد کرانے کے لیے عراق پر حملہ کیا گیا۔ اس جنگ کو ڈیزرٹ سٹارم کا نام دیا گیا۔ اس جنگ پر 60 ارب ڈالر لاگت آئی، جس میں 36 ارب ڈالر سعودی عرب نے ادا کیے۔ نیٹو افواج کے لیے بوسنیا کا محاذ کھولا گیا۔ اسی طرز پر امریکہ نے نائن الیون کا ڈرامہ رچا کر افغانستان میں اسامہ بن لادن کی تلاش اور عراق میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی تلاش (جو کہ بعد ازاں ٹونی بلیئر کے اعترافی بیان کے ساتھ غلط ثابت ہوا) میں طویل جنگیں مسلط کیں۔ ان جنگوں میں بھی یورپ اور خلیجی ممالک کا مالی تعاون حاصل تھا، جس کے ذریعے امریکی جنگی صنعت کو آباد رکھا گیا۔ان طویل جنگوں کے بوجھ نے خود امریکی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا۔ امریکہ کی ٹرپل اے معاشی ریٹنگ گر گئی۔ دنیا کا اکنامک ہارٹ لینڈ مغرب سے سلپ ہو کر ایشیا کی طرف منتقل ہونا شروع ہو گیا۔ جس دوران امریکہ اپنی جنگی صنعت کے پھیلا¶ اور دنیا کے وسائل لوٹنے کے لیے جنگی محاذ کھول رہا تھا، اس دوران چین کی انقلابی قیادت نے نہایت خاموش معاشی ڈریگن کی طرح اپنی مصنوعات کے ذریعے ایشیا، افریقہ، یورپ اور خود امریکی منڈیوں پر قبضہ جما لیا۔
گرتی معیشت اور طویل جنگوں میں تباہ ہوتی ساکھ کے ساتھ امریکہ کو شدید احساس ہوا کہ چین اسے معاشی، صنعتی، زرعی، ٹیکنالوجیکل اور عسکری طاقت سمیت ہر میدان میں پچھاڑ رہا ہے۔ امریکہ اپنی جنگی حکمت عملی کی وجہ سے اس قابل نہیں رہا تھا کہ چین کا مقابلہ کر سکے۔ لہٰذا اس نے چین کو گھیرنے کے لیے جنگی سٹریٹجی از سرِ نو ترتیب دی ہے اور اس کو مغرب سے مشرق اور ایشیا پیسفک ریجن سینٹرک بنا دیا ہے۔ امریکہ نے اس کو ری بیلینسنگ کا نام دیا ہے، جس میں جاپان کی حوصلہ افزائی، مشرقی چینی سمندری متنازع جزائر میں چین کو الجھانا، سمندری راستوں سے چینی تجارت پر اثر انداز ہونا، آبنائے ملاکا، بحرِ ہند میں موجود ڈیگو گارشیا پر عسکری اڈے، خلیج فارس میں آبنائے ہرمز کے نزدیک امریکی موجودگی اور افغانستان میں امریکی اڈے شامل ہیں۔یہاں تک امریکہ نے اپنے پورے پلان کو روبہ عمل لانے کی بھرپور کوشش کی، لیکن افغانستان سے شرمناک پسپائی (بگرام ایئر بیس کا تقاضا اب بھی موجود ہے) اور چین کے مشرق میں سمندری جزائر پر چین کی دوٹوک حکمت عملی کے بعد امریکہ نے لاطینی امریکہ اور خلیج سے چینی سپلائی لائن کاٹنے اور خطے کو عدم استحکام میں دھکیلنے کے لیے ایران کے خلاف اصول و قواعد اور عالمی قوانین سے متصادم ایک بے رحم جنگ مسلط کی ہے۔
امریکہ کا یہ اندازہ تھا کہ خلیجی ممالک بشمول سعودی عرب امریکی مطیع و فرمانبردار ہیں۔ ایران کا کانٹا نکال کر یہ خطہ چھوٹے تھانیدار اسرائیل کے حوالے کیا جائے گا، جو گریٹر اسرائیل اور ابراہام اکارڈ کے ذریعے خطے میں امریکی مفادات کا تحفظ کرے گا۔ لیکن ایرانی انقلابی جماعت اور 48 برس میں تیار کی گئی قوم نے اس جنگ کے تمام اندازے غلط ثابت کر دئیے ہیں۔ اب ٹرمپ جنگ بندی کے لیے گھگھیا رہا ہے، اپنی شیطانی دھمکیوں کے ذریعے بنا مانگے وقت دے رہا ہے۔تمام ثالث یاد رکھیں، اب جنگ ایرانی و چینی شرائط پر ختم ہو گی۔ جنگ کے بعد اس خطے کی نئی سیاسی و معاشی تزویراتی شکل سامنے آئے گی۔ اس لیے خطے میں موجود ہر ملک کو امریکی اثر سے نکل کر سوچ سمجھ کر فیصلے کرنے چاہئیں۔