Wed, September 16, 2026

پاکستان میں پہلی بار بچوں کی ذیابیطس کے مفت علاج کی سہولت، 27 کلینکس قائم

پاکستان میں پہلی بار بچوں کی ذیابیطس کے مفت علاج کی سہولت، 27 کلینکس قائم

کراچی: پاکستان میں پہلی مرتبہ ٹائپ ون ذیابیطس میں مبتلا بچوں کے لیے مفت علاج کی سہولت فراہم کر دی گئی ہے، جس کے تحت کراچی سمیت ملک بھر میں 27 طبی مراکز قائم کیے جا چکے ہیں۔

طبی ماہرین کے مطابق، اس وقت پاکستان میں 24 ہزار سے زائد بچے اس مرض میں مبتلا ہیں، جن کی عمریں پیدائش سے لے کر جوانی تک ہیں۔ ان کلینکس میں مفت انسولین، گلوکومیٹر، ٹیسٹ اسٹرپس، نیڈلز اور دیگر ادویات فراہم کی جا رہی ہیں۔

یہ منصوبہ "چینجنگ ڈائبیٹیز اِن چلڈرن" پروگرام کا حصہ ہے، جو دنیا کے 32 ممالک میں کامیابی سے جاری ہے۔ پاکستان میں اس پروگرام کے تحت اب تک 3,300 بچوں کو رجسٹر کیا جا چکا ہے۔

انٹرنیشنل ڈائبیٹیز فیڈریشن کی نائب صدر، ارم غفور کے مطابق، 2025 تک مجموعی طور پر 40 کلینکس قائم کیے جائیں گے، جن میں سے 7 سندھ اور 9 پنجاب میں کام شروع کر چکے ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر متاثرہ بچوں کو بروقت انسولین نہ دی جائے تو ان کی جان خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ والدین کو چاہیے کہ اگر بچوں کو بار بار پیاس، قے، کمزوری، یا بار بار پیشاب آنے کی شکایت ہو تو فوری ڈاکٹر سے رجوع کریں، کیونکہ یہ علامات ٹائپ ون ذیابیطس کی نشاندہی کرتی ہیں۔

ارم غفور نے مشورہ دیا کہ بچوں کو بازاری کھانوں اور میٹھے مشروبات سے دور رکھیں اور گھر کا متوازن کھانا کھلائیں۔

یہ بھی قابل ذکر ہے کہ ارم غفور پہلی پاکستانی ہیں جنہیں انٹرنیشنل ڈائبیٹیز فیڈریشن کی نائب صدر ہونے کا اعزاز حاصل ہوا ہے۔

 
 

ٹیگز: