Wed, September 16, 2026

وزیراعلیٰ پنجاب کی قیادت میں سیلاب کے خطرات سے نمٹنے کے لیے ایک اہم اجلاس

وزیراعلیٰ پنجاب کی قیادت میں سیلاب کے خطرات سے نمٹنے کے لیے ایک اہم اجلاس

لاہور: پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے صوبے میں سیلاب کے خطرات سے نمٹنے کے لیے ایک اہم اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں متعلقہ محکموں نے تفصیلی بریفنگ دی اور متعدد اقدامات کی منظوری دی گئی۔

وزیراعلیٰ نے حکم دیا کہ تین ماہ کے اندر تمام فلڈ زونز خالی کرائے جائیں اور ان علاقوں میں نئی تعمیرات پر پابندی یقینی بنائی جائے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ سپریم کورٹ پہلے ہی فلڈ زونز میں تعمیرات پر پابندی کا فیصلہ دے چکی ہے۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پنجاب کے 17 مقامات پر چھوٹے ڈیم (منی ڈیم) بنائے جائیں، چنیوٹ میں بند کی تعمیر کے لیے اصولی منظوری دی گئی، اور کالا باغ اور سدھنائی کے مقامات پر موجود پانی کے ذخائر کی صلاحیت بڑھائی جائے گی۔ پانی کے بہاؤ کو قابو میں رکھنے کے لیے Inflatable ڈیم ٹیکنالوجی متعارف کرائی جائے گی۔

پی ڈی ایم اے پنجاب کو دوبارہ منظم کیا جائے گا اور 8 نئے ونگز قائم کیے جائیں گے۔ ریسکیو 1122 کو فلڈ آپریشن کے لیے جدید آلات فراہم کیے جائیں گے جن میں لینڈنگ کرافٹ، بوٹ کیریئر ٹرک، جدید نیویگیشن اور کمیونیکیشن سسٹمز، اور فلائنگ لائف بوائے جیکٹس شامل ہیں۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ پنجاب میں سیلاب سے متاثرہ سڑکوں اور پلوں کی بحالی کا کام جاری ہے، پانچ دریاؤں میں فلڈ رسک زونز کی تفصیل تیار کی گئی ہے، اور 183 آبپاشی منصوبے بھی جاری ہیں۔ 298 ڈرین اور نالوں کی صفائی اور 67 ڈرینج سسٹمز کی ڈی سیلٹنگ کی جائے گی۔

رواں سال معمول سے 28 فیصد زیادہ بارش کی پیشگوئی کی گئی ہے، جس کے پیش نظر صوبائی حکومت نے پیشگی اقدامات تیز کر دیے ہیں تاکہ سیلابی خطرات کو کم سے کم کیا جا سکے۔

ٹیگز: