Wed, September 16, 2026

پاکستان کے تجارتی خسارے میں 45.8 فیصد اضافہ، 3.34 ارب ڈالر تک پہنچنے پر ایس ایم تنویر کی تشویش

پاکستان کے تجارتی خسارے میں 45.8 فیصد اضافہ، 3.34 ارب ڈالر تک پہنچنے پر ایس ایم تنویر کی تشویش


لاہور: ستمبر 2025 کے تجارتی اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کا تجارتی خسارہ سالانہ بنیادوں پر 45.8 فیصد اضافے کے ساتھ 3.34 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جس پر ایف پی سی سی آئی کے رہنما  ایس۔ ایم۔ تنویر نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ایس ایم  تنویر نے بتایا کہ برآمدات میں 11.7 فیصد کمی اور درآمدات میں 14 فیصد اضافہ معیشت میں ایک سنگین ساختی عدم توازن کی علامت ہے، جس کی وجہ سے ملکی اقتصادی صورتحال متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف مالی سال 2026 کی پہلی سہ ماہی میں تجارتی خسارہ 9.37 ارب ڈالر تک جا پہنچا ہے، جو گزشتہ سال کی اسی مدت سے 32.9 فیصد زیادہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلند شرح سود اور توانائی کے بڑھتے ہوئے نرخوں نے برآمدات کی مسابقت کو نقصان پہنچایا ہے اور درآمدی انحصار بڑھ رہا ہے، جس سے ملکی صنعتیں متاثر ہو رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو برآمدات کے فروغ کے لیے فوری اقدامات کرنا ہوں گے، جن میں مالیاتی آسانیاں، توانائی کے نرخوں میں کمی اور صنعتی شعبوں کی ترقی شامل ہے۔

مزید برآں، ایس ایم  تنویر نے برآمداتی شعبوں کی تنوع بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ حکومت کو نئی صنعتوں جیسے آئی ٹی، انجینئرنگ مصنوعات اور زرعی پروسیسنگ پر توجہ دینی چاہیے تاکہ معیشت مستحکم ہو سکے۔

انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ بیرونی مالیاتی بحران سے بچاؤ کے لیے ایکسپورٹ ایمرجنسی راؤنڈ ٹیبل بلایا جائے اور ایک موثر تجارتی پالیسی مرتب کی جائے تاکہ تجارتی خسارے کو کم کیا جا سکے۔